3 مئی کو صحافت کا عالمی دن منایا گیا، اس موقع پر میڈیا کے حوالے سے آج کے کالم میں چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ،صحافت صحیفے سے ہے اور صحیفہ آسمانی کتاب کو کہا جاتا ہے،سورہ عبس پارہ نمبر30 کی آیات،13-14-15 میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’بلند مرتبہ اوراق میں لکھا ہوا، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور)بہت پاکیزہ ہیں۔لکھنے والے ہاتھوں میں جو بلند مرتبہ اور بہت نیک ہیں‘‘ قرآن مقدس میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد خداوندی ہے کہ ترجمہ:’’اے ایمان والو!اگرکوئی گناہگار تمہارے پاس خبرلائے تو تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی نقصان نہ پہنچا دو کہیں پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے‘‘ (سورہ حجرات آیت۶) موجودہ دور کو میڈیا کادورکہا جاتا ہے،ہر شخص اپنے ہر دن کا کچھ نہ کچھ حصہ ذرائع ابلاغ کی صحبت میں گزارتا ہے اور ذرائع ابلاغ اس کے فکر و عمل پر لازما اثر انداز ہوتے ہیں۔نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’نیک ہم جلیس کی مثال اور برے ہم جلیس کی مثال ایسی ہے جیسے خوشبو بیچنے والے (عطار) اور بھٹی پھونکنے والے(لوہار)کی، خوشبو والا یا تمہیں خوشبو دے گا(تحفتاً)یا تم اس سے خوشبو خرید کر اپنے آپ کو معطر کرو گے اور بھٹی پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے، جلا دے گا یا تمہیں بدبو سونگھنی پڑ ے گی (مسلم) ’’ اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اپنے ماحول سے آدمی کسی طرح سے بے نیاز نہیں رہ سکتا،اس کے شعوری یا لاشعوری اثرات ان کی شخصیات پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں،یہی مثال میڈیا پر بھی صادق آتی ہے۔ جدید میڈیا خواہ اخبارات ہوں، ٹی وی چینلز ہوں، ریڈیو ہوں یا فلم ان کا ڈھانچہ نفسیاتی پہلوئوں کو مد نظر رکھ کر تشکیل دیا جاتا ہے۔
پچھلے چند سالوں سے پاکستان میں میڈیا نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے،پاکستان چونکہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے،یہاں کے آئین میں آج بھی اسلامی دفعات ستاروں کی طرح جگمگا رہی ہیں،لہٰذا لامحالہ طور پر اس ریاست کے دوسرے ستونوں کی طرح میڈیا کو بھی اسلامی کوڈ آف کنڈیکٹ کا ہر قیمت پر پابند ہونا چاہئے، یہ بات یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ مذہب اسلام کے بانی محسن انسانیت ﷺ دنیا میں اس وقت تشریف لائے تھے کہ جب دنیا میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے زمین کو فساد سے بھر رکھا تھا،یقینا سرور عالمﷺ کی تشریف آوری سے قبل بھی یہود و نصاری، مجوس و مشرکین میں ذرائع ابلاغ اور میڈیا کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ ایک اسلامی نظریاتی ملک میں رہتے ہوئے ہمیں خبر نگاری، سب ایڈیٹنگ، نیوز ریڈنگ، رپورٹنگ، کالم نگاری، اداریہ نویسی، تجزیہ نگاری، اور اینکری کرتے ہوئے ہر قیمت پر یہ لازم پکڑنا ہے کہ میڈیاکے وہ اصول و ضوابط وضع کریں اور میڈیا کی وہ حدود و قیود متعین کریں کہ جس میں مذہب اسلام، ریاست پاکستان اور عوام کے حقوق کو ہر قیمت پر تحفظ حاصل ہو،حیاء و غیرت، شرم و ناموس کی پاسداری شامل ہو، باخبر ذرائع قرار دے کر جھوٹی خبر اڑانا، پھر اس جھوٹی خبر کو پھیلانا، پھر اس جھوٹی خبر پر کالم نگاری کرنا،کسی دوسرے فرد، شخص، گروہ یا جماعت پر کیچڑ اچھالنا، ان کی پگڑیوں کو داغدار کرنے کی کوشش کرنا،دوسرے کے عیوب کو مزے لے لے کر اسے سوسائٹی میں گندہ کرنے کے لئے اچھالنا، ایک جماعت یا فرد سے پیسے لے کر،اس کی مخالف جماعت یا افراد کے خلاف قلم کو استرے کے طورپر استعمال کرنا شروع کر دینا،ان ساری خرافات کا مغربی، یہودی صحافت سے تو تعلق بنتا ہے،البتہ اسلامی صحافت کا اس سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔نائن الیون کے بعد تو میڈیا نے اک نئی کروٹ بدلی۔پہلے اگر کوئی کسی سے نوٹ لے کر دوسرے کی پگڑی اچھالتا تھا تو کم از کم یہ فکر لاحق نہیں ہوتی تھی کہ پیسے دینے والا،کوئی غیر ملکی یا غیر مسلم ہو گا۔
نائن الیون اور الیکٹرانک چینلز کی آمد کے بعد تو وہ غیر ملکی طاقتیں کہ جو پاکستان کے ایٹمی، اسلامی نظریاتی وجود کی دشمن تھیں،ان طاقتوں نے ہمارے میڈیا کے بعض حصوں پر ڈالروں اور پانڈز کے منہ کھول دیئے جس طرح سے پاکستانی حکومتیں غیر ممالک سے کبھی امداد اور کبھی قرضے حاصل کرتی چلی آرہی ہیں،بالکل اسی طرح الیکڑانک چینلز کے ایک حصے نے بھی،یہود و نصاریٰ سے خوب فنڈز حاصل کئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان مملکت اور مسلمان معاشرے میں میڈیا کے ایک حصے پر اگر یہود و نصاریٰ اور ہنود دولت لٹا رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور پھر غیر ملکی طاقتوں یا این جی اوز سے فنڈز حاصل کرنے والے اخبارات یا چینلز پاکستان میں کبھی اسلام یا نظریہ پاکستان کی صحیح ترجمانی کرنے کی جرات کر سکیں گے۔ آج جو ہر پاکستانی اس بات کا رونا روتا ہوا نظر آرہا ہے کہ ہمارے چینلز فحاشی و عریانیاور محزب الاخلاق اشتہارات، غیرت کش پروگراموں کا آمجگاہ بنے ہوئے ہیں،فلمی ایکٹریس، گلوکاروں، اور اداکاروں کومعاشرے کا سب سے ممتاز اور اعلیٰ فرد بنا کر پیش کر رہے ہیں، معصوم بچوں کو فحش گانوں کے مقابلوں کی لت ڈال کر ان کی معصومیت چھین رہے ہیں تو اس کے پیچھے کہانی ہے،انہیں ڈالروں کی کہ جن ڈالروں نے رسوائے زمانہ پرویز مشرف کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی تک فروخت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
ذائع ابلاغ یا میڈیا دراصل وہ تمام ذرائع ذریعے ہیں جو ہم تک معلومات پہنچاتے ہیں اور ہمارے بارے میں دوسروں کو معلومات دیتے ہیں،ان کے تین بڑے مقاصد ہوتے ہیں۔ 1معلومات یعنی علم پہنچانا-2 کسی خاص مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے راہنمائی کرنا -3 تفریح بہم پہنچانا۔