معاشرے کی ترقی امن سے مشروط ہے۔ امن ہو تو معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں ۔ علم و تحقیق کے در کھلتے ہیں تو نوجوان نسل میدان عمل میں بزرگوں کی راہنمائی میں کار ہائے نمایاں انجام دیتی ہے۔ آج ترقی کی راہ پہ گامزن معاشرے امن اور باہمی اتحاد کی مضبوط بنیادوں پہ ہی قائم ہیں۔ جن معاشروں میں امن نہیں وہاں انتشار اور طبقاتی تقسیم جنم لیتی ہے۔ یہ دونوں تخریبی عوامل معاشرے کی مجموعی ساخت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ بلوچستان میں بدامنی کا تذکرہ زبان زد خاص و عام ہے۔ دہشت گردی کا زہریلا سانپ پھن پھیلائےصوبے کے امن کو بربادکرنے کے درپے ہے۔ فوج ، ایف سی ، خفیہ ایجنسیاں اور پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسند عناصر کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ وسیع پیمانے پہ کی جانے والی تخریب کاری غیر ملکی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس معاملے میں ازلی دشمن بھارت کا کردار بالکل واضح ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسےعقل کے اندھوں کی کمی نہیں جو دہشت گردی کے معاملے پر بنا سوچے سمجھے ریاست کو سینگوں پر لے لیتے ہیں۔ انہیں یہ یاد نہیں رہتاکہ بھارت کاحاضر سروس اہلکار کھل بھوشن آج بھی پاکستان کی قید میں ہے۔ یہ امر شبے سے بالا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے بیج بھارت نے بوئے ہیں۔ کھل بھوشن بھارت کی سرحد پار ریاستی دہشت گردی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ بلوچستان میں فساد پھیلانے کے لئے بھارت ہمیشہ افغانستان کو تخریبی سرگرمیوں کی سرپرستی کا مرکزبناتا ہے۔ بلوچ سماج کی بعض کمزوریاں ہمیشہ سےبھارت کا کام آسان بناتی رہی ہیں۔ صوبے کا وسیع رقبہ، معاشی پسماندگی یا غربت اور قبائلی سرداروں کی مضبوط سماجی گرفت وہ عوامل ہیں جنہیں استعمال کر کے ملک دشمن عناصر بلوچستان میں نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور کرنے کے لئے کثیر الجہتی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو علم کی راہ سے بھٹکا کر تشدد اور نفرت کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ نئی نسل قلم اور کتاب سے منسلک ہو گئی تو اجتماعی شعور بہتر ہو گا۔ صوبے میں معاشی سر گرمی پروان چڑھنے لگی تو عوام کو روزگارمیسر ہوگا ۔ نوجوان غیر صحت مندانہ سرگرمیاں ترک کر کے تعمیری کاموں میں مصروف ہوں گے۔ بلوچ معاشرے کی اجتماعی ترقی اور استحکام دشمن کو منظور نہیں۔ یہ دشمن سرحد پار بھی بیٹھے ہیں اور ہمارے سماج میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ بیرونی دشمن کا معاملہ بھی اسی وقت پوری طرح نہیں نبٹایا جاسکتا ہے جب تک کہ اپنی صفوں میں چھپے سہولت کاروں کی سر کوبی نہ کر لی جائے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچ معاشرہ قبائلی سرداروں کے بے رحمانہ چنگل میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔ سرداری نظام کمزوروں کے استحصال اور طبقاتی تفریق جیسے غیر جمہوری عوامل پہ قائم ہے۔ ایک جانب با اثر سردار صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں روڑے اٹھاتے ہیں تو دوسری جانب نوجوانوں کو تعلیم و روزگار سے محروم کر کے انہیں شرپسندی کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ انہی محروم طبقات کو حقوق ، آزادی اور انقلاب کے دلفریب نعروں کے جال میں پھنسا کر بھارت ریاست کے خلاف پر تشدد کارروائیوں پہ اکساتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی ترقی نے بہت سے خفیہ معاملات عیاں کردیئےہیں ۔ نام نہاد انقلابیوں اور بھارت کی نظریاتی فیکٹریوں میں تیارکئےگئےجعلی کامریڈوں کی بھیانک حقیقت آشکار ہوتی جا رہی ہے۔ بھارت کے اکسانے پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے مزاحمت کاروں نے بالآخر یہ جان لیا کہ دشمن نے انہیں دھرتی ماں کو زخم لگانےکیلئے استعمال کیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ صبح کے بھولے شام کو گھر واپس لوٹ آئے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض جذباتی طبقات دشمن کے دام فریب میں ابھی بھی پھنسے ہوئے ہیں ۔ مزاحمت اور مسلح جدوجہد کےنعرےجب نوجوانوں کے خون کوگرماتےہیں تو بصیرت کمزور ہو جاتی ہے۔ بے بصیرت جنون صرف دشمن کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ عمر بھر کی کمائی لٹانےکے بعد بہکاوے کا شکار بننے والے عقل سے پیدل جعلی انقلابی شطرنج کی بساط پر ایک پٹے ہوئے مہرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ تاہم میر ہزارخان مری ایک منفرد کردار ہیں۔ ریاست کے خلاف مزاحمت کا علم بلند کیا ۔ ترک وطن کیا۔ افغانستان کے کوہ و دہشت چھانے۔ دشمن کے طور طریقے اور ناقابل اعتبار ہمسایوں کی منافقت کا مشاہدہ کیا۔ بالآخر غیور بلوچ کی دانش کام دکھا گئی۔ میر ہزارخاں مری نے مزاحمت پر مفاہمت کو ترجیح دی اور مادر وطن کے دامن میں عافیت ڈھونڈی۔
عمار مسعود اور ان کے رفیق کار محقق خالد فرید تحسین کے مستحق ہیں کہ آج کے پر آشوب دور میں میر ہزار خان مری کی روداد کے نہاں گوشے کتاب کی صورت منظر عام پہ لے آئے۔ کتاب کا عنوان ہے ” میر ہزارخان مری۔ مزاحمت سے مفاہمت”۔ عنوان کتاب کے متن کا بھر پور تعارف دے رہا ہے۔ بلوچ نوجوان اس کتاب سے بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ بلوچستان کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے۔ مسلمانوں کے قاتل مودی کے بھارت سے بلوچستان کو زخم ملتے رہےہیں اور ملتے رہیں گے۔ ان زخموں کا مرہم ماں جیسی ریاست سے ہی ملے گا۔ سرداری استحصال کا خاتمہ دراصل بلوچستان کی ترقی کا آغاز بن سکتا ہے۔ نوجوان مسلح جدوجہد اور علیحدگی پسندی کا جھانسا دینے والے بھارتی حواریوں کو پہچانیں۔ قلم،کتاب ، ہنر اور وطن سے محبت کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر دہشت گردی کے آسیب کو شکست دینے کے لئے ریاست کے جھنڈے تلے صف آرا ہو جائیں۔