آج کل ملک میں آئینی ترامیم کا بڑا چرچا ہے تو میں نے سوچا میں بھی ایک اہم ترمیم کی تجویز دے دوں۔ ویسے تو مجھے یقین ہے کہ میری اس ترمیم سے موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں شامل اکثر سیاسی جماعتیں اتفاق نہیں کریں گی مگر میرا فرض ہے کہ میں یہ بات عوام کے سامنے ضرور رکھ دوں۔ کیا پتہ کوئی صاحب اختیار ہستی اسے پڑھ ہی لے اور متاثر بھی ہو جائے اور اس تجویز پر عمل کا کوئی سبب بن ہی جائے۔
ہمارے ملک میں جو سیاسی مسائل ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بہتات۔ آپ اگر ان تمام ملکوں کو دیکھیں جہاں ایک مستحکم سیاسی نظام قائم ہے اور کامیابی سے چل بھی رہا ہے تو آپ کو ایک اہم بات نظر آئے گی ان ملکوں میں قومی سطح پر صرف دو یا تین سے زیادہ سیاسی پارٹیاں نہیں ہیں۔ ان ممالک میں اتحاد اور فیصلوں کی بہتر رفتار کا سبب بھی یہی بات ہے۔ اس کے برعکس ماشاء اللہ ہمارے وطن عزیز میں 170 سے زائد سیاسی پارٹیاں ہیں جنہوں نے ملک کے طعام کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اگر آپ قومی اسمبلی کو دیکھیں وہاں بھی بیس کے قریب سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں جو صرف اور صرف اپنی پارٹی کے مفاد میں ہی چلتے ہیں۔ کئی پارٹیاں تو صرف دو یا تین اراکین پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد اراکین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے ان آزاد اراکین کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا۔ وہ صرف ذاتی مفاد کی خاطر کام کرتے ہیں۔ یہ چھوٹی پارٹیاں اور آزاد اراکین ہر وقت وزارتوں یا دفاتر کے چکر میں بلیک میلنگ کرتے رہتے ہیں۔
سیاسی پارٹیوں کی اس بہتات نے ملک کے سیاسی نظام کو بہت ہی کمزور کر دیا ہے۔ بڑی پارٹی کوئی رہی نہیں اور چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اپنے چار پانچ اراکین کے بل بوتے پر حکومت اور اپوزیشن کو بلیک میل کرتی رہتی ہیں۔ حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔
میری تجویز ہے کہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مندرجہ ذیل نظام متعارف کروایا جائے جو مندرجہ بالا تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
-1 پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام انتخابات دو مرحلوں میں کروائے جائیں۔
-2 ہر سطح پر یعنی قومی یا صوبائی سطح پر جو بھی سیاسی جماعت پہلے رائونڈ میں 25 فیصد سے کم مجموعی ووٹ حاصل کرے تو اس کے تمام اراکین نااہل قرار دے دیئے جائیں۔ مثلاً اگر پنجاب کا صوبائی الیکشن ہو رہا ہے تو پہلے رائونڈ کو جس سیاسی جماعت کو پنجاب بھر کے مجموعی ووٹ کا 25 فیصد سے کم ووٹ ملا ہو اس کے تمام اراکین نااہل قرار دیئے جائیں گے۔
-3 ہر آزاد امیدوار کو بھی ایک علیحدہ پارٹی تصور کیا جائے۔ اب چونکہ کوئی کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو وہ مجموعی ووٹ کا پچیس فیصد تو کجادو فیصد حصہ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔ تمام آزاد اراکین الیکشن سے باہر ہو جائیں گے۔ یہ آزاد اراکین ملک کے سیاسی نظام کو جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں اور ملک کا خون چوس رہے ہیں۔ ان کو سیاسی نظام سے باہر رکھنا بہت ضروری ہے۔
-4 کسی بھی امیدوار کو صرف اسی حلقے سے الیکشن لڑنے کی اجازت ہو جہاں وہ ووٹنگ سے کم از کم چھ ماہ قبل سے ایک رجسٹرڈ ووٹر ہو۔ اس طرح بارہ بارہ سیٹوں سے الیکشن لڑنے کے مذاق کا قلع قمع ہو جائے گا اور منتخب اراکین اپنے اپنے حلقے سے وفادار رہیں گے۔
-5 مندرجہ بالا اقدامات سے سیاسی تماشا گروں کا خاتمہ ہو جائے گا اور صرف مستقل مزاج اور صحیح سیاسی مزاج رکھنے والے سیاستدان میدان میں رہ جائیں گے اور اپنے اپنے حلقے کی سنجیدگی سے خدمت اور نمائندگی کریں گے۔
-6 الیکشن کے دوسرے رائونڈ میں صرف انہی سیاسی جماعتوں کے اراکین الیکشن لڑ سکیں گے جن پارٹیوں کو پہلے مرحلے پر مجموعی طور پر پچیس فیصد سے زیادہ ووٹ ملا ہو اس طرح دوسرے مرحلے میں دو یا زیادہ سے زیادہ تین سیاسی پارٹیوں کے امیدوار رہ جائیں گے۔ صرف انہی نشستوں پر انتخاب ہوگا جہاں پر نااہل جماعتوں کے اراکین جیتے تھے۔
-7 اس طرح ہر صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں صرف دو یا تین جماعتوں کے نمائندگان پہنچ پائیں گے۔ اس سے حکومت بھی مضبوط بنے گی اور اپوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ تاکہ اسمبلی پر ایک مستحکم چیک اور بیلنسز کا نظام ہو۔ یہ دو دو تین تین اراکین رکھنے والی بلیک میلر جماعتیں منظر سے غائب ہو جائیں گی۔
یہ تجاویز بڑی سطحی اور بنیادی طرز کی ہیں لیکن اگر ان پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو ملک سے سیاسی غیر یقینی کا خاتمہ کر کے ایک مستحکم سیاسی نظام کی اساس رکھی جا سکتی ہے۔