(گزشتہ سے پیوستہ)
اس دوران ۱۹۸۴ء میں ایک اور واقعہ ہوگیا کہ ایم ایم احمد یعنی مرزا مظفر احمد جو مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا ، مرزا بشیر احمد کا بیٹا، یحییٰ خان کا نفسِ ناطقہ و دست راست تھا اور منصوبہ بندی اور پلاننگ کا چیئرمین تھا۔ اس کے بارے میں ان تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ مشرقی پاکستان کے بحران میں بھی اس کا کردار تھا۔ جیسا کہ مشرقی پاکستان کے معروف لیڈر مولوی فرید احمد مرحوم اپنی تقریروں میں اکثر کہا کرتے تھے کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازش کا بنیادی کردار ایم ایم احمد ہے۔
اس دوران ایک دور ایسا آیا کہ یحییٰ خان ملک سے باہر جا رہے تھے اور اپنا قائم مقام کچھ دنوں کے لیے ایم ایم احمد کو بنانا چاہتے تھے۔ دینی حلقوں کے لیے یہ تشویش کی بات تھی کہ ایک قادیانی ملک کا قائم مقام صدر بنے گا۔ چنانچہ سیالکوٹ کا ایک نوجوان اسلم قریشی، جو اس وقت اسلام آباد میں لفٹ ٹیکنیشن کے طور پر ملازم تھا، اس کا ذاتی جذبہ تھا یا کچھ دوستوں کے حلقے کی بات تھی ، اس نے سوچا کہ اس کو صدر نہیں بننے دینا ،اس لیے کہ اس کا قائم مقام صدر بننا قابل برداشت بات نہیں تھی۔ غالباً ایک دن پہلے ہی اس نے یہ رسک لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا مظفر احمد لفٹ سے اوپر جا رہا تھا، اسلم قریشی اس کو ڈیل کر رہا تھا۔ اس موقع پر اسلم قریشی نے یہ کیا کہ اس کے ساتھ سوار ہوگیا اور لفٹ کے اندر ہی اس پر دو چار وار کر دیے۔ وار زیادہ کاری نہیں تھے، پیٹھ اور گردن پر کچھ زخم آئے تھے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایم ایم احمد ہفتہ دس دن ہسپتال میں رہا اور یوں قائم مقام صدر والا پیریڈ ہسپتال میں گزر گیا۔ اسلم قریشی زیادہ مضبوط جسم کا آدمی نہیں تھا، بہرحال اس نے اتنا کر دیا کے ایم ایم احمد ایوان صدر جانے کے بجائے ہسپتال چلا گیا۔ اسلم قریشی غیر معروف آدمی تھا۔ اس سے پہلے اسے کوئی نہیں جانتا تھا، نہ ہم جانتے تھے اور نہ کوئی اور جانتا تھا۔
اس واقعہ میں اسلم قریشی قاتلانہ حملے کے جرم میں گرفتار ہوگیا ۔مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا کیس لڑا۔ تحریک ختم نبوت کاہی کام تھا۔ وہ کیس چلتا رہا۔ راجہ ظفر الحق وکیل تھے۔ کیس میں کچھ عرصہ بعد اس کو کچھ سزا ہوئی۔ اس دوران اس کی ملازمت ختم ہو گئی۔ بہرحال وہ لٹریچر کا مطالعہ کرتا رہا، جب جیل سے آیا تو مجلس تحفظ ختم نبوت والوں نے اسے اپنا مبلغ بنا لیا اور سیالکوٹ میں تعینات کر دیا۔ وہ باقاعدہ عالم نہیں تھا بہرحال تیاری کر کے تقریر کر لیا کرتا تھا ، اس واقعہ نے اسے تیار کر دیا تھا اور کچھ مجلس والوں نے تیار کر دیا تو سیالکوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا باضابطہ مبلغ بن گیا۔
اس واقعے کے پس منظر میں ۱۹۸۴ء میں اچانک ایسا ہوا کہ اسلم قریشی غائب ہو گیا۔ وہ سیالکوٹ سے معراجکے گیا جو کہ بارڈر کے ساتھ قادیانیوں کا گاؤں ہے۔ وہاں مسلمانوں کی ایک مسجد ہے۔ وہ وہاں پہلے بھی وعظ کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ جامعہ شہابیہ رنگ پورہ میں مدرسہ ہے۔ ایک دن وہاں کے قاری صاحب سے ملا ، سائیکل ان کے پاس کھڑی کر کے یہ کہہ کر چلا گیا کہ میں بس پر معراجکے جا رہا ہوں ، کل آؤں گا اور سائیکل لے جاؤں گا۔ وہ وہاں سے گیا تو اس کے بعد غائب ہو گیا۔ ادھر معراجکے والے کہتے کہ وہ ہمارے پاس نہیں آیا۔ ایک دو دن کے بعد تشویش شروع ہو گئی کہ وہ کہاں گیا ہے۔ ظاہر بات تھی کہ وہ غائب ہوا تو شک قادیانیوں پر ہی ہونا تھا کہ انہوں اغوا کر لیا ہے۔ ختم نبوت کا مبلغ ہونے کے حوالے سے بھی اور سابقہ پس منظر کے حوالے سے بھی۔ چنانچہ پہلے سیالکوٹ کے علماء نے احتجاج کیا ۔ گوجرانوالہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر تھا۔ سیالکوٹ کے علماء پیر سید بشیر احمد، نعیم آسی، حافظ محمد صادق رحمہم اللہ وغیرہ حضرات ہمارے پاس تشریف لائے اور مشورہ ہوا کہ پتا کرنا چاہیے کہ ہمارا آدمی ہمارا مبلغ کس نے اغوا کیا ہے، اور اس کے ایم ایم احمد والے پس منظر کو سامنے رکھ کر اس پر بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ مختلف جگہوں پر احتجاجی جلسے ہوئے اور ہم نے ڈویژنل سطح پر باقاعدہ ایکشن کمیٹی بنا لی۔ ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ اس کو بازیاب کرو اور انکوائری کرو کہ کس نے اغوا کیا ہے۔
ڈویژنل ایکشن کمیٹی میں چند آدمی بنیادی کردار تھے: مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد تھے جو ختم نبوت کے امیر رہے ہیں، اہل حدیث علماء میں بڑے عالم تھے، ختم نبوت کے معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ کامونکی کے امجد علی چشتی کے والد حاجی لطیف احمد چشتیؒ بریلوی مکتب فکر کے بڑے راہنما تھے، وہ بھی ہمارے ساتھ تھے، میں تھا، علامہ محمد احمد لدھیانویؒ ، ڈاکٹر غلام محمد ؒ، مولانا عبد العزیز چشتیؒ، مولانا خالد مجددی اور حکیم محمود بھی ہمارے ساتھ تھے۔ یہ سارے حضرات اس کمیٹی میں تھے۔ ہم نے اسلم قریشی بازیابی کمیٹی کو ایک باقاعدہ منظم شکل دی۔ لطیف احمد چشتیؒ ہمارے صدر تھے، حکیم عبدالرحمٰن سیکرٹری جنرل اور میں سیکرٹری اطلاعات تھا۔ ہم نے کامونکی ، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں جلسے کیے اور موومنٹ شروع ہو گئی۔
(جاری ہے)