مولانا عبداللہ درخواستی رحمہ اللہ مسلک دیو بند کے جید عالم تھے اور امام اہل سنت کہلاتے تھے ۔مولانا نوراللہ مرقدہ کا شمار عالم اسلام کے نامور حفاظ حدیث میں ہوتا تھا ۔ایک روایت کے مطابق ان کا سینہ چالیس ہزار احادیث سے مزین تھا جو انہیں زبانی از بر تھیں پاکستان کی سیاست میں بھی ان کا اہم کردار تھا ۔آپ مذہبی سیاسی جماعت جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ اور قائد رہے۔ آپ کا ایک خاص موضوع تھا ۔جس کے حق میں دلائل وبراہین کے انبار لگادیتے تھے ۔اپنے خطاب دلپزیر کے دوران ان کے سامنے اور یمین و یسار میں کتب کے ڈھیر لگے ہوتے تھے جن کے صفحات کے حوالہ جات سے وہ اپنی گفتگو کا خمیر اٹھاتے تھے اور اس قدر پر تیقن لہجہ ہوتا کہ کسی کو ان کی بات کو غلط ثابت کرنے کا یارا نہیں ہوتا تھا اور قرآنی آیات و احادیث سے مزین اپنے ہر خطاب سے پہلے یا آخر میں یہ جملہ ضرور عطا فرماتے کہ بڑوں کی موت نے ہمیں بڑا بنادیا یہ جملہ بچپن سے لے کر جوانی تک سینکڑوں بار سنا مگر کبھی غور نہیں کیا تھا۔
آج جب ایک اینکر نے مونا فضل الرحمن کے بارے بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ مولانا بڑے باپ کے بیٹے ہیں ۔دیکھیں حالات کے حوالے سے وہ کیابڑا فیصلہ کرتے ہیں؟تو مجھ پر حضرت درخواستی رحمہ اللہ کے اس جملے نے معانی کے دروبست وا کردیئے ۔اس میں کچھ مبالغہ نہیں کہ بڑے باپ کا بیٹا بھی بڑا ہے ۔علم و عمل میں بھی بڑا، حکمت و دانش میں بھی بر تر ، سیاسی تدبر و شعور میں بھی یکتا۔ہاں مگر چھوٹی عمر میں قیادت و سیادت کا بوجھ کندھوں پر اٹھا لینے کی وجہ سے تملق پسند لوگوں نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔پس میزان کے پلڑوں کاتوازن کچھ ناروا سا ہوگیا ۔ مراعات کے خیرہ کن ماحول میں استفادے کی خواہش سے دامن بچا نہ رہ سکا۔ناموافق حالات میں مجبوریوں نے نامناسب کو حرزجاں بنانے پر آمادہ کیا۔یوں کبھی کبھی آلودہ فضا میں باد سنج میں بھی مبتلا ہوئے توصاف لگاکہ باد خواں کی اثر پذیری کاشاخسانہ ہے ۔ان دنوں پھر ان کے سیاسی فیصلوں کی رونمائی و چہرہ کشائی کاچرچہ عام ہے ۔
9مئی کے حوالے سے مولانا کے ہوش ربا انکشافات ، پی ڈی ایم کی صف بندی ، اس کے سولہ ماہ کے دور اقتدار کی چیرہ دستیوں کی اندرونی کہانیاں ، مقتدرہ کے کارسازوں کی کرشمہ سازیاں اور کاسہ لیسیاں ۔یہ سب موضوعات ہیں جن پر بے لاگ صورت رطب باللسان ہونگے۔ یاران سر پل کا دعوی ہے کہ مولانا کی طرف سے بغاوت کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے کے امکانات ہیں ۔بول بالا یہ بھی ہے کہ حضرت والا اقتدار کے ایونوں میں پرورش و پرداخت پانے والی سازشوں کا تفصیلی تذکرہ فرمائیں گے اور بعض بڑے بڑے ناموں پرسے پردہ ہٹائیں گے۔ملکی معیشت کی کشتی کے ڈوبنے کے ذمہ دار افراد کی کارستانیوں کو طشت ازبام فرمائیں گے۔پی ڈی ایم کے بیانیئے افادیت یا غیر موزونیت کا پردہ چاک کریں گے ۔ وہ لوگ جنہوں نے جمہوریت کے چہرے کو داغدار کیا ان کے مکروہ کھیل کی بساط کے پیادوں کی چالوں کو قوم کے روبرو پیش کریں گے۔ اپنے سینے کو ان رازوں سے آزاد فرمائیں گے جو ان کے ضمیر کے لئے ہی نہیں ان کے سیاسی قدو قامت کو پست کرنے کی وجہ بنتے رہے ہیں ۔
ان امور بارے خبریں گردش میں ہیں ، سرفہرست یہ کہ مولانا کو اس بغاوت کے لئے ایک خاص سیاسی گروہ کی حمایت حاصل ہے اور کہ یہ موجودہ حکومت جو ریگ پر ایستادہ ہے اسے گرانے، اور جنہوں نے واضح مینڈیٹ لیا انہیں ان کی امانت لوٹانے کے لئے یہ سب منصوبہ سازی کی گئی ہے جس کے نتائج منفی یا مثبت کچھ بھی منصہ شہود پر آسکتے ہیں ۔اب اس ساری کتھا گتھ سے مولانا کو کیا حاصل ہوتا ہے اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔9 مئی دور نہیں نہ ہی حالات کی سنگینی میں یہ سب خارج از امکان ہے ۔!
حضرت شورش کاشمیری کا ایک اقتباس یاد آگیا ۔فرماتے ہیں انسانی زندگی محض انفرادی نہیں اجتماعی ہے ۔اس اجتماعی زندگی ہی سے انفرادی زندگی ابھرتی اور بلوغت کو پہنچ کراپنا جاوداں نقش پیدا کرتی ہے ۔جن اقوام نے اپنے افرادکی دماغی ریاضتوں سے ثریا کی رفعتیں حاصل کی ہیں وہ جادو ٹونا یا چھومنتر کا کرشمہ نہیں ، بلکہ لگاتارذہنی ریاضت کا ثمر ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مولانا کی طویل سیاسی ریاضتوں کے پیچھے بڑے بڑے اکابر کی سوچ ان کے جاودانی علم و عمل کی برکتوں کا دیر پا سلسلہ ہے ۔ان کے بول چال اور چال ڈھال میں ایک متانت و سنجیدگی اور تمکنت ہے جو ان کے سیاسی کردار کو پروقار بنائے ہوئے ہے ۔یہ سب عبقریت جو ان کی سوچ اور لب و لہجے میں کھنکتی ہے بجائے خود ایک رفعت مکانی کی پیش خیمہ ہے۔وہ ایک صالح دماغ سیاسی عبقری ہیں جنہیں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے معیار کو مدنظر رکھنا ہے، کہیں بھی یہ تاثر عیاں نہ ہونے پائے کہ کسی نے مولانا کے کندھے پر بندوق رکھ کر نشانہ لیا ہے ۔ انہیں سیاسی ضرورت و مصلحت کے لئے نہیں بلکہ تاریخ میں زندہ و تابندہ رہنے کے کرنا ہے جو کچھ بھی کرنا ہے ، کہ اب کی بار ان کی قربانی بہت بھاری ہے جو انہوں نے دی۔