Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت کی چند یادیں

میری یادداشتوں کے حوالے سے ایک شعبہ تحریک ختم نبوت کا بھی ہے۔ ختم نبوت کی تحریک میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا رہا ہوں۔ قادیانیوں کو پاکستان بننے کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک تحریک ۱۹۵۳ء میں چلی تھی۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی، مگر اس دور کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں۔ ہم چھوٹے چھوٹے بچے گلیوں میں ٹولیوں کی شکل میں نعرے لگایا کرتے تھے جو ٹھیٹھ پنجابی کے ہوتے تھے۔ ہم یہ نعرہ بھی لگایا کرتے تھے: خواجہ ناجا ہائے ہائے۔ خواجہ ناظم الدین کا دور تھا، ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا کہ ہم کیوں نعرے لگا رہے ہیں، لیکن یہ میری تحریک ختم نبوت میں پہلی شمولیت ہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی گرفتاری کا منظر مجھے یاد ہے، صبح حضرت والد محترمؒ نے مسجد میں نماز پڑھائی، درس دیا اور گھر آکر ناشتہ کیا، اس دن گھر میں حلوہ پکا تھا، پھر بستر باندھا اور پولیس چوکی میں جا کر گرفتاری کے لیے خود کو پیش کرنے کی تیاری کی۔ ایک طالب علم جن کا نام شاید عزیز الرحمٰن تھا، اب فوت ہو چکے ہیں، انہوں نے والد صاحبؒ کا سامان اور بستر اٹھایا اور حضرت والد محترمؒ گھر کی سیڑھیاں اترنے لگے۔ ان کا سیڑھیوں سے اترنے کا منظر ابھی تک میرے حافظے میں نقش ہے۔ وہ ملتان کی بورسٹل جیل میں تقریباً دس ماہ رہے۔
والد صاحبؒ کی جیل سے واپسی کا منظر بھی مجھے یاد ہے۔ ایک بزرگ جن کے خاندان کا ہمارے خاندان کے ساتھ گہرا تعلق تھا، حاجی اقبال صاحب تھے، اس زمانے میں محمد یعقوب کے نام سے معروف تھے وہ دوڑے دوڑے آئے اور بتایا کہ مولوی صاحب رہا ہو کر آگئے ہیں، ہم بچے دوڑے دوڑے سڑک کی طرف بھاگے اور راستہ میں حضرت والد صاحبؒ سے ملے۔
تحریک ختم نبوت میں میرا دوسرا مرحلہ وہ ہے جب میں نے بچپن میں ہی قادیانیت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف تقریر کرنا شروع کر دی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہمارے استاد محترم قاری محمد انور صاحب کے دل میں اللہ پاک نے یہ بات ڈالی تھی اور ان کا ذوق یہ تھا کہ کچھ باتیں یاد کرا کے مجھ سے کلاس میں تقریر کروایا کرتے۔ آپؒ گکھڑ میں ہر سال جلسہ کرایا کرتے تھے اور اس میں اپنے استاد محترم حضرت مولانا قاری سید محمد حسن شاہ صاحبؒ کو دعوت دیتے۔ استاد محترم نے پہلے مجھے فرمایا مولوی تقریر کرو ۔ میں نے اس پبلک جلسہ میں تقریر کی۔ مائیک پر کھڑا ہوا تو میں نے تقریر میں مرزا قادیانی کے خلاف نعرے اور گالیاں شروع کر دیں۔ والد صاحبؒ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ، اٹھے، مجھے پکڑ کر پیچھے ہٹایا اور مائیک پر کھڑے ہو کر کہا کہ بچہ ہے ، ایسی باتیں کر گیا ہے، میں اس پر معذرت خواہ ہوں، ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، اور مجھے گھر آ کر ڈانٹا کہ بیٹا! ایسی باتیں نہیں کرتے، ادب اور اخلاق سے بات کرتے ہیں ، گالیاں نہیں دیا کرتے ۔
اس کے بعد تحریک ختم نبوت میں میرا تعلق یوں ہوا کہ جب میں گوجرانوالہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں آیا تو غالباً‌ ۱۹۶۴ء میں ختم نبوت کا پندرہ دن کا کورس کیا۔ وہ کورس حضرت مولانا محمد حیاتؒ نے کروایا تھا ۔ختم نبوت کے حوالے سے میرے پہلے باضابطہ استاد ہیں۔
ختم نبوت کو منظم کرنے میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی ہمت، بصیرت اور جدوجہد کارفرما تھی، وہ یہ ادارہ بنا گئے، مولانا محمد حیات صاحبؒ بھی ختم نبوت کے مبلغ تھے اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے معاصر تھے ۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے بے تکلفی سے فرمانے لگے محمد علی کے کام دیکھو کہ مجھے رسید بک پکڑا دی ہے کہ چندہ جمع کر کے لانا ہے۔ میں کہاں سے چندہ جمع کر کے لاؤں ، میرا تو مزاج ہی نہیں ہے۔ بعض بزرگوں کا یہ مزاج نہیں ہوتا۔ حضرت والد صاحبؒ اور حضرت صوفی صاحبؒ کا یہ مزاج بالکل نہیں تھا۔
یہ سادگی تھی، لیکن علم کا پہاڑ تھے، آپؒ بڑے فاضل، صاحبِ استعداد عالم تھے، قادیانیوں کے خلاف سب سے بڑے مناظر تھے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ وغیرہ سب ان کے شاگرد ہیں۔ سیاسی طور پر ماسٹر تاج الدین انصاری مرحوم کی تقریر بھی میٹھی میٹھی، دھیمی دھیمی ہوتی تھی، ٹیبل ٹاک میں بھی ان سے زیادہ ماہر احرار میں کوئی نہیں تھا، ان کی گرفت سے بھی کوئی آدمی نہیں نکل سکتا تھا۔ اور مذہبی طور پر یہی حال مولانا محمد حیات صاحبؒ کا تھا کہ میٹھی میٹھی بات کرتے لیکن دلیل کے ساتھ۔
والد صاحب ؒ کی طرح حضرت مولانا حیات صاحبؒ بھی ادب سے بات کر نے کی تلقین کیا کرتے تھے ۔ بعض لوگ ان سے غصے ہوتے تھے کہ آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں، یہ کیا بات ہوئی۔ لیکن وہ کہتے تھے کہ جس کا بھی نام لو، اخلاق سے لو۔ اسی کلاس کے دوران مولانا حیات صاحبؒ نے دلائل پڑھائے اور مجھے کہا کہ اٹھ کر بیان کرو کیا پڑھا ہے؟ میں کھڑا ہوا اور اور یوں بات کی کہ مرزا ۔۔ ہے، انہوں نے مجھے ٹوک دیا اور پیار سے سمجھایا کہ بیٹا! ایسے نہیں کہتے ۔ وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے ۔ کہو مرزا صاحب یوں کہتے ہیں مجھے ان سے اختلاف ہے۔ میں اس کلاس کا باقاعدہ طالب علم تھا۔ یہ میرا اس محاذ سے عملی تعلق ہوا۔
۱۹۶۷ء ، ۱۹۶۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ ایوب خان کا زمانہ تھا ۔اس زمانے کا عمومی ماحول یہ تھا کہ اگر کسی جلسے، اجتماع یا تقریر میں قادیانیت کا نام لے کر بات کہہ دیتے تو مقدمہ ہو جاتا تھا پھر گرفتاری ہو جاتی تھی کہ قادیانیوں کا نام کیوں لیا ہے۔ جلسے اور اجتماع میں قادیانیوں کا نام لے کر تردید کرنا جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس پر مقدمات ہو جاتے تھے ، گرفتاری ہو جاتی تھی۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں