Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

زندگی کی بے معنویت کا سوال ؟

سرمایہ دارنہ نظام نے زندگی کی اصلی معنویت کو بے معنی کرکے رکھ دیا ہے۔یہاں تک کہ اب انسانیت کا مفہوم بھی انسانیت نہیں رہا ، بے حسی اور کم ظرفی میں تبدیل ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر سلمان آصف صدیقی (ای آر ڈی سی)ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ سنٹر کے ڈائریکٹر ہیں ، انہوں نے اپنے ایک مقالہ بعنوان تعلق کی ہانچ جہتیں اور عہد جدید میں تحریر فرمایا ہے کہ انسان کا جوہر اصل اس کی صفت تعلق میں جھلکتا ہے ۔
-1اپنے ساتھ تعلق2-اللہ کے ساتھ تعلق3- اپنوں کے ساتھ تعلق4-دوسروں کے ساتھ تعلق5-فطرت کے ساتھ تعلق۔
وہ لکھتے ہیں تعلق کی یہ پانچ جہتیں کسی انسان کی زندگی کی معنویت کا تعین کرتی ہیں ۔علامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں
آلات، مغربی تہذیب ، صنعتی ترقی اورسرمایہ دارانہ نظام مسلم اور غیر مسلم دونوں معاشروں میں تعلق کی ہر جہت کو مختلف انداز میں متاثرکر رہے ہیں ۔ جدید مادی سائنس اور ٹیکنالوجی نے وحشت ناک مادہ پرستی کو جنم دیا ہے ۔تعلیمی نظام سے لے کر ذرائع ابلاغ اور سیاسی اداروں سے لے کر سماجی ادارے تک سرمائے کی خدمت اور مغرب کی تہذیبی اقدار کے فروغ میں مصروف ہیں ۔ جدید انسان کی زندگی مادی کامیابی کے سراب کے عوض گروی رکھی ہوئی ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کے اس موقف کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے ان کی دانش کے حضور ایک سوال کی جسارت کرتے ہوئے عرض ہے کہ ہمارا دانشور ، مصلح اور سماج سدھار آج سے نہیں سالہا سال سے اس موضوع پر خامہ فرسائی فرمارہا ہے ۔اس کے پاس اپنے افکارو نظریات کے حق میں دلائل و براہین کے انبار ہیں ان کے اخلاص پر بھی شک نہیں کیا جاسکتا ، ان کے موقف میں اختلاف کی گنجائش بھی کم و بیش نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ معاشرے اور نظام میں ان کی اثر پذیری کی سطح اتنی کم کیوں ہے ؟
میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حضرات علمائے دانش کا مخاطب ایک خاص طبقہ ہے جس تک وہ رسائی چاہتے ہیں اور رسائی حاصل کر بھی لیتے ہیں وہ طبقہ ان افکارو نظریات کے ذریعے مغرب سے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے اور عام لوگوں تک یہ افکارو نظریات پہنچ ہی نہیں پاتے۔کیوں کے وہ مخاطب نہیں ہوتے۔رہی یہ بات کہ نئی نسل مغربی تہذیب و ثقافت سے مغلوب ہے تو یہ بھی آدھا سچ ہے۔یہ نسل بے چاری بچھڑا ہوا آہو ہے جو اپنے حرم کی تلاش میں ہے وہ کسی کی مغلوبیت کی صید کیسے ہوسکتی ہے کہ اسے تو غم روز گار ہی سے فرصت نہیں ۔ ہمیں یہ صمیم قلب سے تسلیم کر لینا چاہیئے کہ ہم پیش پا افتادہ لوگ جن کی زنبیل افکارو نظریات سے بھری ہوئی ہے مگر ہم ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ان میں نئی لفظیات کی روح پھونکے سے عاری ہیں ۔انگریز ی کے چند مخصوص الفاظ اور اصطلاحات استعمال کر کے ہم اس نسل کی تسلی کرانے سے عاری ہیں ۔ہم اپنے تعلیمی نصاب میں ایسی کو ئی گنجائش نہیں رکھتے کہ اصلی سچ ان تک پہنچا سکیں ۔ہم تو پرائمری سطح تک کے بچوں کو پورا سچ نہیں بتاتے وہ آدھے سچ کے ساتھ بلوغت کو پہنچتے تو ہمیں ان کی گمرہی کا دھیان ستانے لگ جاتا ۔ان کی بے راہ روی کا غم ہمیں چاٹنے لگتا ہے ۔ماں باپ جو آدا ب زندگی سکھاتے ہیں وہ اور ہوتے ہیں ۔
مسجد کا امام یا ان کو قرآن پڑھانے والے قاری کا اور رویہ ہوتا ہے اور جب اسکول میں داخل ہوتے ہیں تو کلچر ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔اتنے ڈھیر سارے تضادات کے بیچ جوان ہونے والا نوجوان فکری اعتبار سے کس راہ کا مسافر بنے ؟
اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے سرکاری سطح پر نرسری کلاس کے بچوں کے لیئے میٹرک پاس اساتذہ متعین کئے جاتے ہیں پی ٹی سی ،جو زندگی کی معنویت سے قطعاً آگاہ نہیں ہوتے ۔اسی طرح بھاری بھرکم فیسوں والے انگلش میڈیم اسکولز نیو فیشن کے برینڈڈ لباسوں کے نگارخانے ہوتے ہیں جہاں یونیورسٹیز کے سمسٹر سسٹم کے بااختیار اساتذہ کی چیرہ دستیوں سے گزر یا بچ بچا کر فارغ ہونے والی بچیاں ننھنے بچوں کی تدریس پر مامور ہوتی ہیں وہ بھی زندگی کی ماہیت کا شعور کم کم ہی رکھتی ہیں ۔انگریزی کیچند رٹے رٹائے جملے ہوتے ہیں جو پیرنٹس کی تسکین کے لئے بچوں کو ازبر کرادیئے جاتے ہیں انہیں سے تعلق کی جہتیں آشکار کرکے یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ جدید عہد کے دروازے ان کے لئے وا ہو گئے ہیں اور ان کی عمدہ تربیت کی بنیاد اور اساس ہیں ۔یہی وہ اصل جوہر ہے جو ان کو معاشرے کا اچھا انسان بنادے گا۔
سرکاری سطح پر کسی ماہر کا خیال اس جانب گیا ہی نہیں کہ نئی نسل کے مستقبل کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور وہ زندگی کی معنویت اور ماہیت کو کیسے سمجھے گی ۔
پرائمری بلکہ ہائی اسکول سطح کے کتنے اساتذہ ہیں جنہیں مطالعے کی عادت ہے اور وہ شعرو ادب ، تاریخ اور معلومات کی کتب کا باقاعدہ مطالعہ فرماتے ہیں ۔جدید سانئسی علوم کے بارے وہ کتنا جانتے ہیں کہ نصاب کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو بتا سکیں کہ اس گلوبل ویلیج میں روز کیا تبدیلیاں آرہی ہیں ۔سانئس کتنا سفر طے کر چکی ہے اورابھی اس کے کتنے اسفار باقی ہیں جو اس صدی میں طے کرنے ہیں اور مسلم دنیا کا سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں کیا کردار ہے اور اس حوالے سے ہماری نئی نسل کا کیا کردار ہونا چاہیئے۔ڈاکٹر سلمان آصف صدیقی سچ فرماتے ہیں کہ دلچسپیوں اور رعنائیوں سے بھری دنیا انسان کے لئے کن مسائل کا باعث بن رہی ہے ؟ اس نکتہ پر غور کرنے کا موقع بھی یہ عہد آسانی سے نہیں دیتا، اس کے لئے دلچسپ بات بامعنی بات سے زیادہ اہم ہو گئی ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کا سچ اپنی جگہ اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ ہمارے یہاں ہونے والا کام زندگی کی معنویت کو نظام کا حصہ بنانے میں تاحال بے نیل و مرام ہے ۔

یہ بھی پڑھیں