Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مکالمے کی میز آپ کی منتظر ہے

موقف پر ثابت قدم ہو جانا عزیمت ہوتا ہے مگر ضد پر اڑ جانا ہزیمت پر منتج ہوتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کئی محاذ پر ایک ساتھ نبرد آزما ہے ، مگریہ بھی ضروری ہے وہ ہر محاذ کے لئے خود کو خاص نہ سمجھے ، یوں ایسے لگے کہ وہ خودکو عقل کل گردانتا ہے ۔اس کے اب تک کے رویوں سے ایسے ہی لگتا ہے ۔اپنی منوانے کے لئے کسی کی ماننے کی گنجائش رکھی جاتی ہے ۔جس کا حوصلہ اس کے اندر کم کم ہی ہے ۔یہ گھمنڈ ہی تو نخوت کہلاتا ہے اور وہ سر تا پا اسی میں ڈوبا ہے ۔
اسے اپنے چھینے ہوئے اقتدار سے محض غرض ہے ، اسے یہ فکر نہیں کہ جنہوں نے اس کا مینڈیٹ چرایا ہے وہ ریشہ دوانیوں کے ماہر ہیں ، انہیں چاپلوسی کے فن میں مہارت حاصل ہے وہ پائوں پڑ کر لینے میں کوئی ہزیمت باور نہیں کرتے ۔آپ ان کے لئے موقع پر موقع فراہم کئے جاتے ہیں ۔آخری حل یہی ہے جو نظر آتا ہے کہ عدلیہ کے رکن جو اس کے موقف کی تردید پر نہیں تلے ان کی رائے کو اہمیت دی جائے ۔وقت ایک سا نہیں رہتا ، ناں ہی حالات۔پھر آپ کا اپنا قول ہے کہ لیڈر کو یو ٹرن لینے پڑتے ہیں تو پھر وقت چیخ چیخ کر آپ سے ایک یوب ٹرن کا تقاضا کر رہا ہے ۔وہ جن کے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے وہ کاروباری طبقے سے ہیں، اپنے تھوڑے منافع پر قوم کے بڑے گھاٹے یا نقصان سے انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا مگر وہ نسل جس کی امیدوں کے سب دروازے آپ کی جانب کھلتے ہیں ان کے حوصلوں کی دیوار میں پڑنے والی دیواریں خستگی پر مائل نہ ہوجائیں۔ بہت کھیلا جا چکا اس نسل کے جذبات و احساسات کے ساتھ کچھ دم کو اسے بھی فکرو عمل پر سوچنے کی فرصت دیجئے۔
مکالمہ ، مکالمہ ہی آخری حل رہ گیا ہے ، اس دھرتی کامسروقہ مال کس سے برآمد ہو سکا ہے جو آپ وصولی کی امید لگائے ہوئے ہیں ، مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کھلونے چھیننے ہیں تو مکالمہ کرنا ہوگا ۔ریت کی دیوار گرانے کے لئے ہوائوں کی احتیاج ہوتی ہے اور اس وقت ہوائوں کا رخ آپ کی طرف ہے ۔جو کسی کی نہیں مانتا وہ اپنی کبھی نہیں منوا سکتا ۔سابق صدر عارف علوی آپ کے کیمپ کے ہیں وہ بادباں کھلنے کے واضح اشارے دے رہے ہیں ۔وہ اندازہ لگا چکے ہیں کہ لوہا گرم ہے ، اب ہلکی سی چوٹ سے اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے ۔برف پگھلنے کے آثار نما یاں ہیں ، عقل ود انش پر دستکوں کو محسوس کریں ، بہت ضروری ہے ، آپ سے اس امید کی قطعی امید نہ رکھنے والے آپ کو گریزگی پر مائل کر رہے ہیں ، وہ ان کے ساتھ ہیں جن کے گھر چرائے ہوئے مال سے لبا لب ہیں ۔وہ ان کی ضیافتوں کے خوگر ہیں ، انہیں کے نمک خوار ، انہی کی رسوئی کے رسیا ، مگر منافقت کی ریت میں سر دبائے رکھنا ان کی دیرینہ روش ہے ۔ان کی چڑیا کی منقار لٹیروں کے گیت الاپتی ہے ۔وہ ہاتھی کے دانت رکھتے ہیں ، ان کے جھانسے میں آگئے تو حاصل حصول کے سب در ایک ایک کر کے بند ہونے لگیں گے۔
بڑے سیاستدان اور مقبول جماعت کے گھمنڈ میں ایسے فیصلوں کی سان پر مت چڑھیں کہ ریزگی کا وقت دیکھنا پڑے ۔
وہ جو بڑے کھلاڑی ہونے کے دعویدار ہیں اور انہوں نے ہی میاں صاحب کو اور مولانا صاحب کو بند گلی میں کھڑا کیاہے اور اپنا اگلا شکار وہ آپ کو بنانا چاہتے ہیں وہ سول بیوروکریسی کے ایسے چہیتے ہیں کہ انہوں نے ایک نئے نویلے لاڈلے کی خوش فہمی کی نائو دہاڑے ڈبو دی اور لاڈلا آج تک اس حیرت سے نکل نہیں پارہا ۔
اسے سوالیہ نشان بنا رہنے دیں ۔سازشوں کے جو نئے جال بنے جارہے ہیں ایک زور دار بامعنی مکالمہ ہی ان کا توڑ ہے ۔
مکالمہ کیجئے ، جو آپ کی شرائط پر ہی امکان کے زینے طے کرے گا ۔آپ اس حوصلے کی دیوار تو استوار کریں بہت سوں کو اس دیوار پر لکھے نوشتے پر دستخط کرنے پر مجبور پائیں گے۔
کسان آپ کے پیچھے کھڑا ہے ، مزدور آپ کے ہمراہ ہے ، سرکاری ملازم آپ سے امید لگائے ہوئے ہیں ، اساتذہ آپ پر بھروسہ رکھتے ہیں ، گاڑیبان ہوں کہ ٹھیلے والے ، سب راندہ درگاہ ، افتادگان خاک اور بے خانماں آپ ہی سے توقعات لگائے ہیں ۔ان سب کی خواہش ہے کہ آپ نخوت اور گھمنڈ کے پہاڑ سے اتر کر ایک بار مکالمے کی میز پر بیٹھ جائیں ۔پھر راج کرے گی خلق خدا۔ انشااللہ

یہ بھی پڑھیں