Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت ﷺکی چند یادیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہم نے گوجرانوالہ نے تحریک میں گرمی پیدا کی اور وہ گرمی کچھ زیادہ ہی ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ہڑتال کریں گے اور جلوس نکالیں گے۔ اس کے مطابق ہڑتال بھی ہوئی اور ہم نے بہت بڑا جلوس نکالا۔ جلوس کی قیادت ابو داؤد محمد صادق صاحب ؒ،مولانا عبد الواحد صاحبؒ اور حکیم عبدالرحمٰن صاحبؒ کر رہے تھے۔ میں بھی تھا اور مولانا عبد العزیز چشتی صاحبؒ وغیرہ شہر کے علماء بھی ساتھ تھے۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ کچہری پر جا کر ہم نے ڈی سی کے دفتر کے ساتھ برآمدے میں کھڑے ہو کر تقریریں کیں اور جلوس کو منتشر ہونے کا کہا کہ ہم نے آپ تک بات پہنچانی تھی پہنچا دی، اب ہم واپس جا رہے ہیں۔ ہم تو واپس آ گئے لیکن جلوس واپس نہیں آیا۔ وہ جلوس گِل روڈ پر چلا گیا۔ گل روڈ اس زمانے میں قادیانیوں کا مرکز تھا۔ ہم تو گھروں میں آگئے لیکن جلوس نے وہاں گِل روڈ پر بہت تباہی مچائی۔ شام کو بی بی سی چیخ اٹھا کہ گوجرانوالہ میں آج ایک دن میں بہت سے قادیانی قتل ہوئے ہیں۔ دنیا میں طوفان مچ گیا کہ گوجرانوالہ قتل گاہ بن گئی ہے، احمدیوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ظفر اللہ خان کا بیان بھی آگیا۔ گوجرانوالہ بہت حساس پوائنٹ بن گیا۔ ایک دن سترہ کے لگ بھگ آدمی قتل ہوئے، اس سے اگلے دن پانچ آدمی قتل ہوئے۔ بی بی سی اور دوسرے بین الاقوامی اداروں نے طوفان مچا دیا کہ گوجرانوالہ قتل گاہ بن گیا ہے۔ واقعتاً پاکستان میں ایسا معاملہ اور کہیں بھی نہیں ہوا جو یہاں ہوگیا۔ تقریبا بائیس قادیانی قتل ہوئے جن میں سے اکثر گل روڈ پر ہی قتل ہوئے تھے جہاں قادیانیوں کی آبادی تھی، جس سے جو ہو سکتا تھا اس نے کیا۔
تیسرے دن صوبائی منسٹر رانا اقبال احمد خان نے پیغام بھیجا کہ ہماری بات سن لیں۔ ڈی سی سید سرفراز شاہ صاحب تھے جو کہ شریف آدمی تھے۔ یہاں نئی نئی چھاؤنی بنی تھی، چھاؤنی کا آغاز ہوا تھا اور کرنل نصیر قادیانی یہاں کمانڈر تھے ۔ کرنل نصیر نے صورت حال دیکھ کر ڈپٹی کمشنر سے شہر کا چارج مانگ لیا کہ آپ سے کنٹرول نہیں ہو رہا مجھے کنٹرول دو اور مارشل لاء کا فیصلہ ہوگیا کہ شہر میں مارشل لاء لگے گا۔ رانا صاحب کا یہ پیغام ملا۔ حکیم عبدالرحمن صاحب صبح صبح میرے پاس آگئے کہ یہ صورتحال ہے۔ اس کا آج ہم نے کوئی تدارک نہ کیا تو مارشل لاء لگ جائے گا اور مارشل لاء کرنل نصیر لگائے گا اور پھر جو کچھ ہوگا وہ ہوگا۔ چنانچہ ہم نے فوراً میٹنگ بلائی اور ڈی سی صاحب سے ملے۔ ڈی سی نے کہا بات یہ ہے کہ میں شام کو میٹنگ کر رہا ہوں، جس میں رانا صاحب بھی ہوں گے اور فلاں فلاں بھی ہوں گے۔ اگر آپ حضرات مجھے تھوڑا سا حوصلہ دلا دیں اور گارنٹی دے دیں کہ اب شہر میں کوئی قتل نہیں ہوگا تو بات بن سکتی ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم نے قتل کروائے ہیں۔ اس نے کہا نہیں مولانا! خدا کے لیے اس کے سوا بات نہیں بنے گی۔ شام کو کرنل نصیر بھی ہوگا، صوبائی منسٹر رانا صاحب بھی ہوں گے، صوبائی وزیر رانا شمشاد بھی ہوں گے اور فیصلہ آج شام چار بجے میٹنگ میں ہونا ہے۔ اگر ہم اس کو جواب نہ دے سکے تو رات کو مارشل لاء لگ جائے گا ۔ مارشل لاء کا کمانڈر کرنل نصیر ہوگا جو انتقام اور غصے میں بھرا بیٹھا ہے۔ پھر آپ سوچ سکتے ہیں کہ شہر میں کیا ہوگا اور کیا نہیں ہوگا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آپ میٹنگ بلائیں۔
شام کو ڈی سی سید سرفراز شاہ صاحب کے آفس میں میٹنگ ہوئی۔ سب بیٹھے ہوئے تھے۔ اس میں اس پر بحث ہوئی ۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ تم نے ہمارے لڑکوں کو مارا، انہوں نے تمہارے لڑکوں کو مارا۔ مسئلہ ہی ایسا تھا کہ لوگوں کے جذبات تھے۔ ہم تو جلوس ختم کر کے آ گئے تھے۔ ہمارا اس معاملے سے کیا تعلق؟ ہم تو اپنے گھروں میں تھے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ سب کس نے کیا ہے۔ ہمارا جلوس کچہری تک تھا وہاں سے ہم واپس آ گئے تھے، اس کے بعد تمہیں کنٹرول کرنا چاہیے تھا۔ تم نے کنٹرول نہیں کیا تو اب ہم کیا کریں۔ بات چلتی رہی۔ کرنل نصیر بار بار کہتا فیصلہ کرو کیا کرنا ہے۔ حکیم عبد الرحمٰن آزاد سمجھ دار آدمی تھے۔ کھڑے ہوئے اور کہا کرنل صاحب! بات ٹھیک ہے، شہر کا امن ہمارا بھی امن ہے۔ میں سیکرٹری جنرل ہوں اور یوں سمجھیں میں ہی ختم نبوت موومنٹ کا لیڈر بھی ہوں۔ میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ اس کے بعد ہم کوشش کریں گے کہ کوئی ہنگامہ نہیں ہوگا۔ ویسے خود تمہیں کنٹرول کرنا چاہیے تھا، تم نہیں کر سکے تو اب ان شا اللہ کوئی ایسی بات نہیں ہوگی۔ اس لیے آپ آج فیصلہ نہ کریں۔ تین دن مزید دیکھ لیں، اگر کنٹرول نہ ہو سکا تو آپ کی مرضی۔ اس پر فیصلہ ہوگیا اور مارشل لاء لگتے لگتے ٹل گیا ۔ پھر تین دن ہم نے ساتھیوں کی منتیں کیں کہ خدا کا واسطہ ہے ، خدا کا خوف کرو ،کیا کر رہے ہو۔ بہرحال کنٹرول ہو گیا۔ یوں گوجرانوالہ شہر بالکل اس کیفیت میں مارشل لاء سے بچ گیا۔
اس کے بعد ایک لطیفے کی بات یہ ہوئی کہ شہر میں تحریک ختم نبوت کے جلسے ہو رہے تھے۔ باقی لوگ قادیانیوں اور حکومت کے خلاف تقریریں کر رہے تھے، جبکہ میں ڈی سی کے خلاف تقریر کر رہا تھا کہ ڈی سی ایسا ہے ویسا ہے۔ مَیں سیاسی زبان میں ڈی سی کو جو کہہ سکتا تھا کہتا۔ تین چار جلسے ہوئے تو ڈی سی صاحب نے ایک مجسٹریٹ کو میرے پاس بھیجا ۔ اس نے آکر کہا ڈی سی صاحب پریشان ہیں کہ مولوی صاحب! آپ کیا کر رہے ہیں، میرا کیا قصور ہے؟ مجھے کیوں گالیاں دے رہے ہیں، میں نے کیا کیا ہے؟ میں نے مجسٹریٹ سے کہا ڈی سی صاحب سے کہو میں یہ گالیاں ان کو بچانے کے لیے دے رہا ہوں، اگر میں یہ گالیاں نہ دوں تو سارے قتل اس کے کھاتے میں جاتے ہیں کہ ڈی سی کیا کر رہا تھا ، اس نے خود قتل کروائے ہیں، ان کو یہ بات سمجھ آ گئی اور وہ دوسرے دن کہنے لگا کہ ہاں بات ٹھیک ہے۔
ڈیوڑھا پھاٹک والی مکی مسجد کا پس منظر عجیب ہے۔ یہ بھی تحریک ختم نبوت کا حصہ ہے۔ یہاں جس جگہ مسجد ہے یہ قادیانیوں کی جگہ تھی۔ قادیانیوں کی یہاں کچھ آبادی تھی اور انہوں نے یہ جگہ خریدی ہوئی تھی۔ یہاں وہ اپنا بہت بڑا جماعتی مرکز ”فیض ہال“ کے نام سے بنانے والے تھے ۔ مولانا عبد الواحد ؒ کو کسی نے بتایا کہ قادیانیوں نے اس جگہ کا سودا کیا ہے اور یہاں فیض ہال کے نام سے اپنا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ فیض احمد ان کا کوئی بڑا ہوگا۔ تو مولانا عبد الواحد ؒ نے کہا یہ تو بڑے موقع کی جگہ ہے ۔ اگر یہ مرکز بنے گا تو فتنہ پیدا ہو گا اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔ چنانچہ جس کی جگہ تھی اس بیچنے والے سے رابطہ قائم کیا۔ اس نے کہا میں نے تو جگہ بیچنی ہے آپ پیسے دے دیں تو آپ کو دے دوں گا، لیکن دو دن کے اندر فیصلہ کریں۔ آپ نہیں لیں گے تو میں نے قادیانیوں سے تو سودا کر لیا ہے، ان کو دے دوں گا۔ آپ نے خریدنی ہے تو آپ خرید لیں۔ الحاج ظفر علی ڈار کے والد لالہ غلام رسول ہمارے بزرگ اور بڑے نیک آدمی تھے۔ اس زمانے میں شہر میں گنتی کے چار پانچ بڑے مالدار لوگوں میں سے تھے۔ مولانا عبد الواحد ؒ نے لالہ جی کو بلایا اور انہیں بتایا کہ یہ مسئلہ ہے، ہمارے پاس تو پیسے نہیں ہیں، بڑے ثواب کی بات ہے اگر آپ یہ جگہ خرید لیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں خرید لیتا ہوں۔ چنانچہ لالہ جی نے مالک سے رابطہ کر کے قادیانیوں کا سودا کینسل کروا کر اپنا سودا کیا اور وہ جگہ خرید لی اور مسجد کے لیے وقف کر دی۔ جب جگہ مسجد کے لیے وقف کی تو گورنمنٹ کے سامنے نیا تنازع شروع ہو گیا کہ قادیانیوں کو پیچھے ہٹا کر مسلمان مسجد بنائیں گے اور یہ ان کا مرکز بن جائے گا۔
اس پر حکمتِ عملی یہ طے ہوئی کہ رات ہی رات مسجد بنانی ہے ۔اس زمانے میں بھی اتوار کو چھٹی ہوتی تھی۔ طے ہوا کہ ہفتے کی رات کو مسجد مکمل کرنی ہے تاکہ سٹے کا چکر وغیرہ نہ ہو۔ چنانچہ نصرۃ العلوم، اشرف العلوم اور جامع مسجد کے طلباء آگئے ، ہم نے پانچ سات مستری بلا لیے۔ تعمیر کا انتظام مکمل کیا ۔ مغرب کی نماز پڑھ کر مسجد بننا شروع ہوئی یعنی اس کا ہال ۔ میں بھی اینٹیں اور گارا ڈھونے والوں میں شامل تھا ۔ فجر کی نماز تک ہم نے مسجد کی تعمیر مکمل کی اور لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہم نے وہاں فجر کی نماز پڑھی اس کے بعد مولانا عبد القیوم ہزارویؒ نے درس دیا۔ یہ مکی مسجد کی تاریخ ہے کہ مغرب کے وقت کھلا میدان تھا، مغرب کے بعد مولانا عبد القیوم صاحبؒ تسبیح لے کر بیٹھ گئے وہ ہمارے بزرگ تھے اور ہم سب ورکر تھے۔ ہم ساری رات کام لگے رہے اور فجر کی نماز سے پہلے چھت ڈل چکا تھا اور سپیکر لگ چکا تھا۔ وہاں فجر کی نماز ہوئی، اور مولانا عبد القیوم صاحبؒ درس میں جو کہہ سکتے تھے انہوں نے کہا، جو اُن کا لہجہ تھا، یہ تحریک ختم نبوت ہی کا حصہ ہے کہ اس جذبے کے ساتھ یوں کام ہوتا تھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں