Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

موسم بدلا رت گدرائی

موسم بدلا رت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے
فصل بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
مرحوم امانت علی خان جب ظہیر کاشمیری کی یہ غزل گاتے تھے تو کیف و مستی حیات میں ڈوبے ہوئے لوگ ،فکرو نظر کے در وا کر لیتے تھے ، مگر یہ وہ لوگ تھے جنہیں دنیوی آسائشوں کا غم تھا ، جو سرخ انقلاب کے منتظر تھے ، جن کی نظریں اپنی سرحدوں سے اس پار والوں پر لگی ہوتی تھیں جو رت بدلنے کی جستجو میں تخت و تاج والوں سے ٹکرائے تھے اور انہیں تاراج کیا تھا۔یہاں والے ایک تسلط کے بعد دوسرے تسلط کی آغوش میں پناہ لینا چاہتے ، یہ تاریخ کے جبر کا نعرہ تو الاپتے تھے مگر اپنی تاریخ کے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے تھے کہ چودہ سو برس پہلے جو انقلاب آیا تھا اس کے لانے والے ہی دراصل اہل جنوں تھے جنہوں نے پورے عالم کو بہار بخش ماحول عطا کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لٹا دیا۔یہ انہی کی دلائی ہوئی آزادی کا ثمر ہے کہ اس کائنات میں بسنے والے آج بھی امن و سلامتی کے تصور کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ، دل میں بسائے ہوئے ہیں ۔وہ ضابطہ حیات جسے بچانے کے لئے نواسہ رسول ﷺ نے اپنے پورے خاندان سمیت جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسی کے صدقے اسلام زندہ ہے اور تاقیامت زندہ و تابندہ رہے گا ۔سرخ انقلاب ایک صدی میں حسین رضی اللہ تعالیٰ کے نانا محمد ﷺکے پائوں تلے دفن ہوگیا اور ہر وہ جدوجہد جس کے پیچھے فکر حسینؓ نہیں ہوگی اپنی موت آپ مرجائے گی۔
کس کس نے دکھ کے کتنے چاک سیئے ، مصحف تاریخ سے سب ثابت ہے ۔کس نے انسانیت کو کتنی خوشیاں دیں ، سکھ کے کتنے دروازے کھولے ، سب جانتے ہیں ، مگر آنکھوں پر پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔
مجھے یاد آگیا ابا جی (میرے والد گرامی حافظ عبدالکریم احرار ی) سنایا کرتے تھے کہ امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ بتاتے تھے وہ اور ترقی پسند سیکولر شاعر ظہیر کاشمیری ایک ہی جیل میں قید تھے کہ محرم الحرام آگیا ، صبح ہم نے دیکھا کہ موصوف کی چارپائی الٹی پڑی ہوئی ہے ، استفسار کرنے پر بتایا کہ ’’شہیدان کربلا کے سوگ میں ایسا کیا ہے‘‘ گویا ایک ترقی پسند مذہب پر یقین نہ رکھنے والا دانشور بھی شیعہ ہونے کے ناطے الٹی چارپائی پر محو استراحت ہونا لازمی گردانتا تھا آج ہمارے دانشور ترقی پسند ہوں کہ رجعت پسند اصل حقائق سے منہ موڑ ے ہوئے ہیں ،کسی پر سے سوویت یونین لخت لخت ہونے کے باوجود سرخ بخار ابھی باقی ہے اور ایشیا سبز ہے کا نعرہ لگا کر بھی کچھ لوگ بدعنوان عناصر کی حمایت میں مرے جاتے ہیں ،ملک کو لوٹ کر کھاجانے والے ،ووٹ کا تقدس پامال کرنے والے ان کے رہبرو رہنما ہیں۔ ہم اعتدال پسند کہاں جائیں جو دروغ مصلحت آمیز کے بیچ کھڑے چیخ رہے ہیں اور زمانہ جیسے اپنی سماعت ہی دفن کر بیٹھا ہے ،اس کے ساتھ آئین و قانون کے پاسدار بھی آنکھوں پر چڑھی پٹیاں اتارنے کے لئے تیار ہی نہیں ،وہ جنہیں عدل و انصاف کے مٹ جانے کا خطرہ تھا ان کے ہاتھ پاسبانی آئی تو وہ بھی حوصلے ہار گئے ۔
ہم کس کس کی حالت زار پر ماتم کریں ، سب ہی گم گشتہ راہ ٹھہرے ۔
کوئی نظریہ ، کوئی فکر اپنے اندر یہ سکت نہیں رکھتی کہ راہ دکھلا سکے ،منزل کا تعین کرکے دے سکے ۔پوری قوم کا کوئی پرسان حال نہیں ،حکمرانوں کو اقتدار کھوجانے کا خطرہ سہمائے ہوئے ہے ،جن کے لئے منزل قریب آنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں وہ اندر کے اختلاف سنبھال نہیں پا رہے ۔میاں صاحب حکومتی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود اپنا سیاسی فلسفہ طشت ازبام کرنے کو ہیں ۔حالات ایسے ہی گومگو ہیں جیسا لکھتے ہوئے قلم گومگو کے عالم میں ۔فکر کے سوتوں میں عجیب فشار ہے ایسے ہی کچھ کہتے ہوئے لہو میں بلا کا فشار مچ جاتا ہے ۔
ہمارے پاس ایک جدا فکر ہے ،جدا فلسفہ ہے ،ایک دائمی نظریہ اور ضابطہ حیات ہے کہ جس کے ذریعے ہم پورے عالم کے ذرے ذرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ۔مگر ہم تو،اپنے اس جنت نظیر خطے کی سلامتی کو ہی خطرات کی نذر کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ہماری سوچوں کا انتشار ہمارے اندر پڑی دراڑوں کو وسیع سے وسیع تر کرتا جارہا ہے۔ ہم جو کبھی محبوں کے امین تھے آج نفرت ،بدامنی اور دہشت گردی کی علامت ہیں ۔عقدہ کیسے کشا ہوگا ؟
دلوں کا زنگ کب اور کیسے اترے گا ؟
موسم آتے جاتے رہیں گے ،رتیں گدرائی رہیں ۔تو اہل جنوں کس رستے آئیں گے، ہمیں راہ دکھلائیں کے ؟ یا پھر ہزیمتوں کے ،بد نصیبیوں کے سائے کبھی سمٹیں گے ہی نہیں!

یہ بھی پڑھیں