ایک صوبے کے مہا منتری خبروں میں چھائے ہوئے ہیں۔ گو ا ن سے پرخاش رکھنے والے سیاسی مخالفین کی بھی کمی نہیں لیکن میڈیا پہ جناب کا ڈنکا بج رہا ہے ۔ تحریک انصاف کی ایکشن فلم میں مہا منتری جی کو ڈبل رول دیا گیا ہے۔ یہ رول فلم کے ہدایتکار سابق پردھان منتری نے دیا ہے جو کہ آج کل اڈیالہ جیل میں اسیر ہیں۔ مہامنتری کا فلم میں رول بہت دلچسپ ہے! ایک رول کے مطابق انہوں نے صوبے میں راج سنگھاسن پہ براجمان رہنا ہے جبکہ دوسرے رول میں انہوں نے بطور اپوزیشن ہیرو ایکشن اور مار دھاڑ سے لبریز فائٹ سین بھی فلمبند کروا نے ہیں۔ مہا منتری غضب کے کلاکار ہیں۔ دونوں کردار بڑی مہارت سے نبھا رہے ہیں۔ جب صوبے میں ہوں تو ٹریجڈی کنگ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ گلو گیر لہجے اور نم ناک آنکھوں کے ساتھ اپنے صوبے کی ناگفتہ بہ حالت کی تمام ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ جب جلسہ ہو تو ایکشن ہیرو کے رول میں سٹیج پہ آپے سے باہر ہو کر بڑھکیں مارتے ہیں۔
گنڈاپوری سٹائل ان کی جماعت کے کارکنان میں مقبولیت پا رہا ہے۔ ترنول جلسے میں ان کی اداکاری عروج پہ تھی۔ ایک منجھے ہوئے اداکار کی طرح انہوں نے وفاقی حکومت کو للکارا بلکہ دھمکایا!اپنی جماعت پہ ڈھائے جانے والے مصائب کا ذکر کر کے کارکنوں کو رلایا! اڈیالہ جیل توڑ کر سابق پردھان منتری کو دو ہفتوں میں رہا کروانے کا دعویٰ کر کے لہو کو گرمایا!نون لیگ کو بالخصوص اور دیگر جماعتوں کو بالعموم بددیانت اور ملک دشمن قرار دینے والا پرانا کلام نئی دھن میں پیش کیا۔ پنجاب کی خاتون وزیراعلیٰ کے خلاف ان کی لفظی گولہ باری پہ سنجیدہ حلقے تنقید کر رہے ہیں۔ بات یہاں رکی نہیں۔ ایکشن ہیرو نے صحافیوں کو بھی اخلاق سے گری ہوئی صلواتیں سنائیں۔ البتہ اصحاب انصاف اس شعلہ بیانی کو مہامنتری کی جذباتی اداکاری قرار دے کر تعریف کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ گنڈاپور برادری کے سپوت نے مروت قبیلے کے تیزی سے ابھرتے کلاکار کی مقبولیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مہامنتری جی ایکشن اور ٹریجڈی کے ساتھ ساتھ کامیڈی میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بعض ناقدین اڈیالہ جیل دو ہفتے میں توڑ کر اپنے محبوب قائد کو رہا کروانے والی بڑھک کو کامیڈی قرار دے رہے ہیں۔ البتہ پارٹی کے حامیوں نے اسے سنجیدہ دعویٰ سمجھ لیا۔ حقیقت تب کھلی جب نون لیگ کے بعض وزیروں نے دن گن گن کر گنڈاپور صاحب کو اڈیالہ جیل کی جانب پیش قدمی کا دعویٰ یاد دلا کر ان کی بھد اڑائی۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ مہامنتری نے اڈیالہ جیل کا رخ نہیں کیا۔ ان کے حامی کہتے ہیں کہ جلسوں میں کئے گئے دعوئوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئیے ۔ گنڈاپور بہت جذباتی ہیں۔ اپنے قائد کی آنکھ کا تارہ ہیں۔ فلم کے ہدایتکارنے انہیں دوسرے رول میں کامیڈی اور ایکشن کا امتزاج پیش کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اس رول کی ادائیگی میں گنڈاپور تن من دھن سے جتے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ دھن تقسیم کرنے کی ویڈیو سب دیکھ چکے ہیں۔ ان کی لاہور جلسے میں شرکت بھی سسپنس سے بھرپور تھی۔ یہی ماحول انہوں نے راولپنڈی کے احتجاج میں شرکت کے موقع پر بنایا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے مہا منتری وہ ڈون ہیں جسے گیارہ ملکوں کی پولیس تلاش کر رہی ہے۔
لاہور جلسے کے لئے ان کی آمد کا منظر دیدنی تھا۔ ایکشن ہیرو کے قافلے میں بیش قیمت گاڑیاں ، کرینیں ، ایمبولینس اور ہتھیار بند باڈی گارڈز کو دیکھ کر تامل فلموں کے مناظر ذہن میں آتے رہے۔ جلسے میں اعلان ہوتے رہے کہ گنڈاپور چل پڑے ہیں!گنڈاپور راستے میں ہیں!گنڈاپور آرہے ہیں !جلسہ شروع ہوا اور ختم بھی ہو گیا۔ ایکشن ہیرو جلسے میں نہ پہنچ پائے۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد تاریکی میں ڈوبے پنڈال میں ایکشن ہیرو کی انٹری ہوئی تو سامعین جا چکے تھے۔ ہیرو نے انٹری دی اور کانٹوں بھرے راستے میں دشمنوں سے مڈھ بھیڑ کی روداد بیان کر کے اپنی حاضری لگوائی۔
بلاشبہ مہامنتری ایک کامیاب ایکشن ہیرو ہیں۔ ان کی جدوجہد کے پی سے پنجاب موٹر وے تک پھیلی ہے۔ پنجاب میں انہوں نے کسی مقام پہ ایک گاڑی کے شیشے اپنے دست مبارک سے توڑ کے گاڑی کے مالک سے زبردستی تحریکی قربانی بھی لی ہے۔ راولپنڈی والے احتجاج میں شرکت کی ان کی کاوش بھی ایکشن سے بھرپور تھی۔ اس مرتبہ بھی ان کا تمام دن دشمن قوتوں سے سڑکوں پہ نبرد آزما ہوتے گذرا۔ اگلے روز انہوں نے نرم صوفے پہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر گرما گرم بڑھکیں ماریں!گولی کا جواب گولی اور مارو یا مر جائو قسم کے ڈائیلاگ بولے۔ مہامنتری اپنے دوسرے کردار میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ اپنا پہلا کردار بھولتے جا رہے ہیں۔ صوبے میں دہشت گردی ، لاقانونیت اور بدامنی کا راج ہے البتہ ایکشن ہیرو پنجاب پولیس سےآنکھ مچولی کھیلنے میں مشغول ہے۔ کبھی گاڑی کے اندر ، کبھی گاڑی کے باہر تو کبھی گاڑی کی چھت پر۔ سب حیران ہیں کہ اس ہیرو کو چھلاوہ کہیں یا سپائڈر مین؟