پارلیما ن کے تقدس پہ تسلسل سے بیانات کا نزول جاری ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ایوان عدل کا بھی ہے۔ سیاست کے نام پہ احتجاجی اچھل کود میں مصروف حزب اختلاف کی ایک جماعت ان دونوں ایوانوں کے تقدس پہ رطب السان ہے۔ یہی جماعت خیبر پختونخوا میں مسند اقتدار پہ تیسری مرتبہ براجمان ہوئی ہے۔ انصافی لشکر کی لفظی گولہ باری پر وفاقی حکومت کی توپوں نے بھی جوابی گولہ باری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ کچھ سوال جواب طلب ہیں۔ کیا اس لفظی گولہ باری کا عوام کو کوئی فائدہ ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ کھوکھلی زبانی جمع تفریق سے میڈیا پہ رونق تو لگائی جا سکتی ہے لیکن عوام کا کوئی مسئلہ حل کرنا ممکن نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان ایوانوں کے تقدس کی وجہ کیا ہے؟ ظاہر ہے پارلیمان کی عمارت کے درو دیوار یا اس میں رکھا آرائشی سامان نہیں دراصل یہ عوام کا ووٹ ہے جو اس ایوان کو توقیر بخشتا ہے۔ عوام کے ووٹ سے ایوان میں پہنچنے والے اراکین بارہا اپنے استحقاق کی دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس خلق خدا کے ووٹ سے ایوان کو تقدس اور اراکین کو مخصوص استحقاق ملتا ہے اس عوام کو ایوان کتنا تقدس بخشتا ہے؟ سادہ لفظوں میں معزز ایوان کے استحقاق یافتہ اراکین عوام کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟
عوامی مسائل کے حل کے لئے ایوان کے کتنے اجلاس منعقد ہوئے ؟ کتنی تحاریک پیش ہوئیں ، کتنی تقاریر ہوئیں اور بعد ازاں بات شعلہ بیانی سے بڑھ کر عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے تک پہنچ پائی ؟ مقدس ایوان کے معزز اراکین کی سنہری کارروائی ہر شہری کی دسترس میں ہے۔ اختصار کے پیش نظر تفصیلات قلم زد کرنا ممکن نہیں ۔ قومی اسمبلی میں عوامی مسائل کے حل کے لئے کی جانی والی کاوشوں کا میزانیہ صفر جمع صفر برابر صفر ہے۔ ایک صفر حزب اقتدار کا اور ایک صفر حزب اختلاف کا سمجھ لیجئے۔ الیکشن کے بعد سے حزب اختلاف احتجاجی ہیجان میں مبتلا ہے ۔ اسی ہیجان کی بدولت ماضی قریب میں انصافی حکومت کا پہلے تو وفاق میں بوریا بستر لپیٹا گیا جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں یہ نیک فریضہ پی ٹی آئی نے بانی جماعت کی ہدایات کی روشنی میں خود ہی انجام دے دیا ۔ رہی سہی کسر قومی اسمبلی سے استعفے دے کر پوری کر دی گئی۔ وہ دن اور آج کا دن ہیجان زدہ انصافی سیاست سڑکوں اور عدالتوں میں دھکے کھا رہی ہے۔ ہر چھوٹا بڑا سیاسی معاملہ عدالتوں میں کیوں لے جایا جاتا ہے؟
آج جو معاملات عدالتوں میں منصفین کی توجہ کے طالب ہیں انہیں آخر پارلیمان میں کیوں حل نہیں کیا جاسکتا؟ کیا یہ طرز سیاست پارلیمان کے تقدس کی نفی نہیں؟ عوام کے مسائل نظرانداز کر کے ایوان کو سیاسی مچھلی منڈی بنانے والے اراکین نے نہ صرف یہ کہ پارلیمان کا تقدس پامال کیا ہے بلکہ اپنے سادہ لوح ووٹرز کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ عدلیہ کا بنیادی فریضہ عوام کو انصاف کی فراہمی ہے۔ اگریہ عمل سستا اور فوری نہ ہو تو پھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ پارلیمان میں حل طلب مسائل کو عدالتوں میں لے جا کر سیاسی جماعتیں ایوان عدل پہ مزید بوجھ لاد رہی ہیں۔ عوامی مقبولیت کے منہ زور گھوڑے پر سوار انصافی لشکر کو ہر اس ریاستی ادارے سے شکایت ہے جو اس کے مخصوص سیاسی مفادات کے تابع نہیں ہو رہا۔ انتخابات کے معاملات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن اصحاب انصاف کو آئینی ادارے پر اعتماد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن سے متعلق ہر معاملہ عدالتوں میں پیش کر دیا گیا ہے۔ ہیجانی لشکر کو ججز بھی وہی پسند ہیں جو قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھ کر ان کی من مرضی کے فیصلے دیں۔ ناقص انٹراپارٹی الیکشن ، انتخابی نشان ، الیکشن کی عزرداریوں اور قومی اسمبلی میں جماعتی وابستگی سمیت متعدد معاملات ایوان عدل میں لٹکے ہوئے ہیں۔
آئینی بالادستی کا راگ الاپنے والوں سے دستر بستہ گزارش ہے کہ ہر ریاستی ادارے کو سیاست میں گھسیٹنے کی روش تبدیل کریں۔ حزب اختلاف ہی نہیں حزب اقتدار بھی اس مرض کا شکار ہے۔ پارلیمان کو سیاسی مچھلی منڈی بنانے کے بعد اب ایوان عدل کو بھی ایسا سیاسی اکھاڑا بنا دیا گیا ہے جہاں مخالف جماعتوں کو نیچا دکھانے کے لئے معزز ججز کا کاندھا استعمال کرنے کی خواہش پختہ ہوتی جارہی ہے۔ تحریک انصاف سے متعلق مقدمات کے حالیہ فیصلوں کی وجہ سے عدلیہ کے طرز عمل پہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ مختصر فیصلے پر الیکشن کمیشن کے استفسار کے جواب میں عدالت عظمی کی وضاحت نے متعلقہ بنچ کی غیر جانبداری کو کافی حد تک متازعہ کر دیا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت جاری کی گئی جب کہ حزب اقتدار اپنے تئیں اہم قانون سازی میں مصروف تھی۔ حزب اختلاف نے اس عدالتی وضاحت پہ جس طرح بغلیں بجائی ہیں اس یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ ایوان عدل دانستہ یا نادانستگی میں سیاسی سہولت کاری کر بیٹھا ہے۔ پارلیمان کے بعد عدلیہ کو سیاسی اکھاڑا بنا کر آئینی تقاضے پامال کرنے والی قیادت دراصل ریاست کو انتشار اور عدم استحکام کی کھائی میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پارلیمان اور عدلیہ کے تقدس کو سب سے بڑا خطرہ ہیجان زدہ سیاسی جتھوں سے لاحق ہے۔