Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

اقتدارو اختیار ہر وقت کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں رہتا

قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے،دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا ’’بیت المال کس طرف ہے؟‘‘
میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا، میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس ’’کھوتی‘‘پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تا کہ انہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پائوں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
وہ ہم ہی تھے ، ہم میں سے تھے ، جنہیں ہم نے اپنے ایمان و یقین سمیت دفن کر دیا ۔یہ آزادی کے بعد کی بات ہے اور ابھی وہ لوگ حیات ہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ، مگر وائے افسوس ان سے کچھ سیکھا نہیں ۔قدرت اللہ شہاب کو اس بوڑھے اور بڑھیا کے مجسمے بنواکر ، ان پر ان کے کردار وعمل کی تختیاں لگوانی چاہئیں تھی شائد انہیں پڑھ کر شرم و حیا کے در وا ہوتے ، نئی نسل کو کوئی سبق ملتا ۔قدرت اللہ شہاب کے بعد کی دو نسلیں جنہیں اسی ملک اسی دھرتی اور اسی مٹی نے زمیں سے آسماں تک پہنچایا ، تحت الثری،سے اوج ثریا پر کھڑا کیا ، وہ اس ملک کو بھنبھوڑنے اور نوچنے سے پہلے کچھ تو سوچتے مگر ہم نے خیر کی کوئی نشانی باقی نہیں رہنے دی ۔ ہر باعمل آدمی کے اعمال پر اپنی بد اعمالیوں کا پردہ ڈال دیا وہ جو خود تہی دست رہے مگر ہماری جھولیاں بھر گئے ہم نے انہیں تاریخ کے قبرستانوں میں دفن کردیا مگر وہ اب بھی زندہ و تابندہ ہیں اور ہم خود کو تاریخ کے کوڑہ دانوں کا رزق بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر عبرت پکڑنے سے عاری ہیں اور یہ جو ہم زندہ ہیں اور زندگی کی رعنائیوں کے مزے اڑا رہے ہیں یہ انہیں کھوتی پر سونا لاد کر قومی خزانے بھرنے والوں کی برکت کے طفیل ہے ، وہ مر کر بھی زندہ ہیں ،ہم زندہ ہوکر بھی مردہ ہیں ۔نہ ہمارا ضمیرزندہ ہے نہ غیرت و حمیت ۔اقوام عالم نے بدی کے سارے تمغے ہمارے سینے پر سجائے ہوئے ہیں ۔ہم دنیا کی نظروں میں دہشت گرد ، بنیاد پرست ،غیر ترقی یافتہ اور جاہل و غیر مہذب لوگ ۔دنیا کی چھٹی اور مسلم امہ کی پہلی ایٹمی قوت مگر بدعنوانی میں لت پت سر سے پائوں تلک بد اعمالیوں اور بے اعتدالوں میں ڈوبی ہوئی۔ اقتدار کا سنگھاسن پر متمکن تو تو رواں رواں انتقام کی آگ میں ڈوبا ہوا ہر پل اپنے مخالف کو اپنے قہر کا شکار بنانے میں غرق ، وہ جن کے ووٹ سے اقتدار تک پہنچے ان کے حقوق سے نابلد اپنے فرائض سے غافل اور اگر اقتدار چھن جائے تو ریشہ دوانیوں ،کاسہ لیسیوں اور سازشوں میں ملوث ۔یہ ہے ہماری قومی نفسیات ۔ خودداری کی بجائے خود پسندی ، خودی کی بجائے خود ستائشی ہماری خصلت ۔یہ سب ہماری راہ کے پتھر ہیں جو ہم نے خود اپنے راستے میں بچھائے ہیں ۔وہ قوانین اور ضوابط جن کی ہم نفی کرتے رہے اب اپنے ہاتھ میں اختیار آیا ہے تو انہی اختیارات کے ذریعے مخالفین کو پابند سلاسل کرنے کی تدبیریں ۔قوم کی خوشحالی بارے پالیسیاں بنانے کی بجائے حکومت کے سارے وسائل اپنے مصاحب، اپنے خوشامدیوں اور قصیدہ خواہوں کی نذر کرنے کی روش ۔یہ سب کیا ہے ؟ ملک ڈوب رہا ہے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہاہے ۔اس میں شک نہیں کہ مہنگائی کا منہ زور گھوڑا کچھ تھما ہے مگر وہ جن میں اس حرام کی کمائی کا دھن موجود ہے وہ اشیائے ضرورت سے اپنے گودام بھر رہے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب مصنوعی اور وقتی دکھلاو ہ ہے ، پھر کچھ ہی دن بعد کساد بازاری کے سب دروزے کھل جائیں گے روٹی جو واقعی سولہ روپے کی ملنے لگی ہے پھر پچیس کی ملا کرے گی ۔ دیانتدار لوگوں کی ضرورت ہے وہ مخالف جماعت سے کیوں نہ ہوں انہیں اخیارات سونپیں مارکیٹ کمیٹیوں میں شامل کریں ۔وہ کم از کم سیدھے کو الٹا تو نہیں کریں گے ۔
یہ وقت کالے قوانین کے نفاذ کا نہیں ، بے خواں نما ، مفلس و بدحال لوگوں کی حالت کو بدلنے کا ہے ، اسی کو اپنی توجہ کا مرکزو محور بنائیں ۔اسی سے آپ کا ٹوٹا ہوا اعتماد پھر سے بحال ہوگا کرنے کے کام کریں وگرنہ برا وقت دیکھنے کے لئے تیار ہوجائیں وقت کی مہربانی کا تھان ہر وقت آپ کے لئے کھلا نہیں رہنا اسٹیبشمنٹ کی ہمدریاں بھی قابل اعتبار اور پائیدار نہیں ہوتیں اور اوپر والے بھی مفت میں مہربانیاں نہیں بانٹتے ۔مٹ جانے سے پہلے مان جانے والے بن جائیں تو خیر کے دروازے کھلیں گے وگرنہ مانگے تانگے کے اقتدار پر کب تک گزارہ کر پائیں گے کہ اقتدار و اختیار ہر وقت کسی ایک کے ہاتھ میں کبھی نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں