Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

تحریک ختم نبوت ﷺکی چند یادیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس زمانے میں میجر (ر) مشتاق احمد گوجرانوالہ کے ایس پی تھے ، وہ ڈی آئی جی گوجرانوالہ بھی رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہماری مخاصمت شروع ہو گئی کہ وہ قادیانی ہے۔ شاید وہ قادیانی نہیں تھا لیکن اس پر قادیانیت کا الزام تھا کہ وہ قادیانیوں کا رشتہ دار ہے، انہیں سپورٹ کرتا ہے۔ جب کچھ بات آگے بڑھی تو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی احتجاج شروع ہو گیا کہ اسلم قریشی کہاں ہے، اسے بازیاب کرو۔ ہم اس زمانے میں بہت متحرک تھے۔ ہم نے خبروں اور جلسوں میں ٹھیک ٹھاک محاذ گرم کیا۔ اس پر مرکز بھی متوجہ ہوا اور مرکز سے تین بزرگ تشریف لائے ۔حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ جو تحریک ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل تھے، بڑے بزرگوں میں سے تھے، ان کے علاوہ فیصل آباد سے حضرت مولانا تاج محمودؒ، اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ، یہ حضرات تشریف لائے ۔ علامہ محمد احمدؒ کے گھر اس مسئلہ پر ہماری میٹنگ ہوئی کہ ہمیں گوجرانوالہ سے باہر ملکی سطح پر بھی کام کرنا چاہیے۔ بات آہستہ آہستہ گرم ہوتی جا رہی تھی۔ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو دوبارہ منظم کیا جائے۔ اس مشاورت میں تین ہم یہاں کے تھے اور وہ تین باہر سے آئے تھے۔ یہ مشورہ ہوا کہ آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کو دوبارہ بحال کیا جائے اور اس کے لیے کام کیا جائے۔
اس میں ہمارا آپس میں مشورہ ہوا کہ گزشتہ ۱۹۷۴ء کی مجلس عمل میں مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ صدر تھے، علامہ سید محمود احمد رضویؒ سیکرٹری جنرل تھے، اس لیے اس دفعہ کسی بریلوی عالم کو صدر بنانا چاہیے اور کوئی دیوبندی سیکرٹری جنرل بن جائے۔ مشورہ میں ہم نے تین حضرات طے کیے کہ ان سے بات کرنی چاہیے۔ مولانا عبد الستار خان نیازیؒ، صاحبزادہ محمود شاہ گجراتیؒ، اور علامہ محمود احمد رضویؒ۔ میرے ذمے مولانا نیازیؒ لگے کہ میں ان سے بات کروں۔ باقی حضرات کا بھی طے ہوا کہ فلاں سے فلاں بات کرے گا، فلاں سے فلاں بات کرے گا۔ مولانا نیازیؒ کے ساتھ میری نیاز مندی تھی، شفقت کرتے تھے، میں بھی ان سے ملتا جلتا رہتا تھا۔ سخت مزاجی کے باوجود ہمارا آپس میں جوڑ تھا۔ میں مولانا کے پاس چلا گیا ،ان سے ملا اور انہیں بات بتائی تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ چنانچہ ہمارا آپس میں مشورہ ہوا کہ مولانا عبد الستار خان نیازیؒ کو مجلس عمل کا سربراہ بنایا جائے اور دیوبندی علماء میں کوئی متحرک آدمی سیکرٹری جنرل بن جائے تو مجلس عمل کا آغاز کر دیا جائے۔
لیکن بات گڑبڑ ہو گئی ۔ کہا گیا تھا کہ مولانا نیازیؒ کو صدارت کے لیے تیار کریں ، میں نے دو تین ملاقاتیں کر کے مولانا کو صدارت کے لیے تیار کیا، لیکن جب ساری مہم کے نتیجے میں لاہور شہر میں میٹنگ ہوئی تو اچانک پالیسی بدل گئی کہ نہیں، صدر دیوبندی ہونا چاہیے اور حضرت مولانا خان محمدؒ کو ہونا چاہیے۔ اس پر مولانا نیازیؒ ناراض ہوگئے، ان کی ناراضگی بجا تھی، دیانتداری کی بات یہی ہے۔ مولانا نے کہا ٹھیک ہے لیکن میرے ساتھ وہاں تم نے کچھ اور بات کی تھی اور یہاں کوئی اور بات کی ہے۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا۔ چنانچہ شیرانوالہ لاہور میں دوبارہ مجلس عمل بنی، حضرت مولانا خان محمدؒ کو صدر بنایا گیا ، مولانا مفتی مختار احمد نعیمیؒ گجرات کے بریلوی علماء میں سے تھے انہیں سیکرٹری جنرل بنایا گیا۔ مفتی مختار احمد نعیمیؒ سیالکوٹ میں ایک بڑی مسجد کے خطیب اور بریلوی علماء کے بڑے مفتی احمد یار خان نعیمیؒ کے بیٹے تھے، گجرات میں ان کا بڑا مدرسہ ہے۔ اس سے پہلے وہ تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کے حوالے سے بھی متعارف تھے۔ تحریک نظام مصطفیٰ میں جو علماء گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہوئے، ان میں وہ بھی ہیں۔ ۱۹۷۷ء کی تحریک میں جب سیالکوٹ میں گولی چلی تو وہ بھی سامنے آئے ، ان کو گولیاں لگیں اور وہ ہسپتال میں بھی رہے۔ اس حوالے سے ان کا تعارف تھا کہ یہ تحریکی معاملات میں بڑے سرگرم ہیں۔ بہرحال مجلس عمل بن گئی۔ میں سیکرٹری اطلاعات بنا۔ اس تحریک میں میرا کردار ملکی لیول پر تھا۔
مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور میں نے مل جل کر ملک کے دورے کیے۔ ملک بھر میں جلسے اور کانفرنسیں کیں اور محاذ اچھا خاصا گرم کر لیا۔ الحمد للہ یہ کیفیت ہو گئی تھی اور ہم اس پوزیشن میں آ گئے تھے کہ لوگوں کو کال دے کر اسلام آباد میں اکٹھا کر لیں اور دھرنا دے کر بیٹھ جائیں۔ مطالبات میں بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اسلم قریشی کو بازیاب کیا جائے، اور دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں قادیانیت سے متعلق جو ترمیم ہوئی ہے اس کے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں، اور کچھ جزوی مطالبات بھی تھے مثلاً ارتداد کی سزا نافذ کی جائے وغیرہ۔ لیکن بنیادی دو مطالبات تھے۔ اس پر ملک بھر میں تحریک چلی اور اچھا خاصا محاذ گرم ہوا۔ سکھر ،حیدر آباد اور پشاور میں بڑی بڑی کانفرنسیں اور اجتماعات ہوئے اور میدان ایک دفعہ پھر گرم ہو گیا۔
محمد خان جونیجو صاحب کا دور آیا ، وہ وزیراعظم بنے تو ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ ہم نے اسلام آباد میں کال دے دی، لوگوں کو کہا کہ جمعہ اسلام آباد پڑھنا ہے تو لوگ ایک دن پہلے پہنچ گئے کہ حکومت رکاوٹیں کھڑی کر دے گی۔ اس میں ایک لطیفہ یہ ہوا کہ انہوں نے ناکہ بندی کر رکھی تھی اور ہم نے طے کر رکھا تھا کہ ہم نے ہر حال میں پہنچنا ہے۔ چونکہ جو پرانے کارکن تھے انہیں پتا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ بعض حضرات نے اپنا حلیہ بدلا۔ یہ طریقے سیکھنے پڑتے ہیں جو ہم نے سیکھے ہیں۔ راستے میں انہوں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا ادھر ایک بندے سے کام ہے۔ انہوں نے پوچھا جمعہ کہاں پڑھنا ہے؟ ہم نے کہا جہاں آگیا پڑھ لیں گے، اس طرح ہم نکل گئے۔ حضرت مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ مجلس عمل کے نائب صدر تھے، وہ آئے تو ان کو اسلام آباد میں روکا گیا۔ وہ آتے ہی بولے کہ تم جانتے نہیں ہو میں مجلس عمل کا نائب صدر ہوں۔ انہوں نے کہا جی تشریف لے آئیں اور انہیں تھانے میں لے جا کر بٹھا دیا۔ اور بھی کئی حضرات کو تھانے میں لے گئے تھے۔ بہرحال لوگ اسلام آباد پہنچے، وہاں جمعہ پڑھا، جلسہ ہوا، شام کو ہماری میٹنگ ہوئی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں