ایک تو سال رواں کے بجٹ میں افتادگان خاک کی متاع حیات خس و خاشاک کی جتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی اس پر مستزاد یہ کہ انہیں استبداد کے خلاف نالہ ہائے شیون اور دل ناآسودہ حال کی بھڑاس نکالنے کے لئے سڑکوں پر آنے کی اجازت بھی سلب کر لی گئی ہے ۔حالات کا جبر تو یہ ہے کہ متوسط طبقے کے چند خاندانجو دووقت کی روٹی آسانی سے کما اور کھالیتے تھے انہیں بھی نان جویں کی محتاجی کی طرف دھکیل دیا یے ، انہیں کے رزق پر اندوناک شب خون مارا گیا ہے جو شبانہ روز محنت کرکے اپنے بچوں کو پڑھالکھا کر وطن میں اور وطن سے باہر مشقت کاٹ کر زر مبادلہ بھیج کر ملکی معیشت کا بوجھ بانٹتے ہیں ۔یہ اہمیت دی ہے ان بے خانماں مزدوروں اور پیشہ وروں کو جو سخر دوپہروں میں صحراؤں کے سینے چیر کر درہم اور ریال بھیج کر قومی خزانے کا حجم بڑھاتے ہیں ۔ان کے بچوں کے منہ سے لقمے چھین کر انہیں خون کے آنسو رلارہے ہو اور انہیں اپنی بے بسی اور بے کسی پر ماتم بھی نہیں کرنے دیتے ۔ان کی رگ جاں میں اٹھنے والے اضطراب و بے چینی، آہ وفغاں اور حسرت ویاس پر مرثیہ خوانی بھی نہیں کرنے دیتے۔مفلسوں کو بے نوا و شکوہ سرا ہونے پر مجبور کیا اور اپنی چوری کے مینڈیٹ کا تحفظ کرنے والے ایم این ایز کے لئے پچھتر ارب رکھ دیا ۔ہر ایم این اے کو جو بیس کروڑ ملیں گے وہ اپنے حلقے کے لوگوں کی خوشحالی پر کتنا خرچ کرے گا ۔کس کس گھر کے ٹھنڈے چولہے روشن کریگا ۔کتنے سکول ، کتنےبنیادی صحت کے ادار ے اور کتنی چھوٹی صنعتیں لگائے گا ۔کوئی نہیں ، مطلق کوئی نہیں ۔اس کے اپنے گھر میں گھی کے چراغ جلیں گے ۔ان کے اپنے بچوں کا علاج امریکہ اور برطانیہ میں ہوگا ۔ان کے عشرت کدے آباد ہونگے ۔غریب جس کے گھر میں ایک بلب اور ایک پنکھا چلتا تھا وہ تو اتنی سی بجلی استعمال کرنے سے بھی محروم ٹھہرا۔تم اس کے ایک ایک سانس پر ٹیکس لوگے اور سڑکوں پر بھی نہیں آنے دوگے تو پھر بھی ان کی آہ و بکا سے ان کی بددعاؤں سے تمہارے استبداد کے ایوان لرزنے سے نہیں بچیں گے۔تم نے غریب کسان کی گندم کو بے مول کردیا ، اسے کسی قیمت پر خریدنے کو تیار نہیں ۔وہ گلی گلی ڈھیر لگائے مٹی کے بھاؤ گندم بیچ رہا ہے اور تمہارے ایوانوں کے ذریعے مراعات سمیٹتے ہزاروں ایکڑ کے جاگیر داروں پر کوئی ٹیکس نہیں اور غریب کا بچہ ایک پنسل یا کا غذ کا ایک دستہ ہوم ورک کرنے کے لئے خریدنے جائے تو ٹیکس بھرے !پھر جب اس کی ماں ٹھنڈی آہ بھرے گی تو تم پر آج نہیں تو کل مکافات عمل کا وقت تو آئے گا، ضرور آئے گا۔سیاست مکرو فریب کا کاروبار ہے نہ فتنہ پردازی کا کھیل ، سیاست انسانوں کی خریدو فروخت کا دھندہ ہے نہ دروغ مصلحت آمیز کا داؤ پیچ ۔یہ تو ایک عبادت ہے ، خدمت خلق ہے ،معرفت رب کے حصول کا ذریعہ ہے اور آپ نے اسے حرص و آز بجھانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔حکمرانی ایک تاریخی عمل ہوتا ہے جو حکمران اسے سیاسی ضرورتوں اور مصلحتوں کا کھیل تماشا سمجھ لیتے ہیں مصحف تاریخ میں ان کا نام کہیں جگہ نہیں پاسکتا۔بلکہ تاریخ کا یہ عمل( حکمرانی) انہیں اپنے پاؤں تلے روند دیتا ہے ۔وقت کا دھارا راہ بدلتے دیر نہیں لگاتا ، حکمرانوں نے مہنگائی کے جس جن کو بوتل سے نکال کر قریہ قریہ رقص کرنے پر مامور کیا ہے اس نے غریب و امیر سب کا جینا دو بھر کردیا ہے ۔دلخراش و ہولناک ہنگاموں کا اٹھنا ایک فطری عمل ہے مگراس عمل کو توڑپھوڑ یا بد امنی کی شکل دینا اس سے بھی بڑا اور خطرناک عمل ہوگا ۔ہمارا بڑا دشمن ایسے ہی کسی لمحے کے انتظار میں ہے ،اس کی خونخوار نظریں ہمیں ہر پل گھور رہی ہیں ۔ہماری سرحدوں پر ذرہ برابر کوئی گڑبڑ ہوئی تو دشمن بڑا فائدہ اٹھالے گا ۔اس دشمن کے ساتھ شاید ہمارے وہ دوست بھی مل جائیں پچھلی بار جن کا کمک کے لئے آنے والا بیڑا خراب ہوگیا تھا اور ہم دولخت ہوگئے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری عسکری قوت ہمارے دشمن کو سبق سکھانے کا وافر سامان رکھتی ہے ۔جذبہ صداقت مستزاد۔مگر ایک حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چیرہ دستیاں ہی نہیں اور بھی کئی عوامل ہوتے ہیں جو جنگی ہتھیار کی صورت استعمال ہوتے ہیں.ویسے ہمارا المیہ تو یہ بھی ہے وراثتی سیاست ایک جونک کی طرح ہمارے نظام سے چمٹی ہے ،بعض بااصول سیاستدانوں کے سیاسی وارث وہ اصابت نہیں رکھتے جو ان سے پہلوں کی تھی مثلا ایک وزیر صاحب نے کن واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ” بانی پی ٹی آئی کو پانچ سال قید رکھا جائے تو ملک سنور جائے گا“ جہاں دانشوری کا معیار یہ ہو وہاں قوموں کی تقدیر کا سوال تو اٹھتا ہے جو ایسے لوگوں کی دستبرد میں ہے جو عہدے کی نخوت میں بے عقلی پر مشتمل بول ایسے بولتے ہیں جیسے انہوں نے تہذیب و تمدن کے ماحول میںآنکھ ہی نہ کھولی ہو ۔خلق خدا بسمل کی طرح تڑپ رہی ہے اور تم مناقشوں کو گرہ در گرہ کھولتے جارہے ہو۔بجٹ نہیں قوم پرایک پہاڑ گرا دیا اور قوم کے نمائیندے جو ا س کے ووٹوں سے فرکش ہوئے ہیں ان کی مراعات کا سار ا بوجھ ان پرڈال دیا ہے یہاں تک کہ ان کی طرف سے کنزیوم کئے جانے والے کروڑوں یونٹ بجلی کا بل بھی قوم ادا کرے گی ۔خدارا ! اپنے عشرت کدوں میں گھی کے چراغ بے شک جلائے رکھو مگر غریب کی کٹیا کا دیا بھی روشن رہنے دو۔متوسط طبقے کا بھرم تو تم نے خاک میں ملا ہی دیا ہے !