Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

تم سب کی کلاہ کج ہونے کوہیں

جب سے صحافت میں چوہدریوں کے سابقے لاحقے لگے ہیں لفافہ صحافت کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔یوں صحافت بصیرت کے ساتھ بصارت سے بھی محروم ہونے لگی ہے ۔اندھے دل کے لوگ جو سامنے بنتی بکھرتی تاریخ کی صداقتوں تک سے ناآشنا ہیں۔ہاں مگر وہ جھوٹ موٹ کی فیس بک ریٹنگ کے گھمنڈ میں مبتلا ہیں ۔یہی صحافی ہیں جو اپنی ضرورتوں کی خاطر آمروں کی جلالت کے چراغ تک اٹھا کر چلنے سے باز نہیں آئے پھر یہی نہیں کہ یہ دیکھتے ہی دیکھتے متمول ہوتے چلے گئے بلکہ حکومتی ایوانوں تک میں دسترس کے حامل ہوئے۔جس طرح حکمرانوں کے نام تخت وتاج کی جلالت کی رعونت میں گرفتار ہوتے ہیں اسی طرح منفعت پسند ، مفادات کے رسیا مصاحبی کے کوڑھ کے عارضے میں غرق یہ صحافی ریاستی اداروں تک کے ناروا حقوق کے حاجب کاکردارادا کرتے ہیں۔ جبکہ محکوموں کے حقوق سے متعلق یہ مہر بہ لب رہتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں کہ جب مٹی تلے پناہ لیتے ہیں تو تاریخ ان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتی۔انہیں وقت کے جید سیاستدان بھی لفافہ صحافی کے نام سے منسوب کرتے ہیں ۔
ان دنوں پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت اور ایک معاصر اخبار کے کالمنسٹ کے درمیان یہی ذکر زیر بحث ہے ۔آخر الفاظ کاہنر جاننے والوں کو ایسے موضوعات ہی کیونکر چھیڑنے چاہئیں کہ جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت کے اندرونی معاملات سے ہو۔ریاست کے رستاخیز ماحول میں تو کسانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم ہی کافی ہیں ۔وہ کسان جن پر تشدد کرنے والی پولیس فتح کا جشن مناتے ہوئے شاہراہوں پر رقص کرتی ہے ۔زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ریڑھ کی ہڈی میں خلل پڑجائے تو نام زندگی لرز کے رہ جاتا ہے ۔اس کا تعلق قوی سے ہوتا ہے ، قوی‘ مضمحل ہوجائیں تو امکان کے راستے مسدود ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ہم نے کیا کچھ نہیں گنوایا۔ اقدارو روایات سے تہذیب و ثقافت تک۔اب ملک کی زرعی عوام کو بھی خاک چٹوانا چاہتے ہیں۔ کسان رو رہے ہیں ۔ان کی محنت و مشقت کا ثمر ‘ امیدوں کا سامان‘خواہشوں اور تمنائوں اور آس امید کا سارا سامان ‘ان کا تیار کردہ کندن کھیتوں اور کھلیانوں میں بکھرا پڑا ہے ۔اوپر سے نامہربان موسم کا وبال کہ بادل گھر گھر آتے ہیں اور بارش کے برسنے سے پہلے کسانوں کے دلوں میں وسوسوں کا طوفان برپا کردیتے ہیں۔
پنجاب سرکار نے گندم کا جو نرخ رکھا اس پرخریدنے سے خود انکار اور عام آدمی میں یہ سکت ہی کہاں کہ سال بھر کی گندم خرید کر گھر میں رکھ سکے ، اب تو متوسط طبقے کے آدمی کے بس میں بھی نہیں رہا کہ اپنے بچوں کو سال کی روٹی ہی کی ضمانت مہیا کر دے کہ دال ، ساگ یا نمکین پانی میں ڈبو کر ہی لقمہ تر حرز جاں بنا سکے ۔
ایک زمانہ تھا کہ سڑکوں کے کنارے گندم کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور ہر شام کسان رقم سے جیبیں بھر گھر جاتا تھا گھر کے آنگن ہی میں نہیں گھر کے افراد کے چہروں پر مسرتیں رقص کرتی نظر آتی تھیں اور کسانوں کی دہلیز پر بیٹھی جوان بیٹیوں کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیریں چمکتی اور دمکتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں اور اب یہ عالم ہے کہ پچھلے روز ایک کسان دوست کا فون آیا کہہ رہا تھا سر دست پچاس من گندم کا گاہک ڈھونڈ دو کہ بچوں کی اسکول فیس ادا کرنی ہے۔ گویا کہ ہم نے متوسط طبقے کی عزت نفس دا ئو پر لگادی ہے ۔اس کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کے لئے خطرات پیدا کردیئے ہیں ۔ان کے وقار کے بخیئے چاک کر دیئے ہیں ۔اس پر مایوسی اور ناامیدی مسلط کردی ہے ، اسے قنوطیت کے گڑھے میں دھکیل دیا اور پنجاب کی رانی کو یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جب غریب کے منہ سے لقمہ چھیننے کا وقت آئے تو اس کے پیچھے ایک انقلاب کھڑا ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے ۔پھر سکھی گیلی کافرق بھی نہیں رہتا ۔
فرانس کے کے شہر اور گلی کوچے لہو کا دریا بن سکتے ہیں تو دو اڑھائی صدیوں بعد یہ وقت ہم آپ پر بھی آسکتا ہے اور پھر بھارت کے کسانوں کا احتجاج تو کل کی بات ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی لاکھوں پر مشتمل پولیس انسانوں کے بحر بے کراں پر قابو نہیں پاسکی ،بوہلائی ہوئی جنتا کے حضور مودی سرکار بند نہیں باندھ سکی جوووٹ کے ذریعے آئی ۔آپ چوری کے مینڈیٹ سے کیسے بپھرے ہوئے کسانوں کو روک سکتے ہیں جنہوں نے دیہی علائق میں بھی آپ کو سر چھپانے کو جھونپڑی تک نہیں بخشی ، آہنی گردنوں اور بڑے بڑے کلاہوں کی کلاہ کج کردی۔تم ریت کے ذرے اس آندھی میں خود کو ایسا گم کر بیٹھو گے تمہارا سراغ بھی کسی کو نہیں مل سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں