Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

انڈین الیکشن اور ہمارا جینا مرنا!

ایسا نہیں کہ کوئی بڑا بول بولے اور اس کا پول نہ کھلے ، قدرت کا قانون اٹل ہے ، اس کے فیصلے آب پر لکھے نہیں ہوتے کہ نقش کھو دیں وہ پتھر پر لکیر ہوتے ہیں ۔بھٹو نے کرسی پرمکا مار کر اسے خود سے جدا کر لیا ،آمر ضیا کا حشر کسے یاد نہیں اور اندرا گاندھی کا دعویٰ بھی مرمٹ گیا تھا کہ کھمبے کو ٹکٹ دوں تو کامیاب ہو جائے اب مودی نے چار پار کا بھاشن دیا اور ریل پٹڑی سے اتر گئی۔سیاسی پنڈتوں کوآخر دیش واسیوں نے دھکا دے کے اس پار کردیا۔بھلے مودی ریشہ دوانیوں کے آسرے پر پھر حکومت کے سنگھاسن پر بیٹھ جائے مگر چال چلن بدلنے ہوں گے بھارت جنتا بھتیری ٹامک ٹوئیوں میں جیون کھپا چکی ، دولت شاہ کا سکہ بہت چلا اور چپکے سے مودی کوغرور کی سزا کے دوارے کھڑا کردیا ، رام اور وشنو کا اوتار اوندھے منہ گر پڑا ۔مودی نے جیبھ کے وار چلائے ، جیلیں بھریں ،پارٹیوں کو آپس میں لڑا کر پارہ پارہ کیا میڈیا کے ذریعے طوفان بپاکیا مگر جس رام کے لانے کا دعویٰ کیا وہ بھی منہ پھیر گیا ۔مودی کو یہ گھمنڈ تھا کہ پورا دیش اس کی مٹھی میں ہے مگر مٹھی میں ریت تھی جو دھیرے دھیرے پھسلتی چلی گئی اور بھگوان ہونے کے خمار اورمستی نے ہنڈیا بھرے چوک میں پھوڑ دی اور مودی جی کی اہنکاری انہیں لے ڈوبی ۔پڑھے لکھے ووٹر نے متعصب ہندو کا کریا کرم کردیا گو سیکولر وں کو بھی اوقات سے باہر نہیں آنے دیا تاہم ہندو دھرم کے اندھے راج کا دور ختم ہوا ۔سیکولرازم کارگ الاپنے والی پارٹیاں جو دس سال کسی بڑی مزاحمت دکھانے سے محروم رہیں عین انتخابات کے موقع پر اپنی بلوں سے نکلیں ، اور بی جے پی کے عزائم کھولنے کی کوشش کی مگر اپنا آپ کھل کر بیان کرنے میں کچھ زیادہ آمادہ نہیں رہیں مگر جنتا کی اپنی فکر ہی مودی کی پیش پافتادہ سوچ کو اور برداشت کرنے سے معزور ٹھہری ، تعصبات بھرا جیون اور کس قدر سہا جاسکتا تھا ۔
مودی کی الٹی پلٹی دسیسہ کاریوں سے بی جے پی پھر اقتدا ر میں آبھی گئی تو زیادہ دیر چل نہیں پائے گی ،نئی نسل کا کوئی خواب پنپ نہیں پائے گا۔ بھارت کی ننگی جارحیت کا زور نہ ٹوٹا تو اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے بچ نہیں سکے گا۔
کچھ بھی ہوجائے مودی سر کار کو طاقتور حلقوں کا خوف نہیں ہے کہ اچانک سے کوئی افتاد ٹوٹ پڑے ۔یہ ہم ہی ہیں جنہیں ہر پل اپنے سروں پر خطرات منڈلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں‘ پچھتر سال سے کوئی مستحکم و مضبوط حکومت قائم نہیں ہونے دی گئی۔اداروں کا ناروا ردار اسٹیبلشمنٹ کی بے جا مداخلت اور مقتدرہ کے کردار نے عوام کے مینڈیٹ کو توقیر سے محروم رکھا ۔ سیاستدانوں کو عزت و وقار اور خود انحصاری سے کام نہیں کرنے دیا گیا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت و افلاس کے خاتمے کے لئے کوئی اقدا م نہیں کیا گیا ۔لوٹ مار کے نظام کے سامنے کوئی دیوار کھڑی نہیں کی گئی ۔وسائل کے سارے دروازے حکمرانوں اور ان کے قرابت داروں پر کھلے رکھے گئے ۔وسائل کی غیر مساوی تقسیم نے افلاس کو فزوں تر کر دیا ۔مراعات کے سب در ایوانوں کے اراکیں اور اسٹبلشمنٹ کے لئے کھلے رکھ دیئے گئے ، رشوت ، بدعوانی اور کساد بازاری کوفروغ دیا گیا ۔عوام کے لئے بجلی گیس مہنگی اور مراعات یافتہ طبقات کے مفت سہولیات جس پر آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے قرض دیتے ہوئے کوئی شر ط عائد نہیں کی ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب پر کسی ادارے یا طاقتور آدمی کی توجہ نہیں گئی۔عوام کے ووٹ کو عزت د ی گئی نہ ان کے وقار کا کوئی نظام تشکیل دیا گیا۔اداروں کے سربراہوں کے اختیارات اور مراعات بڑھا دی گئیں اور ملک کے چھوٹے ملازمین اور کسانوں تک کا جینا دوبھر کر دیا گیا ہے۔ ٹیکسوں کی بھر مار ہے ماچس کی ڈبیہ سے لے کر ضرورت کی ہر شے پر ٹیکس ۔عام آدمی کی فکر کسی کو نہیں دوکاندار مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ۔غربت بڑھتی جارہی ہے۔متوسط طبقات کی زندگی رگ جاں سے مفقود ہونے کو ہے ۔
سیاستدان اپنی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں جنہیں سہولت کاریاں مہیا کرکے رام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ان کی رعونت میں اور اضافہ ہورہاہے وہ اپنے حق کے دائرے سے بڑھ کر امید پر قائم ہیں اور سرکار کاعالم یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے بوجھ تلے دبی جارہی ہے ، معلق فیصلے ،منتشر سوچ ، بوکھلاہٹ چہروں سے ہویدہ ، ہر معاملے میں عجلت ، بجٹ میں سارا بوجھ یقینا عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جائے گا۔عشرت کدوں کو آباد رکھنے کی سعی کی جائے گی ۔مہنگائی کا سد باب کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔بھرے گھر بھرنے کی روایت کون توڑ سکتا ہے ۔کس کو افتادگان خاک کی فکر لاحق ہے کون اپنے اور اپنے جیسوں کی فکر سے آزاد ہوکر نیچے کی جانب دیکھتا ہے ، کس کو فرصت ہے کہ غریب کے گھر میں ایک پنکھا چلنے کی سہولت عنایت کردے اپنے گھر کے سارے اے سی کھلے رکھنے کے باوجود ۔کفر کے ماحول میں جینے والے رجعت پسندی کے خوف سے نجات کی راہ نکال رہے ہیں اور ہم کلمہ گو اپنوں کے ہاتھوں سے مرنے کے ڈر سے مرے جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں