Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

مر جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟

برطانوی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری نے ریٹائرمنٹ کے بعد برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات میں درخواست کی کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد سوائے پنشن کے کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، بار بار مکان کی تبدیلی میرے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ گزارش ہے مجھے ایک مکان اور تھوڑی سی زرعی زمین الاٹ کر دیں تاکہ میں زندگی کے باقی ایام پرسکون طریقے سے گزار سکوں۔
وزیراعظم نے تحمل سے ساری بات سنی اور پھر جواب دیا:مسٹر منٹگمری، یقینا آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ عالمی جنگ میں آپ نے تاج برطانیہ کے لئے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں جس کی ساری قوم معترف ہے لیکن جنرل صاحب! آپ کو اس قومی خدمت پر ہر ماہ معقول معاوضہ دیا جاتا رہا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی مہینے آپ کو تنخواہ ادا نہ کی ہو یا پھر کبھی آپ کی تنخواہ لیٹ ہو گئی ہو۔ اب جبکہ آپ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور ریاست کے لئے کوئی خدمت سرانجام نہیں دے رہے اس کے باوجود برطانوی حکومت اپنے عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے آپ کو ہر ماہ معقول پنشن دے رہی ہے۔
مسٹر منٹگمری، بطور وزیر اعظم میں عوام کے حقوق کا محافظ ہوں اور ملکی آئین کے مطابق عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کو اپنے لئے یا کسی دوسرے کے لئے خرچ کرنے کا مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔
یہ ہمارے وہ آقاہیں جنہیں ہم رات دن کوستے رہتے ہیں ، جن کے جبر و استحصال کی داستانوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے،جنہیں ہم برطانوی سامراج کا نام دیتے ہیں ۔جن کے تسلط کو ہم ظلم و تعدی قرار دیتے ہیں ۔لیکن ہم نے کبھی سوچاجو ریلوے لائن وہ بچھا کر گئے ہم پون صدی سے اسی پر صاد کئے ہوئے ہیں ِ ہم نے ریلوے کو ہمیشہ خسارے میں رکھا ، جو نہری نظام ہمیں برطانوی سامراج نے بنا کر دیا اسی پر گزارا کر رہے ہیں ۔کئی حکومتیں بدلیں ، حکمران بدلے ،مگر کسی کے دل میں ملکی ترقی وخوشحالی کا احساس نہیں جاگا ۔اس ملک کی سونا اگلتی مٹی سے حکمرانوں نے اپنے محلات تعمیر کئے ، اس کے خزانے سے اپنی تجوریاں بھریں اپنے خاندانوں کو زمین سے آسمانوں پر جا بسایا ، اس کی دولت سے مغربی ممالک کے بنکوں کو بھر دیا۔اس ملک کے وسائل کو لوٹ کر برطانیہ ، امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں اپنے شاندار محلات کھڑے کئے ۔ان حکمرانوں نے مراعات کے نام پر خود بھی عیش کی زندگی بسر کی اور اراکیں اسمبلی کے عشرت کدے بھی آباد رکھے ۔انہیں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی حالت زار پر رحم نہیں آیا ، ان کے بیوی بچوں کو چھینک آجائے تو علاج کے لئے سرکاری اخراجات پر امریکہ اور برطانیہ کی طرف دوزتے ہیں اور یہاں کے ہسپتالوں میں غریب غربا کے لئے ادویات تک کا فقدان ۔
خلق خدا اس امر پر سراپا احتجاج کہ بجلی کے دو سو یونٹ پر بل تین ہزار اور دوسو ایک یونٹ ہوں تو اضافی ایک یونٹ کے تین ہزار۔جبکہ اراکین اسمبلی اور ریاستی اداروں کے ملازمین پر عنایات کے اور در وا کر دیئے گئے ہیں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ عدل کی کونسی زنجیر ہے جسے ہلاکر حکمرانوں تک فریاد پہنچائی جائے اور عدلیہ خود ا س لئے چپ سادھے ہوئے ہے کہ اسے ہر حکمران نے سونے میں تولا ہے ۔مغربی انصاف کے حوالے تو ہم بہت دیتے ہیں مگر کبھی اس کی تقلید نہیں کی۔ تقلید کے لئے تو ہماری تاریخ کا ایک واقعہ ہزار واقعات پر بھاری کہ میر ے پاک نبی آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بنی خزیمہ کی فاطمہ کی چور ی کی سزا معاف کرانے والے سفارشیوں سے دوٹوک الفاظ میں فرمایا میر ی بیٹی فاطمہؓ بھی اس جرم کی مرتکب ہوتی تو ہاتھ کٹوا دیتاکوئی ایسا تاریخ کے کسی دور میں گزرا ہے جس نے ایسی انصاف کی مثال قائم کی ہو؟حکمرانوں کے علم میں ہے کہ گندم جس کابھائو انتالیس سو روپے من رکھا گیا تھا وہ گلی گلی رل رہی ہے ، چھوٹا کسان بائیں سو روپے من گندم بیچنے پر مجبور ہے ۔گندم کے اترنے پر سال بھر جو منصوبے کسانوں نے بنارکھے تھے سب ملیامیٹ ہوگئے۔
تنگ گھراں دیا الھڑ کریاں رو رو واجاں مارن
یا ساڈی لنگدی عمر نوں روکو یا سانوں پرنائو
ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ بھی اسی دل دل میں پائوں دھر چکی ہیں ہیں جس دل میں اس کے خادم اعلیٰ چچا اترتے چلے گئے ، انہوں نے محترمہ کے لئے کوئی آئیڈیل راستہ نہیں چھوڑا، وہی دل دل تاریک گھاٹی کہ طلبا میں لیپ ٹاپ بانٹو کہ نوجوان رات رات بھر فیس بک ، گوگل اور یوٹیوب پر اپنی ذہنی عیاشی کے جشن منائیں یا انہیں اونے پونے نرخوں پر بیچ کر اپنے لئے دو چار برانڈڈ پتلونیں خریدیں ۔کچھ تو رحم کریں اس قوم کے نوجونوں پر انہیں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مہیاکریں ، ان کے تعلیمی وظائف مقرر کریں کہ ان کے والدین ان کا بوجھ آسانی سے سہار سکیں ۔ان کی فیسوں میں کمی کریں ، ان کی نصابی کتب جو ان کی قوت خرید میں نہیں وہ مفت یا کم سے کم نرخوں پر مہیا کرنے کا اہتمام کریں ۔خدارا قوم کے بچوں کو بھکاری نہ بنائیں ، ان کے ٹیلنٹ کو فضول ایکٹیوٹی کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔یہ دھرتی کا سرمایہ ہیں اسے اپنے سیاسی مفادات کی سان پر نہ چڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں