Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

اسلام اور جمہوریت کے ارتقا کا مسئلہ؟

ہم بے قدرے لوگ ہیں ۔افکار و نظریات سے واسطہ نہیں رکھتے ، ان سے زندگی کرنے کا سلیقہ نہیں سیکھتے۔ہم بنجر ذہنوں کے ساتھ جی رہے ہیں ہم اپنے فرائض سے تو منہ موڑے ہوئے ہیں ہی، حد یہ ہے ہمیں اپنے حقوق کا بھی ادراک نہیں کہ کون انہیں ادا کرنے کا ذمہ دار ہے ۔انبیا سے لے کر علمائے امت اور صلحا کے فکری سوتوں سے استفادے سے روگردانی ہمارا شیوہ بن چکا ہے ۔ہم مسالک و عقائد کی جنگ پر تلے رہتے ہیں اور مصادر پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ہم نام اسلام کا لیتے ہیں اور پناہ جمہوریت میں تلاش کرتے ہیں ۔ ہمارے اجداد نے ہمارے راستوں کی نشاندہی کر دی ہے مگر ہم نشان مٹانے اور راستے گم ہونے کے واہموں میں مبتلا رہتے ہیں ۔
ہم آپس کے بٹوارے کے احساس تک سے عاری و بے بہرہ ہیں کلمہ محمد عربی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پڑھتے ہیں اور جادہ نصیب اس نظام کو بنانا چاہتے ہیں جو ہمارے دیئے گئے ضابطوں سے ماخوض ہے مگرہم اس کے منفی ضابطوں کے سہارے نظام زندگی کا ڈھانچہ کھڑا کرنے پر عمل پیرا ہیں ۔ میں بہت ممنون ہوں برادر میحمد احمد کا جو ادارہ معارف کی محنتوں کا ثمر مجھ تک پہنچاتے رہتے ہیں ۔انہوں نے افادات علامہ سید سلیمان سے ایک مقالہ کیا اسلام جمہوریت کے فروغ و ارتقا کا ذریعہ ہے ؟ میرے ذوق کی نظر کیا ہے ۔
مقالہ مذکور میں حضرت سید سلیمان ندوی نے جمہوریت کو اسلامی تاریخ میں تلاش کرنے والوں کا محاکمہ کیا ہے ، خصوصاً شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی فکر کو اس حوالے سے موضوع بحث بنایاہے کہ علامہ اقبال کا موقف یہ تھا کہ جمہوریت کا اصل ماخذ تو اسلام اور عہد خلافت راشدہ ہے ۔جمہوریت کی بنیادیں اس زریں عہد میں تھیں ۔امیہ اور عباسی اس میں رکاوٹ بن گئے ، مغرب میں جمہوریت و پارلیمنٹ کا ظہور ہماری ہی روایت کا ظہور ہے ۔لہٰذا جمہوریت کا خالق مغرب نہیں اسلام ہے ۔
حضرت سلیمان ندوی علامہ اقبال کے اس نقطہ نظر کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ وہ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح کو بے معنی گردانتے ہیں۔موصوف قرآن کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی بھی شوریٰ تھی ، جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملا تو ملکہ سبا نے اپنی شوریٰ سے مشورہ کیا۔
حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کوللکارہ تو اس نے بھی شوریٰ سے مشورہ کیا۔سید ندوی کا مطمحہ نظر یہ ہے کہ نظام استبداد ہو یا آمریت اور ملوکیت شورائیت سب میں ملتی ہے یہاں تک کہ خلافت میں بھی ملتی ہے ۔مغرب کا یہ تصورکہ ملوکیت ، خلافت اور آمریت میں کوئی مشورہ نہیں کیا جاتا ، فرد واحد حکومت کرتا تھا ، محض فریب نظر ہے۔جمہوریت میں اصل اقتدار عوامی نمائندوں کے پاس ہوتاہے جو پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہوتے ؟ہرگز نہیں ۔ یہ اقتدار نوکر شاہی کے باس ہوتا ہے (دور حاضر میں مقتدرہ کی دسترس میں) تمام قوانین وہی تیار کرتے ہیں۔جمہوری نمائندے فقط اس پر دستخط کرتے ہیں، جنہیں عام طور پر یہ تک معلوم نہیں ہوتا وہ کس مسودے پر دستخط کر رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ کہنا کہ اسلام اور خلافت کا نظام خالصتاً جمہوری ہے ، تاریخ اسلام کے لئے اجنبی تصور ہے ۔ اسی طرح وہ واضح فرماتے ہیں کہ خلافت کا اعلان پہلے کیا جاتا تھا بیعت بعد میں ہوتی، تقرری کا فیصلہ عوام نہیں ارباب حل و عقد فرماتے ۔
عہد رسالت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں یہی لوگ رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قریب تھے لہٰذا یہی فطری قائدین تھے۔انہیں جمہور سے توثیق و تصدیق کی ضرورت نہ تھی۔قرآن کریم بھی حبل اللہ کے مقابلے پر حبل الناس کی اصطلا ح استعمال کرتا ہے۔خلافت عام آدمی کا مسئلہ ہی نہیں تھا ۔ کسی خلیفہؓ کے انتخاب میں عوام الناس کا عمل دخل روا نہیں رکھاگیا یہ مجلس شوریٰ کا کام ہوتا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلافات حکم کے ذریعے طے ہوئے نا کہ جمہوریت کے ذریعے۔جب معاملہ جنگ تک پہنچا تو حکم مقرر کئے گئے ۔یہی معاملہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تقرری کے موقع پر ہوا۔بہر حال یہ بحث برائے بحث کا معاملہ نہیں ، بلکہ اصولی موقف ہے جس کی بنیاد پر ہر دور میں علمائے علم و دانش نے اپنی آرا کا اظہار کیا اور کرتے رہیں گے۔ان شاء اللہ۔
سید سلیمان ندوی کے تبحر علمی میں کوئی شک نہیں مگر انہوں نے فکر اقبال کا تحقیقی مطالعہ کرتے ہو ئے ان کے جمہوری فکرو فلسفے کو خالص اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا ہے ،مغرب میں رہ کر مغربی فلاسفہ کو اسلامی فکر میں پائی جانے والی مجتہدانہ لچک کو زیر نظر نہیں رکھا جس کی ضرورت کو حضرت اقبال نے سمجھا اور اس پر برسوں کے غورو فکر کے بعد استعاراتی انداز میں بات کی اور مغرب پر یہ آشکار کیا کہ
ہم نے خود شاہی کو پہنایا جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہو خود شناس و خود نگر

یہ بھی پڑھیں