Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مجلہ ادب لطیف کے نگارخانے میں

کئی روز سے آنکھوں میں پانی بھرے رہنے کے عارضے میں مبتلا ہوں ،سوچتا ہوں کاش چشم تر رہنے کا یہ عمل اس لئے کارفرما ہوتا کہ شہیدان کربلا کی یاد یا سوگ میں تر بہ تر رہتیں ، وہ جن کی قربانی کائنات کی ایسی قربانی ٹھہری کہ صدیاں بیت جانے کے باجود کوئی قربانی کی ایسی تاریخ رقم کرسکا نہ کوئی کرسکے گا۔
یوں تو 1935 ء میں برکت علی چوہدری کی زیر سرپرستی شائع ہونے والے ادبی مجلے ادب لطیف کاتسلسل ان کی بڑی صاحبزادی صدیقہ بیگم نے باقاعدگی سے قائم و دائم رکھنے اور اس کے ادبی معیار کی رفعت کو بالا ہی بالارکھنے میں کمال مہارت دکھائی،وہ خودادب کی کسی صنف کی مہارت کے حوالے سے شہرت نہیں رکھتیں مگر ایک ادب نواز شخصیت کے طورپراردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔ صدیقہ بیگم کے ارتحال(15دسمبر 2019ء )کے بعد مظہر سلیم مجوکہ نے نامساعد حالات میں جس طرح ادب لطیف کو سنبھالا اور شب وروز کی محنت و مشقت سے اس کی اشاعت کے تسلسل کوقائم و دائم رکھا یہ انہیں کے کمال ہنر کا کرشمہ ہے ۔
ہر دو ماہ بعد 300 صفحات سے ذیادہ صفحات پر مشتمل ادبی مجلے کو عمدہ ترین ادبی معیار کے شعری ، افسانوی اور تنقیدی مضامین سے سجا کرمعاشی بحران کے اس دور میں شاعروں ، ادیبوں اور نقادان ادب کی دہلیز تک پہنچاناکسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔
کالم کا ابتدائی پیرا دراصل شاخسانہ ہے تازے شمارے میں شامل محمد الیاس کے ایک خوبصورت افسانے اعتراف جرم کا جو اپنی نوعیت کا بے مثل افسانہ ہے ۔جس کا موضوع تو نیا نہیں ہے مگر جس مہارت سے کہانی بنی گئی ہے وہ ندرت کمال کا ایک نمونہ ہے ۔جسے اسد محمدخان کی ایک کہانی شہر کوفہ کا محض ایک آدمی کے روبرو بلاتردد رکھا جا سکتا ہے۔
مجلے میں شامل پروفیسر اسلم انصاری کے افسانوی مجموعہ شیشوں کی اوٹ میں جمیل احمد عدیل نے بھر پور جائزہ لکھا ہے ۔جمیل احمدعدیل بنیادی طور پر خود افسانہ نگار ہیں مگر انہوں نے افسانوں کی تنقید میں بہت بوجھل الفاظ اور جملے تحریر کئے جن کی وجہ ایک اچھا بھلا وقیع مضمون بھاری پتھر کی طرح دماغ سے ٹکرایا۔
ادب لطیف جنوری ، فروری 2024ء کے شمارے میں حمدو نعت ﷺ کے بعد تسنیم کوثر کا ملی گیت وطن سے محبت کا عمدہ نمونہ ہے ۔اٹھارہ بھر پور کہانیاں جن میں طارق محموداپنی کہانی حصار کی صورت بہت عرصہ بعدجلوہ گر نظرآئے ہیں،مجیب اوٹھوکی سندھی کہانی کا شاہد حنائی نے اردو ترجمہ کیا ہے۔شوکت شورو کی سندھی کہانی کو ننگر چنا اورزیب سندھی کی کہانی کو آکاش مغل نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔اس ایک شمارے میں تقریبا ًپچاس کے لگ بھگ غزلیں اور9 نظمیں ہیں ۔
پروفیسر اے بی اشرف جنہیں ایک ترک مہیلہ دولہا بناکر ترکی لے گئی ہیں ان کی کتاب ترکی میرا دوسرا وطن کامطالعہ جاوید اختر بھٹی کی طرف سے پیش کیا گیا ہے ۔اس کی علاوہ نقد ادب کے حوالے سے مسلم شمیم کا مضمون نظریات کا تصادم خالدعلوی کا مضمون اردو شاعری میں وقت کی صورت گری پروفیسر ڈاکٹرامجدعلی شاکرکا مضمون احمد مشتاق کی غزلاورمحمد شاہد حفیظ کا مضمون تانیثیت،تاریخ اور عالمی تناظر شامل ہے ۔یہ تو ذکر ہے سال 2024 ء کے پہلے دو ماہ یعنی جنوری اور فروری کا، جبکہ اس کے ساتھ ہی روں برس کے ماہ مارچ اور اپریل کا شمارہ جو320 صفحات پر مشتمل ہے ، اس کے بطن میں مظہر سلیم نے کیا کچھ سمویا ہے یہ ایک الگ کتھا ہے ۔جسے آئندہ اظہاریئے کے لئے رکھ چھوڑا ہے کہ ابھی ایک ہی شمارے کے ورق ورق پر جمے محبت وخلوص کے نقش و نگار کا حظ اٹھا پایا ہوں ۔ایک امر کا احساس جو ہر شمارے میں اظہار پایا جاتا ہے کہ ادبی مجلے انتہائی کسمپرسی کا شکار ہیں ، کاغذکی ہوش ربا گرانی و دیگر اخراجات میں بے پناہ اضافہ سدراہ ہے ، پھر بھی دیوانے اپنی شمع جلائے ہوئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں