(گزشتہ سے پیوستہ)
ایک لطیفہ کی بات یہ سنا دیتا ہوں کہ حضرت مولانا ابو داؤد محمد صادقؒ شہر کے بڑے عالم دین تھے ہم نے ان کو صدر بنایا تھا۔ وہ ایک آدھ میٹنگ میں آئے ، لیکن پھر ان کے مزاج نے ان کو میٹنگ میں نہیں آنے دیا۔ بلکہ ایک دفعہ انہوں نے استعفیٰ کی خبر بھیج دی، جو ہم نے رکوا دی۔ ہمارا اس وقت زور چلتا تھا کہ ہماری مرضی کے بغیر کوئی خبر نہ چھاپے۔ ہم نےوہ خبر رکوا دی اور ادھر شہر میں افواہ پھیل گئی کہ مولانا صادقؒ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ ہمارے لیے تحریک کے حوالے سے بڑی نقصان دہ بات تھی کہ ہمارے صدر نے استعفیٰ دے دیا۔ چنانچہ ہم نے طے کیا کہ مولانا صاحب کو تحریک کی قیادت میں ظاہر کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ہم نے دو کام کئے۔ اس پلاننگ میں چشتی صاحب ؒ، مولانا خالد، میں، حکیم عبدالرحمنؒ، حکیم محمود، ڈاکٹر غلام محمدؒ اور علامہ محمد احمد لدھیانویؒ شامل تھے۔ چشتی صاحبؒ نے کہا کہ اس کے لیے ایسا کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں مولانا صاحب کی پریس کانفرنس رکھتا ہوں کہ مولانا! ان کو چھوڑیں، آپ قادیانیوں کے خلاف اپنی پریس کانفرنس کریں۔ چشتی صاحب نے مجھے کہا کہ تم اور حکیم عبدالرحمن دونوں فلاں وقت پر میرے گھر آجانا ۔پہلے میں مولانا صادق صاحبؒ کے دائیں بائیں اپنے آدمی بٹھا دوں گا، تمہارے آنے پر وہ اٹھ جائیں گے اور تم ان کے دائیں بائیں بیٹھ جانا۔ یوں جب حاجی محمد صادق صاحب پریس کانفرنس کر رہے تھے تو میں بھی پہنچ گیا اور حکیم عبدالرحمٰن صاحب بھی پہنچ گئے۔ ہمارے پہنچتے ہی پلاننگ کے مطابق حاجی صاحب کے اردگرد سے وہ بندے اٹھ گئے اور ان کے دائیں جانب میں بیٹھ گیا اور بائیں جانب حکیم صاحب بیٹھ گئے۔ حاجی صاحب پریشان ہو گئے کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ ہم خاموش تھے ،طے یہی ہوا تھا کہ ہم نے کہنا کچھ نہیں ہے بس صرف ظاہر کرنا ہے کہ حاجی صاحب پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ایک اخباری نمائندہ نے مجھ سے کوئی سوال کیا تو میں نے کہا نہیں! حاجی صاحب جواب دیں گے، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ اس پریس کانفرنس کی خبر صبح اخبار میں لگ گئی۔ لوگ کہتے کہ مولانا کل استعفیٰ دے رہے تھے ،رات کو اکٹھی پریس کانفرنس کی ہے۔
ہم نے دوسری حرکت یہ کی کہ اس موقع پر بائیس قادیانی قتل ہوئے تھے، اس میں ہمارے سو سے زائد کارکن ۳۰۲ اور ۳۰۷ کے مقدمہ میں گرفتار ہوئے تھے۔ آخر انہوں نے گرفتاری تو کرنی تھی۔ ہمارے کارکن جیلوں میں تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا، عید کا مرحلہ آ رہا تھاتو ہم نے طے کیا کہ قیدیوں کے گھروں میں عیدی کے طور پر کچھ امداد بھیجنی چاہیے۔ اس کے لیے ہم نے پیکج بنا لیا کہ یہ ان کو دینا ہے۔ اس پر جامع مسجد میں میٹنگ ہوئی۔ حکیم محمود کہنے لگے کہ بات یہ ہے کہ حاجی صاحب تو میٹنگ میں آتے نہیں ہیں تو کیوں نہ ہم میٹنگ ہی حاجی صاحب کے پاس لے جائیں۔ حاجی صاحب مدرسے میں جہاں تعویذ وغیرہ کیا کرتے تھے وہاں بیٹھے ہوتے تھے۔ ہم نے پتہ کیا کہ حاجی صاحب بیٹھے ہوئے ہیں تو ہم سب وہاں ان کے پاس چلے گئے اور ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے پوچھا کیسے آئے ہیں تو ہم نے کہا کہ مشورہ کرنے آئے ہیں کہ ہم قیدیوں کے گھر کچھ امداد بھیجنا چاہتے ہیں۔ امداد بھیجیں یا نہ بھیجیں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے ساتھ پیسے کتنے دینے چاہئیں۔ اس زمانے میں ہزار روپیہ بڑی چیز ہوتی تھی ہم نے کہا آٹھ آٹھ سو روپے دے دیتے ہیں۔ حاجی صاحب نے کہا ہزار ہزار دے دیں۔ یہ ہماری مشاورت ہوئی اور ہم نے کہا حاجی صاحب دعا فرما دیں۔ اس میٹنگ پر ہم نے باقاعدہ کاروائی کے نوٹس لکھے کہ حاجی صاحب کے ساتھ ہماری میٹنگ ہوئی ہے، حاجی صاحب نے منظوری دے دی ہے۔ منظوری تو حاجی صاحب نے دی تھی ۔ ہم نے اسے اخبار میں چھاپ دیا۔ ہم اس طریقے سے چلتے رہے ۔اس کے بعد حاجی صاحب خاموش ہو گئے۔ لوگوں نے بھی ان سے کہا کہ حضرت! ایسا نہ کریں، ٹھیک ہے آپ جلسوں میں نہ جائیں، لیکن خاموش تو رہیں اور جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کو کام کرنے دیں۔ یہ تحریک ختم نبوت کی گوجرانوالہ کی حد تک کی صورتحال تھی۔
میں نے تحریک ختم نبوت میں گوجرانوالہ کے حوالے سے بات کی ہے۔ یہ تحریک اپریل میں شروع ہوئی تھی اور ستمبر ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے غیرمسلم اقلیت ہونے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ پہلی تحریکوں میں اور اس میں فرق یہ تھا کہ اس تحریک میں اسمبلی میں مضبوط نمائندے موجود تھے، جنہوں نے اسمبلی میں جنگ لڑی۔ مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث ہزاروی، پروفیسر غفور احمد، چودھری ظہور الٰہی، مولانا ظفر انصاری، سردار حیات رحمہم اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ تھے، یعنی بڑی مضبوط اپوزیشن تھی جس نے یہ جنگ لڑی اور ہم قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ تحریک ختم نبوت کا ایک مرحلہ ہے، دوسرے مرحلے پر بعد میں بات ہو گی، ان شاء اللہ۔
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک ختم نبوت کے دو ادوار ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کا ذکر کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں میری شمولیت گوجرانوالہ کی حد تک محدود رہی۔ میں گوجرانوالہ شہر کی ختم نبوت ایکشن کمیٹی کا سیکرٹری جنرل تھا اور اس کی کچھ تفصیلات گزشتہ نشست میں بیان کی ہیں۔ اس کے بعد تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کا دور ہے۔
۱۹۷۴ء میں یہ ہوا تھا کہ تحریک ختم نبوت کے نتیجے میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دے دیا تھا اور ان کا شمار غیر مسلم اقلیتوں میں کر دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد یہ قانون سازی ضروری تھی کہ قادیانی اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں، اسلامی اصطلاحات استعمال نہ کریں، اور آئین کے تقاضوں کے مطابق اقلیتوں کے ساتھ ان کے حقوق کا عملی طور پر تعین ہو جائے۔ قادیانی ۱۹۷۴ء کا فیصلہ قبول کرنے سے انکاری تھے اور یہ قانون سازی نہیں ہو رہی تھی۔ اس پر مطالبات جاری تھے کہ دستوری ترمیم کے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور قانون میں جو ترامیم ضروری ہیں وہ کی جائیں۔
(جاری ہے)