امام انقلاب حضرت عبیداللہ سندھی ’’خطبات ومقالات‘‘میں فرماتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے ملک کے تباہ حال اور بے کس طبقوں کی خبر نہ لی اور انہیں اس حال میں رہنے دیا جس میں کہ وہ صدیوں سے جان توڑ محنت کر رہے ہیں اور تمہارے اوپر کے طبقے حسب سابق جونک بن کر ان کا خون چوستے رہے اور ان کو تم نے اب بھی اسی بھوک جہالت ذلت اور عفونت کی دلدلوں میں بدستور مرنے سڑنے دیا تو یاد رکھو کہ انقلاب کا یہ لادینی فلسفہ جو آگ کی طرح ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ تمہارے ملک کے ان بد نصیب طبقوں کو دوسرے ملکوں کی طرح تمہارا جانی دشمن بنا دے گا اور اگر تمہاری غفلت سے ان کی دشمنی کی آگ بھڑک اٹھی تو اس کے شعلے تمہیں تو جلا کر خاک سیاہ کریں گے ہی، لیکن اس کے ساتھ تمہارے علم کلچر اور مذہب کی بھی خیر نہ ہوگی۔ امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا کیا آزمائشیں آپ کو راستے سے روکتی نہیں ہیں؟انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر آزمائش نہ ہو تو راستہ مشکوک ہوجائے بے شک اللہ جس چیز کے ساتھ آزماتا ہے تو اس میں خیر ہوتی ہے اگرچہ ہم اس کے برعکس سوچیں اپنے دل کو اس بات سے راحت دو کہ اگر آزمائش نہ ہوتی تو یوسف اپنے والد کی گود میں ہی رہتے آزمائشوں نے ہی انہیں عزیز مصر بنایا۔
سیاستدان، بڑی بڑی اسکیمیں بناتے ہیں، لیکن ان کی نظر خاص طبقوں سے آگے نہیں بڑھتی وہ قوم اور وطن کا نام لیتے ہیں مذہب اور کلچر پر زور دیتے ہیں، لیکن ان کی قوم وطن مذہب اور کلچر کا تصور یا تو سرے سے موہوم ہے یا ان کا اطلاق ایک خاص طبقے کے اغراض اور مصالح پر ہوتا ہے۔ یہ لوگ صرف اپنے آپ کی طرف دیکھتے ہیں اور دل ہی دل میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ زمانہ ان کے اشاروں پر سدا حرکت کرتا رہے گا اور لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان کی طرف ہی تکتے رہیں گے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی مقام انسانیت میں رقمطراز ہیں کہ ’’آج دنیا کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ جماعتیں موجود ہیں، قومیں موجود ہیں، تنظیمیں اور ادارے موجود ہیں، لیکن صالح افراد نایاب ہیں، اور دنیا کے بازار میں سب سے زیادہ اسی جنس کی کمی ہے، خطرناک بات یہ ہے کہ ان کی تیاری کی فکر بھی نہیں ہے، اور سچ پوچھئے تو اگر تیاری کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو اس کے لیے صحیح راستہ اختیار نہیں کیا جاتا، اس کا راستہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ یقین پیدا کیا جائے اور سب سے پہلے انسان کو انسان بنایا جائے، اس کے بغیر جرائم بند نہیں ہوسکتے، خرابیاں دور نہیں ہو سکتیں، آپ ایک چور دروازہ بند کریں گے، دس چور دروازے کھل جائیں گے۔
افسوس ہے کہ جن کو اس بنیادی کام کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے اور جن کے توجہ کرنے سے اثر ہو سکتا ہے، ان کو دوسرے مسائل سے فرصت نہیں، اگر وہ اس مسئلہ پر توجہ کرتے، تو اس سے پوری زندگی پر اثر پڑتا، اور سینکڑوں مسائل اس سے حل ہوجاتے، جن پر علیحدہ علیحدہ کوشش کی جا رہی ہے، اور خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا،جو یقین کسی ضد یا نفسیات کی بنا پر ہوتا ہے یا کسی انسانی طاقت یا بیرونی امداد پر بھروسہ ہوتا ہے_ اور اس کا سر چشمہ ایمان ، عمل صالح ، اعتماد علی اللہ نہ ہو، بلکہ مادی اسباب ، سیاسی تدبیر اور جوڑ توڑ ہو، اس کا انجام بعض اوقات بہت خراب ہوتا ہے،اس یقین کے لیے جس کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے ضروری ہے کہ وہ خالص اللہ کے اعتماد پر ہو ، مخلوق کے کسی وعدے یا کسی امید پر نہ ہو،مشورہ اور تدبیر میں کمی نہ کی جائے، پھر بصیرت ایمانی جو کچھ فیصلہ کرے اس پر مضبوطی سے قائم ہو جایا جائے،صاحب یقین ایمان و اخلاص کی دولت سے مالامال اور عمل صالح سے متصف ہو اور اللہ تعالیٰ سے بندگی کا خصوصی تعلق رکھتا ہو،اس کی بنیاد حق اور صداقت ہو،اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا مقدمہ جعلی اور کمزور نہ ہو۔
مو لانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں کہ ’’جس قوم کی ذہنی فضا نفرت کی آب وہوا سے تیار ہوگی اس میں ایک متمدن قوم کی آب وتاب کا پیدا ہونا نا ممکن ہے۔‘‘ ’’جب قومیں اعتماد نفس سے محروم ہوجاتی ہیں یعنی انہیں عرفان نفس اور تعین ذات کا احساس نہیں رہتا تو پھر ان میں یمین ویسار کا تذبذب پیدا ہوتا ہے اور ان کا دماغ خطرے ڈھالنے لگتا ہے، تب وہ مفروضوں سے ہراساں ہوتی ہیں‘‘ ابن خلدون فرماتے ہیں کہ جن معاشروں میں علم و حکمت سے شناسائی کا فقدان ہو وہاں غلطیوں پر احساسِ زیاں نا پید ہو جاتا ہے،جن معاشروں میں احساسِ زیاں ناپید ہو جائے وہاں دانائی کا گزر نہیں ہو سکتا اور جہاں دانائی کا کوئی وجود نہ ہو وہاں زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔
مولانا مفتی شفیع عثمانی ؒ لکھتے ہیں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے ارشاد فرمایا کہ مولانا عبید اللہ سندھی نے جب دہلی میں نظار المعارف قائم فرمایا تو تھانہ بھون آئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں علامہ شبلی نعمانی سے ملا ، تو مسلمانوں کی عام بے راہ روی اور پریشانی اور مبتلائے آفات ہونے کا تذکرہ ہوا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی نظر میں قوم کی اصلاح کی تدبیر کیا ہے ؟ علامہ شبلی نے کہا کہ قوم کی اصلاح ، صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں، جن کا قوم پر مکمل اثر ہو اور یہ اثر ، بغیر تقدس کے نہیں ہوسکتا اور تقدس ، بغیر تقویٰ اور کثرت عبادت و ذکر اللہ کے حاصل نہیں ہوسکتا،مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ’’پا جا سراغ زندگی‘‘میں لکھتے ہیں کہ آج مدارس کا سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑا ذہنی طاعون بڑھتا ہوا احساس کمتری ہے جو گھن کی طرح اس درخت کو کھاتا چلا جارہا ہے۔ کسی ادارہ کو اگر یہ گھن لگ جائے تو پھر اس کی زندگی محال ہے،آپ کے پاس جو دولت ہے ، اس سے دنیا کا دامن خالی ہے۔ آپ کے سینہ میں علومِ نبوت ہیں اور وہ حقائق ہیں جو دنیا سے گم ہوچکے ہیں ، جن کے گم ہونے سے آج عالم میں اندھیرا ہے ، اضطراب اور انتشار ہے۔ آپ اپنے ان سادہ کپڑوں ، ان حقیر جسموں اور اس خالی جیب و دامن پر نظر نہ کریں ، آپ یہ دیکھیں کہ آپ کا سینہ کن دولتوں سے معمور ، اور آپ کے اندر کیسا بدرِ کامل مستور ہے۔