اتوار کی شام گلشن اقبال کراچی میں نوجوانوں کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسار نے عرض کیا کہ ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کا تحفظ صحابہ کرام کا مشن ہے ’’عالمی اوباشوں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے جو شیطان ناموس رسالتﷺ کو نشانہ بنائیں گے‘‘ہم قانونی جدوجہد کے ذریعے انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچائیں گے (ان شا اللہ) موبائل’’فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کو ’’ملحدین‘‘ اور ان کے ایجنٹ ناموس رسالت ﷺ اور ناموس صحابہ پر حملوں کے لئے استعمال کررہے ہیں۔‘‘ پاکستان میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال اگر حدودو قیود اور اعتدال میں رہتا تو ممکن ہے کہ فائدہ مند ثابت ہوتا مگر سوشل میڈیا پر بے حیائی کے سمندر’’دوسروں کی اچھلتی پگڑیاں‘‘بے تحاشا الزام تراشیاں،گالم گلو چ کر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بعض ’’فیس بکی‘‘ بندروں نے ہاتھوں میں استرے پکڑ رکھے ہوں؟ موبائل اور سوشل میڈیا کے دیگر نقصانات بھی بہت ہوں گے،لیکن ہمارے نزدیک سوشل میڈیا کی یہودی سرزمین کا سب سے بڑا نقصان پاکستان میں تو ہین رسالتﷺ توہین صحابہ و اہل بیت،توہین مذہب اور توہین قرآن کی صورت میں سامنے آیا،عدالتوں میں گستاخان رسولﷺ کے خلاف مقدمات لڑنے والی تنظیم تحریک تحفظ ناموس رسالتﷺ پاکستان کے ذرائع کے مطابق گزشتہ تین چار سالوں کے دوران ایف آئی اے نے جن تین سو سے زائد گستاخان رسولﷺ کو گرفتار کیا وہ سب کے سب سوشل میڈیا کے ذریعے بدترین گستاخانہ مواد شیئر کرنے میں ملو ث رہے۔
تو ہین رسالتﷺ اور توہین صحابہؓ میں ملوث ان بدترین مجرموں سے تفتیش کے ذریعے ایک مشترک نکتہ جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ یہ سب ملعون پہلے ’’فحش مواد دیکھنے میں ملو ث ہوتے ہیں‘‘ ’’سوشل میڈیا‘‘کی یہودی دنیا کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ سوشل میڈیا پر جس چیز کو زیادہ سرچ کیا جائے۔ اسی نوعیت کی چیزیں بھی پھر خود سے ہی بار بار سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔اس خاکسار نے جامعہ کے معزز طلباء کے سامنے اپنے خطاب میں عرض کیا،گستاخیوں میں گرفتار تین سو سے زائد ملعونوں کے بیانات کے مطابق،فخش مواد دیکھتے دیکھتے کچھ عرصے بعد پھر خود بخود ان کے سامنے سوشل میڈیا پر اس فحش ویب سائیٹس اور وائس ایپ گروپس کے لنک آنے لگ جاتے کہ جس میں یہ دکھایا جاتا کہ ہمارے ریجن کے مرد و خواتین ’’محرم‘‘ رشتوں کے تقدس کو پامال کر رہے ہوتے ہیں،گرفتار ملعون گستاخوں کے بیانات کے مطابق یہ فخش مواد دیکھتے دیکھتے پھر یہ گستاخ ملعون بھی اپنے اپنے گھروں میں محرم رشتوں کی پامالی میں اپنا منہ کالا کرنا شروع کر دیتے،تیسرے مرحلے پر ان کے سامنے ایسی ویب سائیٹس اور واٹس ایپ گروپس کے لنکس آتے ہیں کہ جن میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مرد وخواتین اپنے برہنہ جسموں پر قرآن پاک،کلمہ طیبہ سمیت دیگر مقدس کلمات لکھ کر بد ترین توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔تحریک تحفظ ناموس رسالتﷺ کے ذرائع کے مطابق انہوں نے ایف آئی اے کے ہاتھوں ایسے ملعون گستاخوں کو بھی گرفتار کروایا کہ جو خواتین کی برہنہ تصویروں پر مقدس کلمات لکھ کر ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو نہ صرف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرتے ہیں بلکہ مقدس ترین ہستیوں کی عزت و ناموس پر اس انداز میں حملہ آور ہو جاتے ہیں کہ (الامان و الحفیظ) اس خاکسار نے عرض کیا،دینی بصیرت رکھنے والے بزرگ علماء،الیکٹرانک چینلز’’موبائل‘‘ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کو جو روز اول سے ہی ’’دجالی ہتھیار‘‘ قرار دیتے آرہے تھے۔ آج اپریل2024 ء کے جدید ترین دور میں وقت،حالات اور ثبوتوں کی روشنی میں یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ان اکابرین پر اللہ کا خاص کرم تھا کہ جنہوں نے دجالی ہتھیاروں کی نشاندہی ان کی پیدائش کے ساتھ ہی کر دی تھی ’’واقعی موبائل‘‘سوشل میڈیا اور الیکٹرانک چینلز نے عملی طور پر ثابت کر دکھایا کہ وہ دجالی ہتھیار ہیں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کا اس سے بڑھ کر کیا نقصان ہوسکتاہے کہ 75سالوں میں پہلی مرتبہ پاک سرزمین پر بھی گستاخ رسولﷺ پیدا ہونا شروع ہوگئے،یہاں گستاخان صحابہ و اہل بیت کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ستم در ستم کہ گرفتار شدہ تین سو سے زائد گستاخان رسولﷺ میں صرف چند غیر مسلم،باقی سب کا تعلق مسلمان گھرانوں کے ساتھ ہے،ان ملعون گستاخوں میں عورتیں بھی شامل ہیں اور مرد بھی،ان میں سیکولر’’لبرل‘‘ملحد گھرانوں کے وابستگان بھی ہیںاور مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بھی اور ظلم عظیم یہ بھی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایک اعلیٰ افسر کو دوران سماعت روسٹرم پر بلاکر پوچھا کہ ’’آپ کے خیال میں اس وقت تک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شیئر کرنے والے گستاخوں کی تعداد کتنی ہوگی؟ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اعلیٰ افسر نے عدالت کو جو جواب دیا وہ انتہائی خوفناک اور حساس تھا‘‘اعلیٰ افسر کے بقول اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا پر بدترین گستاخانہ مواد شیئر کرنے والے غلیظ گستاخوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، فاضل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے پوچھا کہ اس کا ذمہ دار کو ن ہے؟ اعلیٰ افسر کا جواب تھا ’’اسٹیٹ‘‘لیکن عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نہیں اس کا ذمہ دار ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ ہے کہ جو گستاخ مجرموں کو گرفتار نہیں کرتا۔کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے ملک میں جب سوشل میڈیا پر گستاخانہ بدترین مواد شیئر کرنے والے غلیظ مجرموں کی تعداد جب لاکھوں تک جاپہنچے تو پھر یہ بات تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے کہ موبائل اور سوشل میڈیا نے ینگ جنریشن کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا،کس قدر افسوسناک بات ہے کہ باپ لوئر دیئر کی تبلیغی جماعت کا امیر اور بیٹا پشاور انسداد دہشت گردی کی عدالت سے توہین رسالتﷺ اور توہین صحابہ کے جرم میں سزائے موت پاچکا۔مردان سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان میں تفسیر قرآن لکھنے والی نامور شخصیت کا پوتا توہین رسالت ﷺ کے جرم میں پشاور جیل میں سزا بھگت رہا ہے۔مجھے ان والدین پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ جو اپنی اولاد کو مہنگے موبائل خرید کر دیتے ہیں لیکن پھر اس سے تحقیق کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ آخر ان کا بیٹا موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیا کیا کرتوت کررہا ہے،اس خاکسار نے صاحب بصیرت طلبا ء سے گزارش کی کہ وہ اپنے خاندانوں اور عوام کو موبائل اور سوشل میڈیا کے اس عظیم نقصان سے پوری طرح آگاہ کریں۔ پاک سرزمین پر توہین رسالتﷺ’ توہین صحابہ و اہل بیت اور توہین امہات المومین کرنے والے غلاظت کے کیڑے مکوڑوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اگر پوری طرح متحرک ہو جائے اور عدلیہ انہیں جلد سے جلد کڑی سزائیں سناکران پر فوری عملدرآمد ممکن بنائے تو توہین رسالتﷺ اور توہین صحابہ و اہل بیت ،کے بدترین فتنے کو کچلا جاسکتا ہے۔