Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

اب اسرائیل کی جارحیت لبنان کی طرف

عالمی تجزیہ نگاروں کا یہ خیال درست تھا کہ اسرائیل غزہ کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کرنےکے بعد جنوبی لبنان کی طرف پیش قدمی کرے گاجہاں حزب اللہ کے مجاہدین ایک عرصہ دراز سے مقیم ہیں اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ غزہ پراسرائیلی جارحیت کے بھی خلاف ہیں اور اس کی جارحیت کوروکنے کے لئے جنوبی لبنان سے راکٹ کے ذریعے حملے کررہے ہیں تاکہ اسرائیل کی توجہ غزہ سے ہٹ کر جنوبی لبنان کی طرف منتقل ہوجائے جہاں اس کو حزب اللہ کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنےپڑ رہاہے ۔ غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں یہ اندوہناک سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کے بیشتر امن پسند ممالک نے اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئےاس کو فی الفور روکنے کے لئےاقوام متحدہ پر زور لگارہے ہیں بلکہ دبائو بھی ڈال رہے ہیں تاکہ غزہ اور اس کے گرد ونواح میں فلسطینیوں کےلئے زندہ رہنے کی گنجائش پیدا کی جاسکے۔ تاحال اسرائیل نے ابھی تک غزہ میں اپنی جارحیت کو روکنے کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ یہ جنگ غزہ سے نکل کر جنوبی لبنان تک جاسکتی ہے جہاں جنگجو فلسطین ایک عرصہ دراز سے مقیم ہیں اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اپنے زور بازو پربھروسہ کرتے ہوئے اس کیخلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اس وقت غزہ اور اس کے گردونواح میں جو صورتحال نظرآرہی ہے اس کے پیش نظر اسرائیل غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے تاکہ وہاں ایک فلسطینی بھی دوبارہ آباد نہ ہوسکے، لیکن یہ اسرائیل کی بھول ہے کہ وہ غزہ کو مکمل طور پر تباہ وبرباد کرکے اس پرقبضہ کرلے گاکیونکہ فلسطینی خصوصیت کے ساتھ حماس اور ان کے دوست، اسرائیل کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرکے اس کی جارحیت کو روکنے کی کوشش کررہےہیں تاہم اسرائیل ابھی تک غزہ پر قبضہ نہیں کرسکاہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس نے اس پٹی پروحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کردیاہے اس مذموم کارروائیوں کو مسلسل ناکام بنانے کے لئےفلسطینیوں کی طرف سے سخت ترین مزاحمت کا سامناہے۔ ہرچند کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اس کو روکنے کی کوشش کی ہے لیکن اسرائیل مغربی ممالک کے تعاون سے اپنی جارحیت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس ضمن میں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اسرائیل غزہ یا پھر مغربی کنارے پر بھی کبھی بھی قبضہ نہیں کرسکے گا اور اگر ایسا ہوبھی جاتاہے تو پھراس خطے میں فلسطینیوں کی جانب سے گوریلا جنگ کا آغاز ہوگا جس کو اسرائیل نہیں روک سکے گا۔تاہم اسرائیل کی مغربی لبنان کی جانب جوپیش قدمی جونظر آرہی ہے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اسرائیل چاہتا بھی یہی ہے تاکہ فلسطینیوں کی زمینوں پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کیاجاسکے، ماضی میں بھی اسرائیل نے لبنان پرحملہ کرکے فلسطینیوں کی جانب سے مزاحمت کوختم کرنے کی کوشش کی تھی۔اس وقت یاسر عرفات زندہ تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جارحیت کامقابلہ بھی کررہے تھے۔ اب اسرائیل کے لئے فلسطین کی جانب سے مزاحمت کوختم کرنا آسان ہے۔ اس لئے کہ اس وقت حماس کے علاوہ اور کوئی بڑی مزاحمتی تنظیم اسرائیل کے خلاف برسرپیکار نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود حماس اسرائیل کی جارحیت کو مزاحمت کے ذریعے مزید آگے بڑھنے سے روک رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک اسرائیل پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی جارحیت کو روکے اور غزہ کی باقی بچ جانے والی آبادی پر بمباری بندکرے۔ ابھی تک اسرائیل نے غزہ پر جنگ بند کرنے کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے بلکہ جنوبی لبنان کو بھی اس جنگ میں گھسیٹتاجارہاہے۔ جہاں حزب اللہ کی جانب سے اس کو سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ پڑرہاہے۔ اس لئے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بڑھتی ہوئی جنگ کو روکنے کی کوشش کرے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی ہولناک آگ میں جھوکنے سے بچایاجاسکے ۔
اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیاہے، اس کے پیش نظر تمام عرب ممالک کو اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات کوختم کردیناچاہیے تاکہ اسرائیل کو یہ احساس جاگزیں ہوسکےکہ اس وقت بھی عرب اتحادموجود ہےاوراس کی جارحیت کو روکنے کے لئے متحدبھی ہے تاہم اس وقت عالمی تبصرہ نگاروں کی یہ رائے ہے کہ اسرائیل کی جارحیت کو فی الفور روکاجائے ورنہ اگر اس کا دائرہ لبنان یا پھراس سے آگے تک پہنچ گیا تو اس صورت میں پورا مشرق وسطیٰ ایک نئی آگ کے شعلے کی لپیٹ میں آسکتا ہےجو بعد میں عالمی امن کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کوصرف اور صرف امریکہ کوروک سکتاہے جو ایک سپرپاور ہونے کے علاوہ اسرائیل کا اس خطے میں زبردست حامی ہے۔ تاہم بعض امریکی دانشورں کا خیال ہے کہ امریکہ بھی نہیں چاہے گا کہ اسرائیل لبنان پر بھرپور حملہ کرکے مشرق وسطیٰ میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ مزید برآں سعودی عرب کا بھی امریکہ پر دبائو ہے کہ وہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔سعودی عرب کی جانب سے اس مطالبے کا روشن پہلو یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کو لبنان اور غزہ میں جنگ بندی کراسکتاہے۔ یہی مطالبہ دنیا کے تمام امن پسند لوگوں کا بھی ہے۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں