Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

آئی ایم ایف کیا ہے؟

آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر کے نئے قرض کی منظوری کے بعد عدمِ استحکام کا شکار پاکستانی معیشت اب سنبھلنا شروع ہو گئی ہے۔معاشی اعشارئیے بتا رہے ہیں کہ معیشت اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔تاہم پاکستانی سیاست پہلے کی طرح اب بھی عدم استحکام کا شکار ہے۔پچھلی ایک دہائی سے ملک میں ہم جو سیاسی انتشار و خلفشار دیکھ رہے ہیں، وہ پاکستان اور پاکستانی معیشت کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں۔ہم ڈیفالٹ ہونے کے بالکل قریب تھے کہ شہباز حکومت نے بڑی محنت کے بعد آئی ایم ایف سے نئے پروگرام کی راہ ہموار کی۔آئی ایم ایف سے نئے پروگرام (سات ارب ڈالر)کی منظوری نہ ہوتی تو شائد ہمارا حال بھی سری لنکا جیسا ہوتا۔ایسے حالات میں بھی پی ٹی آئی کو چین نہیں۔اس کا وتیرہ بن چکا ہے کہ جلسے، جلوس اور احتجاج کے ذریعے اتنا اضطراب اور بے چینی پھیلائو کہ معیشت کا پہیہ رک جائے۔اگرچہ جمہوریت ہر کسی کو اظہار رائے کا آئینی حق دیتی ہے اور یہ حق تسلیم شدہ ہے کہ اپوزیشن جلسے کرے،جلوس نکالے یا احتجاج کرے،تاہم بے وقت کا راگ اچھا نہیں ہوتا۔قانون کسی کو بھی یہ حق نہیں دیتا کہ احتجاج کے نام پر معیشت کا پہیہ جام کر دے۔معاشی بحران سے متاثرہ کسی بھی رکن ملک کی آخری امید آئی ایم ایف ہی ہوتا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر معیشت بنجامن فریڈمین کہتے ہیں آئی ایم ایف کے اثرات کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ جاننا مشکل ہے کہ آیا اس کی مداخلت نے کسی ملک میں معاملات کو بہتر بنایا ہے یا نہیں؟ کسی بھی ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے آئی ایم ایف تین طرح سے کام کرتا ہے ۔ 1۔معاشی و مالی معاملات کی ٹریکنگ۔آئی ایم ایف دیکھتا ہے کہ قرض مانگنے والے ملک کی کارکردگی کیسی ہے۔ اسے کن خطرات کا سامنا ہے۔جیسے برطانیہ میں بریگزیٹ کی غیر حقیقی صورت حال کے بعد تجارتی تنازعات اور شدت پسندی کی پر تشدد کارروائیوں کے معاشی اثرات۔2۔ رکن ممالک کو تجاویز دی جاتی ہیں کہ وہ اپنی معیشت کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔3۔ایسے رکن ملکوں کے لیئے قلیل مدتی قرضے اور مالی معاونت،جو مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔تمام قرضے رکن ممالک کے کوٹا سبسکرپشن سے ممکن ہوتے ہیں۔یہ بھی واضح رہے کہ رکن ممالک کو قرضے دینے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس کل ایک ٹریلین ڈالر کی رقم ہے۔اب تک جس ملک نے سب سے زیادہ قرضے کی رقم حاصل کی وہ ارجنٹائن ہے جس نے 2018 ء میں آئی ایم ایف سے تاریخ کا سب سے بڑا قرض 57 ارب ڈالر حاصل کیا۔اکثر سمجھا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف قرض کے حصول کا آخری ذریعہ یا راستہ ہے۔معاشی بحران سے متاثرہ کسی بھی ملک کی آخری امید آئی ایم ایف ہی ہے۔آئی ایم ایف قرض دیتے ہوئے بعض اوقات رکن ممالک پر بڑی پابندیاں اور سختیاں عائد کرتا ہے جس پر کافی تنقید ہوتی ہے کہ یہ ضرورت سے زیادہ مشکل شرائط ہیں۔ 2009ء میں جب یورپ کا معاشی بحران شروع ہوا تو یورپی ملکوں میں سے یونان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔اس صورت حال سے نکلنے اور آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے کے لیئے یونان کو اپنی معیشت میں اہم تبدیلیاں لانا پڑیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے اصرار پر یونان کی کم خرچہ والی پالیسی زیادہ سخت تھی۔جس نے ملک کی معیشت اور معاشرے دونوں کو بہت نقصان پہنچایا۔آئی ایم ایف کے آغاز کے بعد سے عمومی طور پر ادارے کا سربراہ یورپین ہوتا ہے جبکہ عالمی بینک کی صدارت امریکی سیٹیزن کے پاس رہتی ہے۔آئی ایم ایف 1944 ء میں امریکہ میں ہونے والی برٹین ووڈ کانفرنس کے نتیجے میں وجود میں آیا۔اس کانفرنس میں دنیا بھر سے 44 ممالک نے شرکت کی۔جس میں امریکہ،برطانیہ اور سوویت یونین شامل تھے۔اس کانفرنس میں عالمی معاشی معاملات کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم ایکسچینج ریٹ کا نظام بنانے اور دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ یورپی ملکوں کی معیشت کو بحال کرنے پر بات چیت ہوئی جس کے بعد عالمی بینک اور آئی ایم ایف وجود میں آئے۔پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک 23 پروگرام ہوئے ہیں۔پہلا پروگرام دسمبر 1958ء میں طے پایا۔جس کے تحت پاکستان کو اڑھائی کروڑ ڈالر قرض ملا۔بعدازاں آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔ذوالفقار علی بھٹو جب وزیراعظم بنے تو ان کی حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے چار پروگرام کئے۔ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پرگراموں میں شرکت کی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دوسرے دورِ حکومت میں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں، پاکستان آئی ایم ایف کے دو پرگراموں میں شامل ہوا۔سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے پہلے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے ایک پروگرام میں شریک ہوا۔جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں دو پرگراموں میں شرکت کی۔اب 2024 ء ہے اور ہم ایک بار پھر آئی ایم ایف سے استفادہ کر رہے ہیں۔سات ارب ڈالر میں سے ہمیں ایک ارب ڈالر مل چکے ہیں جس سے پاکستانی معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔تاہم آئی ایم ایف کے اس نئے پروگرام کے تحت ہم پر کافی سخت پابندیاں ہیں یہ کرو،یہ نا کرو۔ہمیں یہ سب کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔آئندہ کے لئے آئی ایم ایف سے جان چھڑانی ہے تو ہمیں خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہو گا۔رشوت کے گرم بازار بند کرنے ہوں گے۔تجارت و صنعت کو سہارا دینا ہوگا۔یہ کئے بغیر ہم فلاح نہیں پاسکتے۔

یہ بھی پڑھیں