Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

عمران خان سے متعلق افواہیں

پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے متعلق عجیب وغریب افواہیں گردش کررہی ہیں۔ ان افواہوں میں کتنی صداقت ہے‘ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا‘ لیکن خان صاحب کی بہنوں نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ ان کی زندگی کو سخت خطرہ ہے۔ باالفاظ دیگر کچھ عاقب نااندیش عناصر ارباب حل وعقد کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ انہیں عمران خان کو سیاسی منظر سے ہٹا دیاجائے۔ انہیں مشورہ دینے والوں میں وہ سیاسی افراد شامل ہیں‘ جو حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں اور خوب مال بنارہے ہیں۔ ان میں شرم وحیا نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
تاہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کرناچاہیے کہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین ہونے کے علاوہ ملک کے سابق وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ اس وقت وہ پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جو ملک کے اندر اور باہر سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ اب وہ ایک cultکی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔ جبکہ پاکستان کے عوام کی اکثریت ان کو جیل سے باہر دیکھناچاہتی ہے تاکہ وہ مملکت خداداد کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ پابند سلاسل ہونے کی وجہ سے ان کے بہت سے فلاحی کام رکے ہوئے ہیں۔ جس سے عوام کو بلواسطہ فائدہ پہنچ سکتاہے۔
تاہم عمران خان کے سلسلے میں سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان کے مخالفین انہیں سیاسی منظر سے ہٹانے کی سازشوں میں مصروف ہیں‘ یقینا ایسی سوچ نہ تو پاکستان کی سیاست کے زمرے میں کسی قسم کی بھلائی یا اچھائی کا پہلو رکھتی ہے بلکہ اس سوچ سے عوام کے مختلف طبقات میں بے چینی پھیلتی ہے جوکسی بھی لحاظ سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔دراصل عمران خان کے خلاف سازشیں وہ سیاستدان کررہے ہیں جن کو عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جوارباب اختیار کو عمران خان سے متعلق غلط مشورہ دے رہے ہیں تاکہ وہ پاکستان کی سیاست میں اپنارول ادا نہ کرسکیں۔ نیز اگران ناکام سیاست دانوں کے مشورے پہ ارباب اختیار نے عمل پیرا ہونے کی کوشش کی تو ملک کے حالات نہ صرف بہت زیادہ خراب ہوجائیں گے بلکہ کنٹرول سے باہر بھی ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کے عوام عمران خان سے صرف اس لئے محبت کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنی محنت کی کمائی سے فلاحی کام انجام دیئے ہیں۔ مثلاً شوکت خانم ہسپتال‘ نمل یونیورسٹی وغیرہ ۔ جبکہ دیگر سیاستدانوں نے اس ملک کو بڑی بے دردی سے لوٹا ہے اور اس لوٹ ہوئی رقم کو باہر کے بینکوں میں منتقل کیاہے۔ جبکہ عمران خان نے جوکچھ بھی کرکٹ کے ذریعے کمایاہے اس کو پاکستان میں ہی خرچ کیاہے اور فلاحی ادارے بنائے ہیں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے۔ عمران خان کے ان فلاحی کاموں کی وجہ سے وہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں۔ جبکہ ان کے مخالفین سیاستدانوں کے پاس نہ تو اعلیٰ تعلیم ہے اور نہ ہی ان کے پاس عوام کے سیاسی ومعاشی حالات کو بہتر بنانے کا کوئی ویژن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سیاست دان حل وعقد کوخان صاحب کے خلاف بھڑکارہے ہیں اورایسے اقدامات کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں جوملک میں افراتفری کاباعث بن سکے۔یہ صرف طاقتور حلقوں کی خوشامد کرکے اپنے اقتدار کو برقرار رکھتے ہیں۔
اس لئے پاکستان کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ عمران خان کو جیل سے رہا کردیاجائے تاکہ وہ اس وطن کی نمایاںخدمت انجام دے سکیں۔ سمجھدار قومیں اپنے ہیروز کو مزید اچھے کام کرنے کے لئے نہ صرف راہیں ہموار کرتی ہیں بلکہ ان کا دامے‘ درمے ‘ سخنے ‘قدمے‘ ان کی مدد بھی کرنی ہیں تاکہ قوم اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوسکیں نیز عوام کو وہ تمام سماجی ومعاشی سہولتیں میسر آسکیں جوکسی بھی مہذب قوم کا وطیرہ رہاہے۔ دراصل کسی بھی ملک کی مادی اور روحانی قوت کاارتقا ایک خوشحال معاشرے سے وابستہ وپیوستہ ہوتاہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکا‘ عوام کو نہ تو اچھی تعلیم میسر آسکی اور نہ ہی اچھا معاش‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی اکثریت مایوس نظر آتی ہے۔ نیز جن کو پاکستان سے باہر جانے کا موقع ملتاہے وہ فوراً ہی ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ‘ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نو لاکھ پڑھے لکھے نوجوان اس ملک کو چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں آباد ہوگئے ہیںجو یقینا اس ملک کا بہت بڑا المیہ ہے۔ اگراس Brain drain کو نہ روکا گیا تو یہ ملک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں سے محروم ہوجائے گا‘ بلکہ ترقی معکوس کی طرف چلاجائے گا۔ دراصل عوام میں موجودہ سیاستدانوں کے لئے اچھے جذبات نہیں پائے جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے طاقتور حلقوں کے ساتھ مل کر اس ملک کے وسائل کولوٹا ہے جبکہ قانون بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا ہے ۔ ایسے سیاستدانوں کے تعلقا ت ان عناصر کے ساتھ ہوتے ہیں جو نہ صرف طاقت رکھتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ اس لوٹ مار میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ اس پس منظر میں عوام اگر عمران خان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو کون سا جرم کررہے ہیں؟ دراصل پاکستان کے عوام موجودہ سیاستدانوں کی کارکردگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔ انہیں عمران خان کی صورت میں حقیقی آزادی اور معاشی خوشحالی نظرآرہی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ عوام جلد عمران خان کو آزاد دیکھناچاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی اعلیٰ سوچ اور کارکردگی سے اس ملک کو معاشی ومعاشرتی خوشحالی سے ہمکنار کرسکیں۔ ذرا سوچیئے

یہ بھی پڑھیں