Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

نیا سیاسی بیانیہ اور مولانا فضل الرحمن

تحمل ، برداشت ،حوصلہ ، سنجیدگی اور متانت ،یہ بندے کے ذاتی اوصاف ہوتے ہیں جو اس کی عزت ، وقار اور توقیر میں اضافہ کرتے ہیں ۔اس کی شخصیت کو کرشمہ ساز و رمز شناس بناتے ہیں ۔ان میں سے کوئی ایک وصف بھی کامل نہ ہوتو بندہ معجزہ نمائی سے محروم ہوتا ہے ۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود وہ خود کو محروم و مظلوم گردانتا ہے کیونکہ وہ بھروسے کی دولت سے تہی دست ہوتاہے ۔اس کا یقین محکم نہیں ہوتا ۔اس میں اعتماد کا فقدان ہوتا ہے اور ایک بظاہر نہ دکھائی دینے والی کمی اسے کمتر بناتی چلی جاتی ہے ۔
وہ نہ تو بے عمل ہیں ، نہ علم کے بحران کا شکار۔گویا کہ ایک عالم باعمل ہیں ۔دینی اور دنیوی علوم پر دسترس، سماجی ، معاشی اورنظریاتی مفکراور سیاسی مدبر ہیں۔ صاحب کردار ہیں ، پاکستان کا کوئی ایسا سیاستدان نہیں جو بدعنوانی کے کئی کئی مقدمات میں ملوث نہ ہو ، مگر یہ واحد سیاستدان ہیں جن پر آج تک کوئی ایسا مقدمہ دائر کیا گیا ہو کہ انہوں نے بدعنوانی کی یا قومی خزانے کوایک پائی کا بھی نقصان پہنچایا۔اور یہ ان کی شخصیت کی کرامت ہے ۔ریاست اور حکومت کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں بدعنوان بد خصلت افراد موجود نہ ہوں یہاں تک کہ پارلیمان تک میں ایسے داغدار لوگ موجودہیں جو پوری قوم کی نظروں میں کھٹکتے ہیں مگر ان کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں ۔
یہ واحد شخص ہیں جن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ، گزشتہ پینتیس چالیس سال سے پارلیمان میں بھی موجود ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی حکومتی عہدہ بھی ان کی مجبوری اور کمزوری ہے،بس اسی ایک خامی کی وجہ سے وہ تنقیدو تنقیص کی زد میں رہتے ہیں ۔
اقتدار کاجل ہی ایسا لازمہ ہے جو انہیں نفس ناطقہ بننے کی جانب راغب و مائل رکھتا ہے ۔اس بار لگتا تھا انہوں نے خود پر قابو پالیا ہے اور ناروا راستے سے اقتدار پر قابض ہونے والوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لئے بھر پور تحریک چلائیں گے ۔آٹھ فروری کے بعد انہوں نے جتنے بھی بیان داغے سب میں جمہوری اقدار کی پامالی ،جمہور کے حقوق پر ڈاکہ زنی اور ایک سیاسی جماعت کا حق غصب کرنے کی واشگاف مذمت کی ۔ انہوں نے اپنی ہی قیادت میں قائم ہونے والی پی ڈی ایم کے سیاسی کردار پر جارحانہ تنقید کی اور پی ڈی ایم حکومت کے غیر جمہوری رویوں پر ندامت کا اظہار تک کیا اور اسٹیبلشمنٹ کی برہنہ مداخلت پر حرف گیری کرنے میں کوئی لحاظ یا رورعایت نہیں برتی ۔یہ ان کا قابل تحسین طرز سیاست تھا ۔انہوں نے حکومتی عہدوں پر دو حرف بھیجے اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے جمہوری موقف پر ڈٹ گئے ۔ اس بار وہ عزم و ارادے کا کوہ گراں محسوس ہورہے تھے ۔
مگر اقتدار کے جل کی رغبت و خواہش پر زیادہ دیر قابو نہیں پاسکے اور اپنے بادہ خواں ، بادہ فروشوں اور بادہ سنجوں کے جال میں پھنس کر پھر سے ارادوں کی دیوار گرانے پر مجبور ہوئے۔ بڑوں نے فرمایا اور بالکل سچ فرمایا کہ تاریخ کے عمل سے انکار نہیں کیا جاسکتا،قدرت حالات پیدا کرتی ہے اور انسان ان حالات کے ہاتھ میں بسا اوقات کھلونا ہوجاتا ہے تاریخ کے دھارے میں شامل کسی بھی شخص سے ایسا ہوسکتا ہے تاہم تاریخ کے تجربے اور تاریخ کے اپنے ہی فیصلے ہوتے جو کسی کے لئے عزیمت کی وجہ بن جاتے ہیں اور کوئی ہزیمت کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔اسی کوتاریخ کی بے رحمی کہتے ہیں، کبھی کبھی خود اعتمادی بھی ایسا ہی فریب دے جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان نخوت میں گرفتار ہوتا ہے ، عاجزی سے دو چار قدم پیچھے ہٹ کر فیصلے کرنے لگ جاتاہے ۔یہ بجا کہ پی ٹی آئی نے ان کی پذیرائی کو ہاتھ نہیں بڑھایا انہیں اپنے موقف کی پائیداری پر حمایت کا کوئی اشارہ نہیں دیا، شائد بانی پی ٹی آئی نے یہ محسوس کر لیا کہ مولانا کی ساری کتھاگت صدارت کے منصب کی راہ ہموار کرنے کے لئے ہے یوں شاید وہ برس ہا برس سے اپنے من میں دبی خواہش اور آنکھوں میں سجے خواب کی تعبیر پالیتے ، مگر یہ کیوں کر ہوسکتا تھا۔یوں ان کا خواب اور وہم دونوں ایک ساتھ معدوم ٹھیرے۔
تو خواب تھا تو مجھے نیند سے جگایا کیوں
تو وہم تھا تو مرے ساتھ ساتھ کیوں نہ چلا
یہ مگر بدگمانی بھی ہوسکتی ہے ، مگر پھر بھی ہواکا رخ دیکھ کر مولانا کا مقتدر حلقوں کی طرف جھکائو ان کی عزیمت پر آنچ کا سبب بن سکتا ہے ۔پارلیمان میں ان کی تعداد کم سہی مگر دلوں پر ان کی جاگیر کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسجد و محراب سے ان کا رشتہ ابھی ناتواں نہیں ہوا اور مسجد تو ملک کی ہر گلی میں کھڑی مالک کائنات کے جاہ و جلال کا اعلان دن میں پانچ وقت کرتی ہی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں