پاکستان 77برس کا ہو گیا۔ہم سب جانتے ہیں ہر سال جب 14اگست آتا ہے،ہم اپنی آزادی کا یہ دن بڑے تزک و احتشام کے ساتھ مناتے ہیں اور جوش و جذبے سے آزادی کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔گزرے اِن 77برسوں کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں ضرور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم نے ان 77برسوں میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ کیا ہم پاکستان کو اقبالؒ اور محمد علی جناح ؒکا پاکستان بنا سکے۔صحیح انداز اور درست سمت میں تکمیل کر سکے۔یوم آزادی کو گزرے قریباً ایک ماہ سے زیادہ کاعرصہ گزر چکا لیکن مجھے اب یہ خیال کیوں آیا؟کہ پاکستان کے گزرے اِن سالوں کو موضوعِ سخن بنائوں۔ سیدھی سی بات ہے،وطن سے محبت کرنے والا جو بھی شخص ہو گا،چاہے گا میرے وطن کی ہوائیں سلامت رہیں۔اس میں کبھی خزاں نہ آئے۔ہمیشہ یہاں محبتوں کے پھول کھلے رہیں۔یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں ہم 47 میں آزاد ہوئے مگر ابھی تک 47 سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ہم ایسی قوم ہیں جو ابھی بھی گم گشتہ راہ کے مسافر ہیں۔کوئی منزل نہیں،منزل کا کوئی تعین نہیں۔ہمارے بزرگوں نے سوچا تھا الگ وطن حاصل کر لیں گے تو حقیقی آزادی پا سکیں گے۔اپنی پالیسیاں خو د مرتب کریں گے۔زندگی کو آسان کر دینے والے معاملات کو یقینی بنائیں گے۔ہمارے بڑوں کے بڑے خواب تھے۔لیکن ان 77 برسوں میں ہم کسی بھی معاملے کو آگے نہیں بڑھا سکے،نا یہ یقینی بنا سکے کہ بے بہا قربانیوں کے بعد جو سرزمین ہم نے حاصل کی،کیا وہاں سب کچھ ٹھیک ہے اور ٹھیک ہی ہو رہا ہے؟
ہمارا سارا سسٹم جس میں معیشت بھی آتی ہے، عدل و انصاف کے ایوان اقتدار کی مسندیں اور زندگی کے دیگر معاملات مسائل بھی۔کیا سب ٹھیک ہے،تو جواب یقینی طور پر نفی میں ملے گا کہ سب کچھ ٹھیک کہاں ہے۔77 سالوں سے جو مشکلات ہیں جو مصیبتیں ہیں ان کی ایک طویل کہانی ہےلیکن موٹی موٹی باتیں کر لیتے ہیں تاکہ الفاظ رقم ہو جائیں اور ایک تاریخ بن جائیں۔ہم آج کل جن حالات سے گزر رہے ہیں انہیں دیکھ کر یہ فکر ضرور ہوتی ہے کہ 47 میں آزاد ہوئے لیکن ابھی تک 47 سے آگے نہیں بڑھ سکے۔الگ وطن تو حاصل کر لیا لیکن منزل کا تعین نہیں کر سکے۔منزلوں کا تعین نہ ہو تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔منزل تک پہنچنا دشوار اور مشکل ہو جاتا ہے۔آزادی کا مطلب ہوتا ہے کہ ہم خود سے جی سکیں۔ اپنے فیصلے خود کر سکیں لیکن ہمارے ہاں فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔آئین اور حلف کی بالکل بھی پاسداری نہیں کی جاتی۔اگرچہ حکومت کرناسیاسی جماعتوں کا کام ہے لیکن حکومتی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی عملداری ازل سے رہی ہے۔صحیح سمجھیں یا غلط،لیکن اس میں زیادہ قصورہمارے سیاستدانوں کا ہی ہے جو اقتدار تک پہنچنے کے لیئے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے مرہونِ منت رہے ہیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں حق رائے دہی کی سب سے زیادہ اہمیت ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ ہی جمہوری اقدار کو پامال کیا گیا۔چور دروازے سے اقتدار میں آنےوالے ہمیشہ عوامی حمایت سےمحروم رہتےہیں جو عوامی پذیرائی کی حامل جماعتیں ہوتی ہیں وہ کبھی کسی اور کی طرف نہیں دیکھتیں۔اپنے بل بوتے پر ہی اقتدار میں آتی ہیں۔ اقتدار میں آنے کی پہلی سیڑھی عوامی پذیرائی کو ہی سمجھتی ہیں جس نے یہ بات سمجھ لی،سمجھیں،کامیاب ہو گیا۔
پاکستان میں اس وقت ڈیڑھ سو سےزیادہ جماعتیں بطورسیاسی جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں،ماسوائے دو،تین سیاسی جماعتوں کے کسی بھی جماعت کو قومی سطح کی جماعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ماضی بعید میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں عوامی مقبولیت کے جو ریکارڈ قائم کئے۔وہ آج تک کسی دوسری جماعت کے حصے میں نہیں آسکے۔ہمارے ہاں علاقائی جماعتوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔صوبہ سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ جماعتیں کثرت سے ملتی ہیں۔جنرل الیکشن ہوتے ہیں تو ان جماعتوں کی لاٹری نکل آتی ہے۔اگرچہ ان کے ہاتھ بعد از انتخابات زیادہ سیٹیں نہیں آتیں لیکن یہ اتنی سیٹیں ضرور حاصل کرلیتے ہیں جو کسی بھی بڑی جماعت کے لیئےحکومت سازی میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں۔یہ علاقائی جماعتیں نہ ہوں تو شائد کوئی بھی حکومت سازی نہ کر سکے۔آزادی حاصل کر لینے کے باوجود ہم اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد نہیں۔پالیسیوں کی تشکیل میں کسی نہ کسی کا عمل دخل ضرور رہتا ہے۔1948ء میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی وفات کے ساتھ ہی ریاستی اور قومی معاملات کا توازن بگڑنا شروع ہوا تو پھر سنبھلنے کا نام ہی نہیں لیا۔جو بھی اقتدار کی کرسی پر آیا اس نے ملک کے بگڑتے ہوئے معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔کسی نے کوشش کرنا بھی چاہی تو اسے یہ کوشش کرنے نہیں دی گئی۔سب نے اپنا وقت پورا کیا۔وقتی پالیسیاں بنائیں اور اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہو گئے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیسے کرنا ہے۔اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 1947 ء میں آزادی کے وقت اس نئی ریاست میں بائی ڈیفالٹ کچھ خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں وقت کا تقاصا تھا کہ ان خرابیوں کو دور کیا جاتا،مسائل کو حل کیا جاتا لیکن کسی بھی طرف سے ایسی کوشش ہوتی نظر نہیں آئی۔نتیجہ ایک بکھری ہوئی قوم اور ایک خستہ حال ریاست ہمارے سامنے ہے۔حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ سیاست دانوں کو سیاستدانوں پر،حکمرانوں کو اپوزیشن اور اپوزیشن کو حکمرانوں پر کوئی اعتبار اور اعتماد نہیں رہا۔ملک کے عوام اورخود ریاست جس تنائو کا شکار ہے اس میں سے اسے کیسے نکالا جائے؟یہ سوچنے کی بات ہے لیکن اس پر بہت کم سوچا جاتا ہے۔غور ہی نہیں کیا جاتا کہ یہ حالات یونہی چلتے رہے تو بالاخر اس ملک کا کیا بنے گا اور قوم کیونکر مشکلات سے نکلےگی؟ آج پاکستان کو جتنے سنگین چیلنجز کاسامنا ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔
پچھلی ایک دہائی سے ہم گھمبیر سیاسی صورت حال سے دوچار ہیں۔اگرچہ ملک میں دو،تین ہی بڑی جماعتیں ہیں جنہیں ہم قومی سطح کی جماعتیں قرار دے سکتے ہیں لیکن ان میں کسی بھی قسم کی سیاسی ہم آہنگی نہیں۔جب تک ہم ایک دوسرے کو برداشت نہیں کریں گے،کسی بھی صورت بھائی چارے اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا نہیں ہو گا۔سیاسی جماعتوں کے مابین محاذ آرائی کاایسا ماحول ہےکہ ہم دنیاکے لئے تماشا بن گئے ہیں۔اس انتشار و خلفشار کا تذکرہ اب غیر ملکی سفیر بھی کرنے لگے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ رنگ و نسل اور ہر طرح کے امتیازسے بالاتر ہو کر ایک سبز ہلالی پرچم تلے جمع ہونے والے اب ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے بھی عاری ہیں۔معاملات صبر اور برداشت کی حد سے باہر ہو چکے ہیں۔گالی گلوچ،ایک دوسرے پر غلیظ الزامات اور بہتان تراشی کا کلچر اب شدت سے فروغ پا رہا ہے۔نفرتوں کے ایسے بیج بوئےجا رہے ہیں،جس کی فصل کاٹنی پڑ گئی تو اثرات بہت گہرے اور دوررس ہوں گے۔