Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

جمہوریت اور رکاوٹیں؟

لاہور میں تحریک انصاف کے جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے موجودہ حکومت نے ایڑی چوٹی کازور لگا لیا لیکن پھر بھی عوام کی فتح ہوئی اور جلسہ کامیاب رہا۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کرکے تحریک انصاف کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کردیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ لاہوریوں نے موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو یہ پیغام دیاہے کہ عوام کی اکثریت چاہے ان کا تعلق لاہور سے ہو یا پھر پاکستان کی کسی بھی جگہ سے‘ وہ تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں ‘کیونکہ اس وقت پاکستان میں حقیقی جمہوریت کامظاہرہ صرف اور صرف تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہورہاہے‘ باقی جماعتیں جمہوریت کی بقاء کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے رحم وکرم پر سیاست کررہی ہیں۔ تاہم لاہور میں تحریک انصاف نے پاکستان کے عوام کو یہ واضح پیغام دیاہے کہ پاکستان کی بقاء حقیقی جمہوریت کے احیا میں ہے۔ اگر کسی بھی جماعت نے موجودہ نامساعد حالات میں جمہوریت کے پرچم کو سربلند رکھا ہے تو وہ تحریک انصاف ہے۔ حالات یہ بتارہے ہیں کہ عمران خان ہی اصل میں جمہوریت کادوسرا نام ہے‘ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لاہور کے جلسے نے اس ناقابل تردید حقیقت کو ثابت کردیاہے کہ عوام جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
تاہم موجودہ حکومت کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوام جمہوریت کے حوالے سے action دیکھناچاہتے ہیںہر لمحہ بڑھتی ہوئی عمران خان کی مقبولیت کے سامنے موجودہ حکومت شدید ہزیمت اور بوکھلاہٹ کاشکار ہے‘ حالانکہ اس کو جوبھی وقت ملاہے‘ اس کو وہ عوام کی فلاح وبہبود کے زمرے میں بروئے کار لائے‘ لیکن حکومت کی کارکردگی اس کے برعکس ہے۔ عوام کی یہ سوچ حقیقت پر مبنی ہے‘ موجودہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ بلکہ اس کے سامنے عوام کی فلاح وبہبود کے زمرے میں کوئی روڈ میپ بھی نظرنہیں آرہاہے۔ پاکستان کے عوام جمہوریت کے حوالے سے سماج میں تبدیلی دیکھناچاہتے ہیں یعنی عوام کو معاشی اور معاشرتی تحفظ ملناچاہیے۔ جوکہ اکثریت کو حاصل نہیں ہے۔ جبکہ حکومت عمران خان کا ’’ہوا‘‘ کھڑا کرکے عوام کو درپیش حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاناچاہتی ہے جس میں وہ تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
دراصل موجودہ حکومت کو عمران خان کے خلاف مسلسل بے توقیر کرنے کا مشورہ نوازشریف دے رہے ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح عمران خان کی عوام میں مقبولیت کم ہوجائے گی لیکن حالات اس کے برعکس ظاہرکررہے ہیں پاکستان کے عوام کواس بات کا ادراک ہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کسی دوسری ’’غیبی طاقت‘‘ کی مرہومنت ہے‘ یہی وجہ ہے کہ عوام میں اسی کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی عمران خان کی مقبولیت کا سبب بن رہی ہے۔ نیز اگر عوام کی معاشی صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئے گی‘ تو حکومت مزید بدنام ہوگی اور عوام تبدیلی کے لئے احتجاج کریں گے۔
دراصل اس وقت عوام کو دواہم مسائل پریشان کررہے ہیں۔ پہلا مہنگائی جو ہرگزرتے دن کے ساتھ بے قابو ہوتی جارہی ہے۔ حالانکہ حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ مہنگائی کم ہورہی ہے لیکن مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بتارہی ہیں کہ حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ دوسرا بے روزگاری ہے جس کی وجہ سے نوجوان سخت پریشان ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ جنہوں نے حال ہی میں کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم مکمل کرچکے ہیں۔ ان کے لئے نوکری کے دروازے بند ہیں ‘ یعنی کارخانہ کے اور نجی دفاتر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت ملک چھوڑ کر باہر جارہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً نو لاکھ پڑھے لکھے افراد پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف جاچکے ہیں۔ جہاں انہیں معقول روزگار میسر ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس بے روزگار نوجوانوں کے لئے کوئی واضح روڈ میپ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں حکومت کے لئے کوئی عزت اور وقعت نہیں ہے۔ حکومت کی اچھی کارکردگی سے عوام کے دلوں میں اس کے لئے عزت پیدا ہوتی ہے جبکہ ناقص کارکردگی حکومت کو عوام کی نگاہوں میں بے توقیر بنادیتی ہے۔ تاہم اگر حکومت نے اب بھی اپنی حکمت عملی نہیں بدلی اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے روزگار کے دروازے نہ کھولے گئے تو عوام کی جانب سے موجودہ حکومت کو سخت مزاحمت اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ذرا سوچیئے۔

یہ بھی پڑھیں