اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی ملک کی واحد منظم ترین دینی سیاسی جماعت ہے جس نے ہیرے جواہرات پیدا کئے ، اس کے افکارو نظریات کی تاریخ آب زر سے لکھی جانے والی ہے ۔اس کے بانی بہت سارے اشکالات کے بیچ خاموشی سے کام کرتے رہے ۔اسلامی تاریخ کے حوالے سے انہوں نے اپنے راستے میں شک و ریب کے جو کانٹے بوئے ان سے زخمی ہونے کے باوجو د رجوع نہیں کیا ۔یہ ان کی غلطی تھی یا نظریاتی ہٹ دھرمی، اس بارے میں بڑوں کی آرا ڈھکی چھپی نہیں بلکہ جسٹس غلام علی نے کتاب لکھ کر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔
جماعت اسلامی کی امارات کے جتنے بھی امین گزرے ہیں ان کے ذاتی کردار پر کبھی انگلی نہیں اٹھائی گئی البتہ ان کے سیاسی فیصلوں پر کبھی دوآ را نہیں رہیں اس لئے ان کی سیاسی جدوجہد کوکوئی مان نہیں دیا گیا ۔وہ اول دن سے عوامی پذیرائی کا گلا کرتی رہی ہے ۔اس وصف کے باجود کہ اس نے عوامی مسائل کو دیگر تمام سیاسی یادینی سیاسی جاعتوں سے زیادہ توجہ دی ہے ۔
بانی جماعت اسلامی نے جب انتخابی سیاست کو پارٹی منشور کا حصہ بنایا تو ان کی جماعت میں بڑی بڑی دراڑیں پڑیں اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے نابغہ روز گار لوگ انہیں مفارقت کا داغ دے گئے مگر مولانا اپنے موقف سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے یہ ان کی عزیمت تھی یا انا کی تسکین کا معاملہ اس پر بھی بڑوں کی آرا کی کمی نہیں ۔ملک میں جب کوئی دینی تحریک چلی یا سیاسی تحریک، جماعت اسلامی اس کی روح رواں رہی ہاں مگر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے جماعت کا کوئی اعلی و ادنی رفیق و کارکن تک انکار نہیں کرسکتا کہ بعض مواقع ایسے بھی رونما ہوئے کہ جماعت اسلامی نے سیاسی مفاد اٹھانے میں چابک دستی دکھائی، خصوصا ضیا آمریت میں وزارتیں لینے میں سر فہرست رہی۔ تاہم جماعت کا یہ حسن رہا کہ جو بھی اس کا امیر بنا اس کے اخلاص پر شک نہیں کیا سکتا۔جماعت کو جہاں موقع ملا اس نے اپنے تئیں اصلاحات کے نفاذ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔اسے کراچی کی بلدیاتی سیاست کی قیادت ملی تو اس نے کراچی کو مثالی بنادیااور آج تک کراچی کے بلدیاتی نظام میں اس کے اثرات ملتے ہیں۔
اس لحاظ سے سب سے موثر شخصیت حافظ نعیم الرحمان ہیں جو جماعت کے نئے مرکزی امیر ہیں اور اس سے پہلے کراچی کے امیر بھی رہ چکے ہیں ۔ عام طور پر انہیں جماعت کا جارح اور حقیقت پسند رہنما گردانا جاتا ہے اور جماعت کے اندرونی حلقے یہ باورکرتے ہیں کہ حافظ صاحب اراکین جماعت کی عملی خواہشات کےعکاس ہیں جماعت اسلامی جو انتخابی سیاست میں کبھی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی ان کی قیادت و سیادت میں بہتر نتائج حاصل کر سکے گی۔
حالیہ انتخابات جو آٹھ فروی 2024 کو ہوئے اس میں حافظ صاحب نے قومی اسمبلی کی نشست جیت کر چھوڑ دی کہ مذکورہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور ملک کی سب سے پڑی سیاسی جماعت کو الیکشن سے باہر رکھنے کی بھر پور سازش کی گئی۔جہاں تک ان کے طرز سیاست کا تعلق ہے ملک کے بیشتر سیاسی حلقے یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ جماعت کی سیاست کو مثبت تبدیلیوں سے ہم آہنگ کریں گے اسے انقلابی رنگ دیں گے جس کا پہلا قدم یہ ہے کہ جماعت اسلامی 12جولائی سے حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ایک ایسی تحریک کا آغاز کرنے جارہی ہے جو عام آدمی کے دل کی آواز ہوگی۔حکومت کے وہ سارے اقدام جنہوں نے غریب غربا سے لیکر متوسط طبقے کا جینا دو بھر کردیا ہے ۔ایک جان لیوا مہنگائی,بھاری ٹیکسز اور بجلی کے بلوں کے بوجھ نے عوام وخواص تک کو ہلکان کردیا ہے ۔ماہ رواں کی بارہ تاریخ کو شروع کی جانے والی احتجاجی تحریک کا عندیہ دیتے ہوئے امیرجماعت اسلامی نے پاکستان کے عوام سے بھر پور شکایت کی ہے ، مبنی بر حقیقت شکوہ کیا ہے کہ پاکستان کے کور ایشوز پر ملک کی کوئی سیاسی یا دینی سیاسی جماعت عوام کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی ،واحد جماعت اسلامی ہے جوعوام کے بنیادی حقوق کے حق میں عوام کی حمایت میں میں آواز حق بلند کرتی ہے ، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ عوام اس کی پذیرائی کبھی نہیں کرتی ۔
واقعی یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے ایک ایسی حقیقت ہے جس پر جماعت کو تحقیقی بورڈ قائم کرنا چاہیئے جو یہ معلوم کرے کہ آخر جماعت کن وجوہات کی بنیاد پر عوام کی پذیرائی سے ہمیشہ محروم رہی ہے ۔اس کی منظم سیاسی اور سماجی جدوجہد کا اسے ثمر نہیں ملا۔ان کے بقول واقعی یہ سوال بنتاہے کہ جماعت اسلامی ہر ایشو پر عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ، نیپرا کے حوالے سے وہ ہر ہیرئنگ میں شامل ہوتے ہیں جوعوام کے خلاف شیطانی قسم کا اتحاد ہے جس میں نیپرا ہی نہیں ، حکومت اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہوتی ہیں اور مجال ہے کبھی کسی سیاسی جماعت نے اس اشتراک کو توڑنے اور عوام کے گلے سے یہ طوق اتارنے کی کوشش کی ہو۔ یہ جماعت اسلامی ہے جس نے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کو چیلنج کرنے کا بیڑا اٹھایاہے ۔آج بھی عوام اگر اس کی احتجاجی جدو جہد میں شامل نہیں ہوتے اور حکومت مخالف جماعتیں جماعت اسلامی کی آواز پر لبیک نہیں کہتیں تو پھر ظلم کی یہ رات لمبی ہوجائے گی ، تاریکی کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوپائے گا۔