خالد خورشید وزیراعلیٰ گلگت بلتستان تھے،ان پر جعلی ڈگری کا کیس بنا،خالد خورشید کو یقین تھا کہ میں اس کیس میں سرخرو ہو جائوں گاکیونکہ ان کی ڈگری اصلی تھی،لیکن کام دکھانے والوں نے دکھا دیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ڈگری کو جعلی قرار دے دیا۔
خالد خورشید نے ڈگری کی تقسیم کی تقریب کی تصاویر تک دکھا دی گئیں، خالد خورشید کے کلاس فیلوز اور اساتذہ تک چیختے رہے کہ ڈگری اصلی ہے ہمارے ساتھ تو یہ پڑھا ہے لیکن اس ملک کی عدالتیں نہ مانیں۔
آج وہی کام ایک جج کے ساتھ کر دیا گیا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے وکالت پاس کی، ڈگری لی،وکالت کی، پھر ماتحت عدلیہ میں بھرتی ہوئے،پھر اعلیٰ عدلیہ میں چلے گئے، ہر جگہ ڈگریاں چیک ہوئیں، کہیں ڈگری جعلی نہیں نکلی، انہیں الیکشن ٹربیونل کا جج بنایا گیا، اسلام آباد کی تینوں سیٹوں کے کیس ان کے پاس لگ گئے، انہوں نے تمام پارٹیوں سے فارم 45 بیان حلفی کے ساتھ طلب کر لیے تو یکدم پتا چلا کہ طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے خلاف کسی نے درخواست دائر کر دی ہے اور ایک ہی دن میں پتا چل گیا کہ ڈگری جعلی نکل آئی ہے،معاملہ جوڈیشل کمیشن میں جائے گا۔
خالد خورشید نے انصاف کا ہر دروازہ کھٹکھٹایا تھا لیکن اسے انصاف نہیں ملا،آج اسی آگ سے انصاف کے دروازے جلنا شروع ہو گئے ہیں۔
یہ اقتباس آپ نے پڑھا جو میرے مرشد نے عطا کیا۔
دل پر ہاتھ رکھ کر آزروئے ایمان یہ بتائیں کیا ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ؟ جو اس سیارے پر جینے والوں کی شائد آخری صدی ہے۔شائد شاہی محلات میں بیٹھنے والے حکمران اور ان کے مصاحبین کو موت یاد ہی نہیں ۔ضمیر کی آنکھیں تو بند ہیں ہی اب دل و دماغ کے رشتے بھی خیال و فکر سے سے ٹوٹ چکے ہیں ۔اس لئے شرم و حیا کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔
دن دہاڑے ، دیدی دلیری کے ساتھ واردات ڈالتے ہیں ایسے کہ دیکھنے والوں کی بصارت حیرت زدہ رہ جاتی ہے ۔یہ کوئی نئی بات بھی تو نہیں ہے، یہ پہلے تاریخ کے اورق سے اپنے حق میں شہادتیں تلاش کرتے ہیں پھر جو بینا ہیں ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا اہتمام کرتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ، فخر ایشیاء وزیر اعظم پاکستان کا عدالتی قتل کرنے والے ججز میں سے جس جج صفدر شاہ نے اس فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا تھا اس کی بھی تو میٹرک کی سند جعلی نکل آئی تھی ۔اس سے پہلے جسٹس صمدانی بھٹو کی ضمانت لینے کے جرم کے مرتکب ہوئے تو آمر کو یہ الہام ہوا کہ جسٹس صمدانی جج بننے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا تھا اور اسے فارغ کردیا گیا۔جسٹس فائز عیسیٰ بھی اس جرم کے مرتکب ہوئے تھے کہ انہوں نے فیض آباد دھرنے میں خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کوتو ایکسٹینشن پر فیصلہ دینے پر سپریم جوڈیشل کونسل گھسیٹنے کی دھمکی ہی سے پسپا کردیاگیااور کمال معاملہ تو آمر مشرف کو سزا دینے پر جسٹس وقار سیٹھ کے ساتھ ہوا کہ انہیں عقل سے فارغ قرار دے دیا گیا، جسٹس جاوید اقبال کی بوس و کنار کی وڈیو وائرل کرنے کی بات تو پرانی نہیں ہوئی تھی کہ جج ارشد ملک کو بھی ایسا ہی سبق سکھایا گیا۔اب تو ایک دھڑکا بھی رگ جاں میں ہل چل مچائے ہوئے ہے کہ پنجاب کی پہلی خاتون چیف جسٹس عالیہ نیلم جنہوں نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے واقعات پر درج مقدمات کی انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت مسترد کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں کوبحال کیا نہ صرف یہ کہ 9مئی کے مقدمات میں پابند سلاسل خواتین خدیجہ شاہ ، عالیہ حمزہ سمیت دیگر ملزمان کی ضماتیں منظور کیں۔کہیں ان کی کوئی سند بھی جعلی نہ نکل آئے !تو گویا ہم آنے والی نسلوں کو زندگی کرنے کے وہ سلیقے سکھا رہے ہیں کہ وہ سر اٹھا کر جینے کے قابل ہی نہ ہو سکیں ۔یہ سب کس کے کمالات کا شاخسانہ ہے وہی جنہوں نے زبان کھولنے پر ہتک عزت کے قانون کا نفاذ اپنی پہلی ترجیح گر دانا کہ ان کے راز و نیاز کو کوئی طشت ازبام نہ کر سکے۔
ہم اپنی تاریخ کے سینے پر کس کس داغ کے تمغے سجا رہے ہیں ، ہمیں خبر ہی نہیں اور ابھی تک کوئی ایسا بھی سامنے نہیں آیا جو دعویٰ کرسکے کہ وہ یہ داغ مٹا دے گا ۔جو ریزہ ریزہ بدن اور فگار انگلیاں لے کر آئے ۔ ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں لکھا جاسکا جو قوم کی تقدیر کا ضامن بننے والا ہو۔کتنے ہی زخم ہیں جن سے قوم کو چور چور کیا جارہا ہے ۔قوم چیخ و پکار کی کیفیت سے ،آہ و بکا سے تھک چکی ، کوئی دن نہیں خود کشیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوجائے، گلی گلی لاشوں کے ڈھیر لگے ہوں اور حکمران گھر گھر فوٹو سیشن کی ٹیم لئے پہنچیں اور دنیا پر آشکار کریں کہ ہم قوم کے زخموں پر پاہے رکھنے کے لئے نکلے ہیں ، کوئی ہے جو ہماری مدد کو آئے ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر!!!