Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

عوام پر مسلط کئے گئے ٹیکسز (محصولات) کی شرعی حیثیت

ظلم و جبر کے ماحول میں زندگی بسر کرنا کتنا مشکل ہے ، یہ پاکستان کے غریب عوام خصوصاً متوسط طبقے کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یوں کہنے کو پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، اس کی آبادی کا بڑا حصہ بھی دیہی علاقوں میں رہتا ہے ۔جہاں جاگیر دار کے استحصال میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے ۔یہاں کا جاگیر دار اتنا سفاک ہے کہ اکیسویں صدی میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں کے مالک اپنے مزارعوں اور ہاریوں کے بچوں کو تعلیم حاصل نہیں کرنے دیتے کہ یہ اگر زیور تعلیم سے آراستہ ہوگئے تو جبر کے سامنے دیوار بن جائیں گے ۔
ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ہاریوں اور مزدوروں کے منہ میں زبان تو رکھ دی مگر جو انقلاب وہ لانا چاہتے تھے اسے ادھورا چھوڑ دیا اور یہ ایک روز روشن کی طرح کی تاریخی حقیقت ہے کہ جس نے بھی تبدیلی یا انقلاب کا نعرہ لگایا اور اسے نا مکمل چھوڑ دیا انقلاب نے اس سے بہت کڑا بدلہ لیا۔
بھٹو بھی اسی تاریخی حقیقت کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان کی مقبول ترین سیاسی جماعت آمریت کے ہاتھوں کچلی جانے کے باوجود بھی مستقل طور پر مٹائی نہ جاسکی کہ وہ غریب اور مفلوک الحال راندہ درگاہ جو اس کے منشور کے ذریعے شعورو آگہی کی دولت سے سرفراز ہوئے تھے وہ جمہوریت کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے ۔یہی وجہ ہے کہ اس کی سیاسی جماعت ایک بار پھر اس کی بیٹی کے ہاتھوں نئی زندگی پالینے میں کامیاب ہوئی ، مگر اس کی ناگہانی شہادت نے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایسے قیادت کے ہاتھوں میں دے دیا جس نے سوائے کاسہ لیسوں اور دسیسہ کاروں سے اتحاد کرکے سندھ کی حکومت اور پنجاب کے چند علاقوں میں اقتدار کے حصول پر بھٹو اور اس کی بیٹی کی شہادت کو بیچنے کی روش پر گامزن رہے اور ان کی یہ منافقت کی سیاست غیر جمہوری بلکہ فسطائی قوتوں کو مضبوط کرنے کی ہر سازش میں برابر کی حصہ دار رہی ہے اور وہ استحصالی طبقہ جسے بھٹو کے دیئے شعور سے محنت کشوں نے دیوار کے ساتھ لگا دیا تھا اسے پھر سے بے بس طبقات پر مسلط کردیا‘ آج پی پی پی کی ناروا سپورٹ سے وہ جابر و قاہر طبقہ فقط مزدور ہی نہیں پاکستان پوری پاکستانی قوم کو ٹیکسز کے ذریعے ذلت و خواری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کرنے کا التزام کر چکا ہے ۔اس کا ہدف وہ پڑھا لکھا نوجوان بھی ہے جو تبدیلی کی جنگ لڑرہا ہے۔
اس طویل تمہید کا مقصد پاکستان میں سنگین نوعیت اختیار کرتے ٹیکس کے نظام پر شریعت کیا کہتی ہے اس پر ایم ایس دہلوی کے ایک تفصیلی مضمون کی روشنی میں بات کرنی ہے جو ایک ماہنامہ کے ستمبر 2000 ء کے مجلہ کی زینت اشاعت بنا۔
اس کی ضرورت اس لئے پڑی کہ ایک ایسی حکومت جو چوری کے مینڈیٹ سے قوم پر مسلط ہوئی اس نے پہلے ہی سے مختلف قسم کے سینتالیس ٹیکس ادا کرنے والی قوم کو مزید ٹیکسز کے شکنجے میں جکڑنے کی منصوبہ بندی ہے۔یہاں بھی صدر زرداری کی پیپلز پارٹی بظاہر ان پر سراپا احتجاج ہے کہ حکومت کی اتحادی ہونے کے ناطے اس کے ساتھ مشورہ نہیں کیا اور یہ بات سو فیصد لغو ہے اور سراسر منافقت پر مشتمل ہے ۔
مضمون نگار لکھتے ہیں ٹیکس زدگان کے اس ملک میں جہاں ہر شخص ٹیکس ادا کرتا ، اس قوم کو نیوز ویک ٹائم اور ملک کے چیف ایگزیکٹوٹیکس چور قوم قرار دے رہے ہیں جو کہ ایک تاریخی جھوٹ ہے۔محصولات یعنی ٹیکسز کے بارے میں بعض اہم مباحث کے حوالے سے مقالہ نویس لکھتے ہیں کہ عہد خلافت راشدہ اور اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک مخلوق پر زکوٰۃ کے سوا کوئی کسی قسم کا ٹیکس محصول عائد نہیں کیا گیا۔
قرون اولی سے لے کر امام غزالی، امام ابن تیمیہ تک اور پھر امام ابن خلدون سے لے کر امام شاہ ولی اللہ دہلوی تک محصولات کی وصولی کے سلسلے میں امت کا یہی علمی اور عملی موقف رہا۔
سورۃ توبہ کی آیت نمبر پانچ میں اسلامی ریاست کو محصولات کی وصولی کے بارے میں واضح ہدایت دے کر پابند کیا گیا کہ وہ زکوٰۃ کے سوا کوئی محصول نہیں لیں گے۔
نبی آخرالزمان محمدﷺ کافرمان ہے کہ لاریب زکوٰۃ ادا کرکے تم نے اپنی وہ ذمہ داری پوری کردی جو اس معاملے میں تم پر عائد ہوتی ہے (الترمذی)
ایک اور قول رسولﷺہے کہ لوگوں کے مال میں زکوٰۃ کے سوا حکومت کا کوئی حق نہیں(ابن ماجہ)
امام ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں ایک اسلامی اور غیر اسلامی ریاست کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی ریاست ٹیکس نہیں لیتی جبکہ غیر اسلامی ریاست ٹیکس وصول کرتی ہے محصولات یا ٹیکسز کے سلسلے میں ریاست کے اختیارات محدود کرنے سے ریاست اور رعایا کے مابین مالی مطالبات سے متعلق جاری کشمکش نہ صرف یہ کہ ختم ہوجاتی ہے بلکہ ریاست کے لئے اپنی چادر سے باہر پائوں پھیلا کرقومی معیشت میں عدم توازن پیدا کرنے کا امکان بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے۔
مضمون نگار نے اپنے طویل مضمون میں دین کے بعض اہم ترین مباحث وقت اور حالات کی گرد تلے دب جانے کا گلا کیا ہے اور قرآن و حدیث اور اقوال صحابہ کرامؓ کی روشنی میں ٹیکس کے موجودہ نام کو شریعت کی رو سے حرام قرار دیا۔ ایک اسلامی جمہوری مملکت کے حوالے سے آئینی طور پر ریاست اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بارے علمائے دین سے مشاورت کریں۔

یہ بھی پڑھیں