نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے کئی حوالوں سے عالمی امور پہ متنازعہ لائحہ عمل اختیار کیا ہے۔ ایک جانب بھارت مغربی طاقتوں کا اتحادی بنا بیٹھا ہے تو دوسری جانب مغرب کے حریف روس سے بھی مفادات بٹور رہا ہے۔ کافی عرصے تک بھارت پہ منی سپر پاور بننے کا خبط سوار رہا ۔ یہ خبط ختم نہیں ہوا بلکہ مزید بڑھ چکا ہے۔ معاشی استحکام کا خمار اتنا شدید ہے کہ اب بھارت عالمی اکھاڑے میں سپر پاور بننے کے خبط میں مبتلا ہے۔ امریکہ بہادر سے مودی سرکار کی گاڑھی چھنتی ہے۔ چین کے پھیلتے اثر و نفوذ کو روکنے کے لئے جس فسادی قوت کی امریکہ کو ضرورت تھی وہ جنوبی ایشیائی خطے میں بھارت نے پوری کر دی ہے۔ چنانچہ انکل سام کی آشیرباد سے مہان دیش بھارت خطے کا تھانیدار بنا بیٹھا ہے۔ اس تھانیداری کی بھارت کو قیمت بھی چکانی پڑ رہی ہے۔ چار برس قبل گیلوان کے سرحدی علاقے چین کے ساتھ شروع ہونے والا تنازع ابھی تک نہیں سلجھ پایا۔ متعدد بار چینی سپاہ سے درگت بنوانے کے بعد بھارت اپنی عسکری برتری نہیں منوا پایا۔ تلملاہٹ کا شکار بھارت ایک جانب متنازع سرحدی علاقوں میں مہلک ہتھیاروں کے ڈھیر لگا رہا ہے تو دوسری جانب سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بلوچستان میں تخریب کاری کی سرپرستی کر رہا ہے۔ تاہم سفارتی مکاری کی انتہا یہ ہے کہ خطے میں فساد کے بیج بونے والا بھارت اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی اور علاقائی فورم پر یا تو سرحد پار دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کا راگ الاپتا دکھائی دیتا ہے یا پھر دنیا میں امن کے قیام کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہا رہا ہوتا ہے۔ بھارت کی یہ دو رنگی یا سفارتی منافقت اب مغربی دنیا پہ بھی بڑی حد تک آشکار ہو چکی ہے۔ جب یوکرائن جنگ کا اغاز ہوا تو مغربی دنیا میں روس کی مذمت کی طاقتور لہر اٹھی۔ اس کام میں بھارت کا دیرینہ دوست امریکہ پیش پیش تھا۔
ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں کے مصداق مغربی دنیا تو امریکہ کی ہم نوائی کرتی رہی لیکن مودی جی کا بھارت اس موقع پہ اپنے مغربی اتحادیوں کو دغا دے گیا۔ بھارت نے واضح الفاظ میں روسی جارحیت کی مذمت نہیں کی بلکہ گول مول انداز میں امن اور مذاکرات کی اہمیت اجاگر کرنے والے ہومیوپیتھک بیانات جاری کرنے پہ اکتفا کیا۔ واضح رہے کہ بھارتAUKUS نامی اتحاد میں امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا کا اتحادی ہے۔ یہ تمام اتحادی چاہتے تھے کہ نریندر مودی روس کے خلاف پیش کی جانے والی مذمتی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے یوکرائن میں ماسکو کی عسکری درانداری کی مخالفت کرے۔ بھارت نے روایتی سفارتی دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قرارداد پہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس سفارتی مکاری پہ مغربی دنیا میں کئی سوالات اٹھائے گئے۔ امریکہ بہادر نے مغربی حکومتوں کے ساتھ روس کے خلاف ہمہ جہت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاکہ پیوٹن حکومت معاشی دبا کا شکار ہو کر گھٹنے ٹیک دے۔ ان پابندیوں کے خلاف مغرب کا اتحادی اور امریکہ کا خاص دوست بھارت روس سے تجارت میں مشغول ہے۔ اپنے اتحادیوں کی خواہشات کے برخلاف بھارت نے روس سے کثیر مقدار میں سستا تیل خریدا ہے۔ جب مغربی تجزیہ کار اس دوغلے پن پہ اعتراض کریں تو گاہے بگاہے بھارت کھوکھلے بیانات کے ذریعے یوکرائن میں امن کی بحالی پر زور دے دیتا ہے۔ چند ہفتوں پہلے مودی سرکار اس بات پہ تنقید کی زد میں تھی کہ بھارتی وزیراعظم نے روسی صدر پوٹن سے براہ راست ملاقات کی۔ ابھی اس خبر کی گونج کم نہیں ہوئی تھی کہ مودی جی امن کا جھنڈا اٹھائے یوکرائن جا دھمکے۔ اس طرح کی منافقت اور دوغلے پن کے لیے ایک خاص قسم کی ڈھٹائی درکار ہوتی ہے جس کی بھارت جیسے مہان دیش میں کوئی کمی نہیں۔ عالمی قوتیں حیران ہیں کہ ایک ملک کس طرح سفارتی محاز پہ گرگٹ کی طرح تیزی سے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ یوکرائن کی نظر میں روس جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ بھارت اسی روس سے تجارت کر رہا ہے۔
مغربی پابندیوں کے حصار کو نرم کرنے کے لیے تجارت کے ذریعے روس کو معاشی سہارا فراہم کر رہا ہے۔ روس کی معاونت کرنے کے باوجود یوکرین کی حکومت کو وہی مودی سرکار امن اور ثالثی کا چورن بیچ رہی ہے۔ یہ معاملہ یہاں تھما نہیں۔اقوام عالم کی انکھیں اس وقت کھلیں جب رائٹرز اور بی بی سی جیسے فورمز سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ بھارتی ساختہ گولا بارود اب یوکرین کو بھی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ساختہ گولہ بارود اٹلی اور چیک ری پبلک سے یوکرین سپلائی کیا جا رہا ہے۔ بھارت یہ کہہ کر اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا کہ یہ اسلحہ یورپی ممالک یوکرین کو فراہم کر رہے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بھارت کے پاس یہ قانونی گنجائش موجود ہے کہ وہ خریداروں کو یہ اسلحہ مزید کسی دوسرے ملک کو فراہم کرنے سے روک دے۔ بھارت اس معاملے پہ مکارانہ لا تعلقی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جس روس سے بھارت کے تجارتی تعلقات ہیں اس کے خلاف بھارتی گولہ بارود یوکرین کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے۔ مکاری اور فریب بھارت کی ریاستی پالیسیوں کا لازمی جزو ہے۔ بھارت کے کروڑوں شہری مسلم عرب ممالک میں روزگار کے سلسلے میں دہائیوں سے قیام پذیر ہیں۔ انہی عرب ممالک کی خواہشات کے برعکس غزہ کے مظلوم شہدا کے قاتل اسرائیل سے بھارت کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی وحشیانہ حرکتوں کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد میں بھارت نے حصہ نہیں لیا۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت غزہ کے مظلوم شہدا کے قاتل اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ بھارت کی منافقانہ اور انسانیت دشمن سفارت کاری کا فریب آشکار ہوتا جا رہا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین یہی سوال کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر، منی پور ، مشرقی پنجاب اور آر ایس ایس کے زیر اثر ریاستوں میں انسانی حقوق پامال کرنے والا بھارت کس منہ سے مذاکرات، امن اور انسانی بہبود کے دعوے کر سکتا ہے۔