ہندوتوا کی علمبردار بی جے پی ہر قیمت پر مقبوضہ جموں کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے تلملا رہی ہے ۔ دس سال کے تعطل کے بعد اب مقبوضہ علاقے میں الیکشن کا ڈرامہ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے رچایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر بین لاقوامی سطح پہ تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد یہ تقاضہ کرتی ہے کہ کشمیری عوام آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں ۔ چنانچہ متنازعہ علاقے میں قابض بھارتی افواج کی بندوقوں کے سائے تلے منعقد کئے جانے والے الیکشن کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔ بھارتی ریاستی جبر کے باوجود کشمیری عوام مودی سرکار کے سامنے سر نگوں ہونے کو تیار نہیں۔ کشمیری عوام نے الیکشن میں بی جے پی کو مسترد کر کے ایسے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے جو حریت کشمیر کا پرچم تھامے بھارتی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں ۔ ایسی ایک شخصیت انجینئر عبدالرشید کی ہے جس نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو الیکشن کے اکھاڑے میں چاروں شانے چت کر دیاہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری عوام اور انسانی حقوق کے علمبردار جعلی الیکشن کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار بھارت کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق دینے کے لئے تیار نہیں۔ بی جے پی کے عہد اقتدار میں مودی سرکار کی شکل میں بھارت پر ایسا انتہا پسند گروہ راج کر رہا ہے جو علی الاعلان مسلم کش ایجنڈے پر کاربند ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور مسلم اقلیت بی جے پی کے انتہا پسندانہ اہداف میں سر فہرست ہیں ۔ انتخابات میں بی جے پی مذہبی جنونیت اور مسلم دشمن جذبات کی آگ بھڑکا کر ووٹ بٹورنے کی حکمت عملی پہ کاربند ہے۔ انتخابات سے پہلے بھی بی جے پی سرکار نے جعلی سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچا یا اور انتہا پسند حلقوں کے ووٹ بٹورنے کے لئے پاکستان دشمنی کا کارڈ کھیلا۔ بی جے پی اور مودی اسی عیارانہ روش پہ قائم ہیں ۔ گذشتہ انتخابات میں بھی ہندوتوا بریگیڈ مسلم دشمنی کی آگ بھڑکا کر انتخابی میدان میں اتر ا لیکن مودی متوقع اکثریت حاصل نہ کرپایا۔ بی جے پی سرکار نے جس طرح رام مندر کی افتتاحی تقریب میں مودی کو ہیرو بنا کر پیش کیا اس پہ دنیا بھر میں تنقید ہوئی ۔پہلے تو انتہا پسند حلقوں کو رجھانے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی خود مختاری پہ وار کیا گیا ۔ پانچ سال قبل تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو بالائے طاق رکھ کر مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر بشمول لداخ کو ریاستی عملداری میں لینے کے لئے آرٹیکل ۳۷۰ کو منسوخ کر دیا۔ مقبوضہ جموںو کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے مودی سرکار سازشانہ ہتھکنڈوں سے آبادی کا تناسب بدل رہی ہے ۔ اس سازش پہ عمل درآمد کرنے کے لئے جموں میں غیر کشمیری ہندووں کو وہ حقوق دئے جا رہے جو معطل شدہ آرٹیکل ۳۵ اے کے تحت صرف ریاست کشمیر کے مستقل رہائشیوں کو ہی حاصل تھے ۔ بھارتی عدلیہ نے آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے خلاف دائر اپیلوں پہ انتہائی متنازعہ فیصلہ دیا ۔ اس بے بنیاد فیصلے سے یہ عیاں ہو گیا تھا کہ بی جے پی سرکار ہر قیمت پر مقبوضہ کشمیر پر ہندوتوا کا پرچم لہرانا چاہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر عروج پہ ہے۔ ماورائے ریاست قتل ، غیر قانونی گرفتاریاں ، حراستی تشدد اور جعلی مقدمات کے باوجود کشمیری حریت پسند عوام بھارت کے انتخابی ڈھونگ کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مستقبل میں مودی کی قیادت میں بی جے پی مسلم دشمن اقدامات کا دائرہ وسیع کرے گی اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر میں تیزی آئے گی ۔ بھارتی وزراء کے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلق دھمکی آمیز بیانات مستقبل کے منظر نامے کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں ۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نے لسانی تقسیم اور دہشت گردی کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کر رہا ہے۔ غیر کشمیر ی ہندووں کو متنازعہ علاقے میں بسانے کا مقصد دراصل مسلم کشمیری ووٹرز کی برتری کو ختم کرنا ہے۔ جس طرح نیتن یاہو کی قیادت میں صیہونی ریاست غزہ اور لبنان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اسی طرز پر مودی کی قیادت میں ہندوتوا ریاست مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت ، بلوچستان اور افغانستان سے ملحق کے پی کے سرحدی علاقوں میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رہی ہے۔ کشمیری عوام نے بھارت کے جعلی الیکشن کو مسترد کرتے ہوئے ہندوتوا ریاست کے خلاف اپنا فیصلہ پوری قوت سے سنا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی گرفت اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ ماضی میں جو کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ نئی دہلی کے اشاروں پر ناچتے تھے اب مودی سرکار ان پر بھی بھروسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت سید علی شاہ گیلانی اور دیگر حریت پسند قائدین کو پابند سلاسل کر سکتا ہے ، ان کے جسد خاکی پہ قابض ہوسکتا ہے اوربندوقوں کے سائے تلے جعلی الیکشن کا ڈرامہ بھی رچا سکتا ہے لیکن کشمیری عوام کی سوچ اور جزبہ حریت کو تسخیر نہیں کر سکتا!