یہ میرے زمانہ طالب علمی کی بات ہے جب دبنگ صحافی، نڈر اور بے لاگ صحافی احمد بشیر کی خاکوں پر مشتمل کتاب’’جو ملے تھے راستے میں‘‘ منصہ شہود پر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی رفعتوں کو چھو گئی ۔یہ کتاب اتنی شہرت شائد ہی پاتی اگر اس میں کشور ناہید کا خاکہ نہ ہوتا۔
آج ربعہ صدی بعد احمد بشیر کی کہانی گر بیٹی نیلم احمد بشیر کے ایک مضمون کی فیس بک پر مدبھیڑ ہوگئی۔گو مضمون بھی ایک خوبصورت افسانے کی مثل ہے ،وہی کہانی پن جیسا اسلوب ،وہی بنتی اور وہی لفظی مینا کاری جو ایک بڑے افسانے کا وصف ہوتا ہے ۔
نیلم بشیر نے بانو آپا کے مرد کے حوالے سے ذاتی تجربات کی خوب عکاسی کی ہے ۔جس کا حاصل یہ ہے کہ بانو آپا ایک بھر پور مرد کی پتنی تھی جس کا پتی اس کی وجودی کیفیات کو بھرپور طرح سے پورا کرتا ہے ،اس کو ایسا سرشار رکھتا ہے کہ وہ اس کی داسی بن جاتی ہے ،اس کی پجارن بن کر رہتی ہے۔
اس وصف کے لئے بھی ایک روح چاہیئے ، جو مٹی ہوئی ہو ،جو ہر وجود کا مقدر نہیں ہو سکتی ،ہر تن ایسی روح کا مسکن نہیں ہو سکتا ،کہ ہر کوئی یہ نہیں جان سکتا کہ’’ محبوب وہ ہوتا ہے ،جس کا نا ٹھیک بھی ٹھیک لگے ‘‘ ۔
داستان سرائے ایک آشرم تھا اور بابو آپا ایک بھگتی تھی ،جس نے ساری عمر اس آشرم کے بھگت کی سیوا میں گزار دی ،مگر کہانیاں ،ناول اور ڈرامے لکھنا ان کی معاشی ضرورت تھی اور آپا کی خوش بختی کہ اشفاق صاحب کی معیشت کے ذرائع بھی یہی تھے اور زمانہ کچھ ایسا تھا کہ یہی سکہ چلتا تھا جس کی تکسال لگا کر انہوں نے خوب کمایا اور کھایا۔
نیلم احمد بشیر کا یہ گلہ ہر گز نہیں کہ بانو آپا مرد پر مر مٹنے والی عورت کیوں تھیں ان کا شکوہ یہ ہے کہ وہ اتنی پردہ نشین کیوں تھیں ،وہ عورت کی آزادی کی جنگ سڑکوں پر کیوں نہیں لڑتی تھیں؟ اور مرد کے قوام ہو نے کادم کیوں بھرتی تھیں ؟ بلکہ نیلم احمد بشیر کو تو اس پر بھی اعتراض ہے کہ بانو آپا ان کے ابو کی طرح ’’نظام مصطفی ‘‘ کے خلاف (نعوذبااللہ)کیوں نہیں تھیں ۔
بس اس مقام پر آکر ساری منافقت کا پردہ چاک ہوجاتا ہے ۔احمد بشیر کا صحافتی چہرہ بھی عیاں ہوجاتا ہے اور ان کے خاندان کے رجحانات اور محبتیں بھی طشت ازبام ہوجاتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بانو قدسیہ ازدواجی زندگی میں عورت کے کردار کو ماورائے حقیقت دیکھنا اور دکھانا چاہتی ہیں ،عورت کی حیثیت کو کمزور تر کر کے پیش کرتی ہیں اس کے مقابلے میں مرد کو غیرضروری طور پر مضبوط و توانا تصور کرتی ہیں مگر عورت کے کردار کی بلندی پر کہیں کمپرومائز کرتی ہوئی نہیں دکھائی دیتیں ۔وہ عورت کی حرمت کو پامال ہوتا برداشت نہیں کرتیں کہ اس کی مجموعی حیثیت ایک اشتہار تک محدود ہوجائے ، سڑک پر آویزاں ہر سائن بورڈ پر اس کی نیم عریاں تصویر ہو اور وہ حظ اٹھانے کی ایک شے بن کر رہ جائے ۔
بانو آپا احمد بشیر کی طرح عورت کو واشگاف الفاظ میں بھری محفل میں گالی نہیں دیتی کہ جس پر ایک مہا ترقی پسند اور لبرل عورت کی آنکھوں میں بھی آنسو تیرتے ہوئے نظر آئیں ۔بانو آپا جدید عورت کی نفسیات کو بھی اچھی طرح سمجھتی ہیں اور نئی نسل کی الٹرا ماڈرن بچیوں کا المیہ بھی جانتی ہیں ،ایسا نہ ہوتا تو راجہ گدھ میں سیمی شاہ جیسا کردار کبھی تخلیق نہ کرپاتیں ۔جس کی جسمانی ہی نہیں روحانی کیفیات کو بھی کھول کھول کر بیان کیا ہے ۔ان کی حلال و حرام کی تھیوری سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ،مگر اس سے انحراف ہرگز نہیں کیا جاسکتا ۔
نیلم احمد بشیر نے اپنے خاندان کے حوالے سے جن معاملات کا ذکر کیا ہے ۔وہ بانو آپا کے ساتھ دفن ہوچکے ،ان کی حیات میں تنازعات کا اس طور ذکر کیا جاتا تو وہ خود جواب دیتیں ۔تاہم ان کا معذرت نامہ لکھ دینے کے بعد انہیں بھی نہیں چھیڑنا چاہیئے تھا ۔یہ بھی بے وقت کی راگنی کے مترادف ٹھہرا۔