Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

بقاء و سلامتی کی آخری جنگ

جب سیاستدان زمینی حقائق کا ادراک نہ رکھتے ہوں ،جب حمراں رعایا کی کیفیات سمجھنے سے عاری ہوں۔جب ملک کاسرمایہ(نوجون)بے روز گاری کی نذر کردیا جائے ، جب قوم کے بچوں کوجھوٹ پر مشتمل نصاب پڑھایا جائے،جب نظام عدل کو کھیل تماشہ بنادیا جائے ، گلی محلے کے تھڑوں پر معزز ججز کے فیصلوں پر تنقید و تشنیع کی محافل جمیں ، ان پڑھ اور ناخواندہ سیاسی کارکن ہرایک کے سامنے عدالتوں کامذاق اڑائیں ۔تو پھر یہی ہوتا ہے جو دفعتاً ہوگیا ، یقین و گماں سے ورے ایسا فیصلہ جس کا امکان ہونے کے باوجود حکومتی اراکین اس اندازے سے بھی دور کی سوچ رہے تھے کہ ایسا ہوبھی سکتا ہے ؟ جبکہ زمینی حقائق چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ ایسا ہی ہوگا جیسا ہوا ہے مگر ہم ہمیشہ سے یقین و گمان کے بیچ جیتے ہیں اور جینے کو دی ہی بس اتنی ہی اہمیت دی گئی ہے۔
بہر حال امکانات کے نئے در وا ہوں گے ، معاملات پہلو بہ پہلو ،نت نئے رخ اختیار کریں ۔سمجھ سے بالا تر ہے ۔تاہم حکومت جو چیز سمجھنے اور باور کرنے سے گریزاں ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کی بد حالی کی فکر نہیں اخبارات کے لوئر ہاف صفحات پر اپنی کامیابی کے راگ الاپ کر ، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اپنی آواز کا جادو گانا اور موبائل کی ہر کال پر کسٹمرز کی سمع خراشی کا اہتمام سب ڈرامہ ہے، اور خوشحالی ڈراموں سے نہیں آیا کرتی ۔ حکومت اپنے اور اور پارلیمنٹیریئن کی مراعات پر کچھ سننے کے لئے تیار نہیں ۔تین ماہ کے لئے دو تین سو بجلی کے یونٹ پر جو چوسنیاں غریب غرباء کے منہ میں دی جارہی ہیں ان سے کچھ افاقہ نہیں ہونا ووٹر کا سب کچھ ہی پامال کیا جارہا ہے عزت و وقار سے لے کر بھرم تک دا ئو پر لگایا جارہا ہے۔
جس پڑھے لکھے نوجوان کو کریداجائے اس کی پہلی ترجیح ملک کو چھوڑنا ہو تو حالات کیسے بدلیں گے ؟ تبدیلی کیسے آئے گی ؟ ترقی و خوشحالی کے خواب کیسے پورے ہوں گے ۔
مجھے خلیل جبران یاد آرہا ہے جس کے اپنے گھر(اسرائیل)میں آگ لگی ہے ۔اس نے کہا تھا :
تمہارے نوجوان وہ ہیں جن کی روحیں مغرب کے ہسپتالوں میں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے ان لالچی دائیوں کی آغوش میں آنکھ کھولی ہے جو حریص ہیں اور منصف مزاج بنی ہوئی ہیں۔
تمہارے نوجوان کمزور شاخوں کی طرح اپنے ارادوں کے بغیر کبھی دائیں جھکتے ہیں تو کبھی بائیں جھکتے ہیں، ان کو بیرونی نظریات سے خوب ہلایا جاتا ہے لیکن انہیں اپنے ہلانے والے کا علم ہی نہیں ہے!
تمہارے جوان اس کشتی کی طرح ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہے ۔
تم آپس میں تو بڑے سخت ہو، فصیح و بلیغ بیان بازیاں کرتے ہو لیکن انگریزوں کے سامنے کمزور اور گونگے ہو !
تم آزاد، مصلح اور بہادر ہو لیکن صرف اپنی اسٹیجوں اور اخبارات میں، جب کہ مغرب کے باشندوں کے سامنے فرمانبردار اور اطاعت گزار ہو!
تم مینڈکوں کی طرح ادھر ادھر ٹرٹراتے پھرتے ہو اور شیخی بھکارتے ہوئے کہتے ہو: ہم نے اپنے قدیم سرکش دشمن سے نجات پا لی ہے ، حالانکہ وہ دشمن تمہارے جسموں کے اندر موجود ہے۔
تم وہی ہو جو جنازوں کے آگے تو گاتے ہو اور ناچتے ہو لیکن جب سامنے سے کوئی بارات آتی دکھائی دیتی ہے تو تمہارا گانا بجانا سوگ میں اور ناچنا سینہ پیٹنے اور کپڑے پھاڑنے میں بدل جاتا ہے۔
تم وہی ہو جو بھوک سے اس وقت واقف ہوتے ہو جب خود تمہاری جیبیں خالی ہوں، مگر جب تم ایسے لوگوں سے ملتے ہو جن کی جانیں بھوک سے نکلی جارہی ہوں تو تم ان پر ہنستے ہو اور ان کے منہ پر کہتے ہو یہ سب بنائوٹی ہے۔
تم ایسے غلام ہو کہ جب زمانہ تمہاری زنگ آلود بیڑیاں اتار کر چمک دار بیڑیاں پہنا دیتا ہے تو تم اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہو!
ہم ایسے بے بس ، لاچار اور ناتواں لوگ ہیں کہ ایک سگ امریکہ جسے چند سال پہلے پی ٹی آئی نے سیاسست میں متعارف کرایا ،جسے کاروں کے بھا تا کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا ، آج ٹی وی اینکر اپنے پروگراموں میں۵ بیٹھا ہمارے سیاسی مستقبل کی پیشین گوئیاں کرواتے ہیں ۔وہ لپاٹا انٹ کے شنٹ دعوے کرتا ہے اورنجی محافل میں اپنے آپ کو ایبلشمنٹ اور مقتدرہ کی آنکھوں کا تارہ کہتا ہے ، تو یہ ہے ہماری سیاسی اوقات ۔مگر یاد رکھیں ہم اپنی بقاء اور سلامتی کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں پیچھے پاک فوج ہے اور آگے عدلیہ جو ہمیں ببچانا چاہتی ہے ۔مگر بیچ میں حکمران ہیں جو اپنے اقتدار کے لئے ہمارے وقار کو دا پر لگانے کے در پے ہیں ان کی پشت پر ملک کی لوٹی ہوئی دولت کے ڈھیروں پر بیٹھے وہ سیاستدان ہیں جو فقط حرص و آز کے بھوکے ہیں ۔ان کا کوئی نظریہ ہے نہ مطمح نظر …!!!

یہ بھی پڑھیں