بال و پر پرندے کی متاع عزیز ہوتے ہیں ، انہیں ہی زینت قفس بنا دیا جائے تو پرندہ اڑان کیسے بھر سکتا ہے ۔وہ جو درباری اردو زبان کے عشاق ہیں وہ اپنی متاع ان پر لٹا رہے ہیں جن کی روزی روٹی ان سے وابستہ ہے اور ہمارا بھروسہ تو رب پر ہے جو دونوں جہاں کا مالک ہے ۔سرکار اپنی بے اختیاری کا سارا غصہ کسانوں پر اتار رہی تھی کہ دفعتاً خیال آیا کہ قلم کے مزدوروں کی خبر پہلے لے لیں جنہوں نے کسانوں کے ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کا سارا ذمہ خود اٹھا لیا ہے وہ جن کو ڈرا دھمکا کر چپ رہنے پر مجبور کیا جارہا تھا اور قیدو بند کی صعوبتوں سے دو چار کیا گیا،صحافی ان کی صدائے صد سوزوآواز بن گئے ، تو ریت پر کھڑے حکمرانوں کے دل و دماغ میں یہی سودا سمایا کہ جن کے قلم کی منقار منفعت اور مراعات و مفادات سے قابو نہیں ہوتیں انہیں ہتک عزت کے قانون کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے ۔مگر
دروغ مصلحت جب عروج پہ ہو
تو آس پاس کہیں چیختی ہے سچائی
جسٹس جہانگیری سچ کی زبان بن گئے ہیں۔ ان کے تیور سے عیاں ہے کہ جلد کچھ ایسے فیصلے صادر فرمائیں گے کہ اقتدار کی یہ عمارت جو کچی اینٹوں اور گارے سے تعمیر کی گئی ہے دھڑام سے زمین بوس ہوجائے گی ۔
سچی بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جو بڑے چائو سے میاں نواز شریف کو لائی تھی اور وہ بھی چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے خواب کے گھمنڈ میں سرتا پاسر شار تھے مگر یک لخت میاں صاحب کے خواب کی تعبیر چھین لی گئی اور وہ بے چارے خود تو بے بس ٹھہرے مگر جاوید لطیف کو اپنے مطلب کی بات کہنے پر مامور فرما رکھا اوروہ اپنے طاس رباب پر میاں صاحب کے دکھ درد الاپتے ہیںگویا کہ
انہیں کے مطلب کی کہہ رہا ہوں زبان میری ہے بات ان کی
انہیں کی محفل سنوارتا ہوں چراغ میرا ہے رات ان کی
اس لحاظ سے رانا ثناء اللہ سیاسی ماہر نکلے کہ چو مکھی کھیل رہے ہیں اور صلہ بھی پالیا ۔دراصل یہ ہمارے سیاسی جوہڑ کی ایسی مچھلیاں ہیں جو جل کے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔انا یا ضمیر ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ پنجاب ہتک عزت ایکٹ بل2024کہ جس کا دائرہ کار پورے پنجاب تک ہوگا اور یہ فوری طور پر نا فذالعمل ہوگا ۔تقریباً اٹھائیس دفعات پر مشتمل ایکٹ کی تفصیل اتنی طویل ہے کہ بیان کے لئے کئی کالم درکار ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے بیان میں سہوا کسی لفظ کی اونچ نیچ ہوجائے بیان کنندہ ہتک عزت ایکٹ کے جرم کی پاداش میں دھر لیا جائے ۔ویسے ایکٹ کے مندرجات دیکھ کر یہ اجاگر ہوتا ہے کہ یہ برسوں کی محنت کا ثمر ہے ۔جسے تیار کرکے رکھ لیا گیا تھا اور ابھی چوری کے مینڈیٹ کی بنیادپرایستادہ پنجاب حکومت کے پائوں مضبوط نہیں ہوپائے کہ نافذ کردیا گیا اس پر مستزاد فوری نافذ العمل ۔
اسے پڑھ کر قوی مضمحل ہونا تو الگ بات ہے ، انگلیاں فگار سی ہوگئیں دماغ بھی شل ہے مگر رحم آتا ہے صف نازک کی حکمرانی پر کہیں اپنے تمام تر خوابوں کے حصول کے لئے زبان و قلم پر قدغن لگانا اولین ترجیح گردانا ،مگرقلم اور زبان بھلا کب رک سکے ہیں ، بے بسی جیسی بھی ہواشاروں کنایوں اور علامات و استعارات میں دل کا درد تو نکالنا ہی ہوتا ہے اور اس پیرانہ سالی میں جب قوی مضمحل ہوجاتے ہیں تو قلم اور بھی خود سر و منہ زور ہوجاتا ہے یہ اپنے بس میں نہیں ہوتا تو حاکموں کی دسترس میں کیوں کر آئے گا ۔
حضرت اقبال ہوں کہ ابوالکلام ، امیر شریعت حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ہوں یا آغاشورش کاشمیری ہم ان کے خوشہ چین ہیں ان کی سنت کی ادائیگی میں زبان کٹ جائے یا قلم چھین لیا جائے اب حق بات کہنے سے تو باز نہیں رہ سکتے ۔حقیقت یہ ہے کہ بات سن پائیں گے تو کچھ کرپائیں گے وگرنہ سب بے سود ہے ، کالے قوانین وضع کرکے پہلے کون راجدھانی کو مضبوط و مستحکم کر پایا ہے کہ آپ کوئی ایسا معرکہ سر کر لیں گے کہ تاریخ میں زندہ رہ جائیں ، تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے اپنے حوصلوں کی دیوار مضبوط کرناپڑتی ہے کہ کوئی ناحق ٹکرائے تو خود پاش پاش ہوجائے ، حق کو کون شکست دے سکا ہے جو آپ اسے دیوار سے لگا دیں گے۔
ہمارا کام ہے رت بدلنے کی خبر دینا
سجاکر اس کی چوکھٹ پر گل تازہ چلے آنا