Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مفتی محمودؒ نوابزادہ نصر اللہ خانؒ کی نظر میں

(گزشتہ سے پیوستہ)
جس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کیلئے جتنے بھی دینی مکاتب فکر ہیں انہیں متحد کرنے کیلئے جس وسعت قلب اور وسعت نظر کی ضرورت ہے ،یہ صلاحیت مفتی صاحب میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔انہوں نے ہمیشہ تعصبات سے بلند ہو کر اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی جیسا کہ ختم نبوت کی تحریک کے دوران ہوا۔
ا س طرح مختلف سیاسی جماعتوں کو مشترکہ اقدار پر متحد کرنے کیلئے بھی مفتی صاحب جتنی جدوجہد کر سکتے تھے انہوں نے اس میں کبھی کوتاہی نہ کی۔چنانچہ جب بھٹو صاحب کی مطلق العنان حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ جمہوری محاذ(U.D.F) قائم کیا گیا تو مفتی صاحب اس کی تشکیل میں پیش پیش رہے ، انہیں ا س کا نائب صدرمنتخب کیا گیا۔ بے حد مشکلات کے باوجود مفتی صاحب نے ملک کے طول وعرض کے دورے بھی کئے اور رفقا کے دوش بدوش بحالی جمہوریت کی تحریک میں سرگرم حصہ لیا ۔ پھرجب بھٹوصاحب نے 1977 ء میں عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو ملک کی تمام قومی سیاسی جماعتیں متحد ہوئیں اور پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل عمل میں آئی،تب تمام سیاسی جماعتوں نے بالاتفاق مفتی صاحب کی صدارت پر اتفاق کرلیا،چنانچہ انہی کی قیادت میں 1977 ء کے انتخابات میں حصہ لیا گیا ۔ جب انتخابات کے نتائج کو مسٹر بھٹو کی حکومت نے دھاندلی کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف وقت ضائع کئے بغیر تحریک شروع کر دی گئی ، یہاں بھی مفتی صاحب نے قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہونے کا ثبوت دیا اوریہ ثابت کردیا کہ وہ بروقت فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ یہ مفتی صاحب اور ان کے رفقا ء کے خلوص، جرات اور عزیمت کے جذبہ کی وجہ سے تھا کہ پوری قوم inspire ہوئی اور اس نے مسٹر بھٹو کی حکومت کے ہر جبر و استبداد کا مقابلہ کیا۔پھر جب بھٹو حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کی تو مفتی صاحب کی قیادت میں پاکستان قومی اتحاد نے یہ اعلان کیا کہ جب تک ازسر نوقومی اسمبلی کے انتخابات انعقاد کا اعلان نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ اس دوران حکومت کی طرف سے ترغیب و تخویف کا ہر حربہ آزمایا گیا لیکن مفتی صاحب کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی، حتی کہ مشرق وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک کے سفیر صاحبان کو مفتی صاحب کے پاس بھجوایا گیا لیکن مفتی صاحب انتخابات کے مطالبے پر جمے رہے ، حتیٰ کہ حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات ازسر نو ہوں گے جس کے بعد مذاکرات میں شرکت کی گئی ۔ جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تویہ بات اکثر لوگوں کو معلوم ہے کہ قومی اتحاد میں بھی دو مکاتب فکر تھے ، کچھ حضرات یہ سمجھتے تھے کہ مسٹر بھٹو کی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں لیکن مفتی صاحب کایہ خیال تھا کہ جمہوری تحریکوں میں ہمیشہ اس بات کو مد نظررکھا جاتا ہے کہ قوم کی قربانیوں کو با مقصد اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ان مقاصد کو حاصل کیا جائے جن کے لئے قوم نے قربانیاں دیں۔ مفتی صاحب یہ سمجھتے تھے کہ جمہوری نظام کی بحالی کیلئے یہ ضروری ہے کہ مذاکرات سے اس تحریک کی طاقت کی بنیاد پر قومی مقاصد کو حاصل کیا جائے،بالآخر مذاکرات کا آغاز ہوا ۔ مذاکرات کرنے والے سہ رکنی ٹیم کی قیادت مفتی صاحب کر رہے تھے ۔ ان مذاکرات میں کامیابی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسٹر بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے پیش کردہ 32 نکات میں سے 31 نکات منظور کرنا پڑے جس میں سرفہرست اس وقت کی نام نہاد قومی اسمبلی کا خاتمہ اور ازسر نو انتخابات تھے ۔ دوسری بات صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انتظام کرنا اور صوبائی حکومتوں کا خاتمہ تھا ۔ مفتی صاحب کا بہت بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ علما حضرات کو گوشہ گمنامی سے نکال کر سیاست کی گہما گہمی میں لے آئے، حالانکہ برطانوی دور میں انہیں ایک (کمی)کی حیثیت دی گئی تھی اور انہیں صرف مسجد و مدرسہ تک محدود کردیا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ علما ء کا ایک طبقہ یہ خیال کرنے لگا کہ عبادات کی حد تک چونکہ برطانوی عہد میں آزادی ہے ، اس لئے اس پر قانع رہنا چاہئے ۔ اسی چیز کو علامہ اقبالؒ مرحوم کہتے ہیں کہ ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت بے چارہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد لیکن علماء کا ایک ممتاز طبقہ اس وقت بھی ایسا تھا جو وطن عزیز کی آزادی کے لئے ہمیشہ سرگرم رہا اور یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنی سرفروشی اور ایثار کے واقعات سے قوم میں جذبہ ،حوصہ اور امنگ پیدا کی۔ پاکستان بننے کے بعد ایک طویل عرصہ تک اس مکتب فکر کے علما نے یہ کوشش کی کہ ملک کی سیاسی تنظیموں کو اسلامی نظام نافذ کرنے پر آمادہ کیا جائے اور حکمران طبقے پر اپنا اثر ڈالا جائے ۔
بالآخر مفتی صاحب اور ان کے ہم خیال علما ء نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود عملی سیاست میں حصہ لیں تاکہ اس مقصد کو حاصل کرنے میں زیادہ آسانی ہو سکے ۔ جب وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے اور انہیں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ایک صوبے کی زمام اقتدار سونپی گئی اور دوسرے صوبے میں وہ شریک اقتدار تھے تو انہوں نے ان دونوں صوبوں میں یہ بات ثابت کردی کہ ایک عالم دین اپنی مذہبی روایات اور اقدارکو باقی رکھتے ہوئے بھی اس دور میں ایک مثالی حکومت ملک کو دے سکتا ہے ۔ یہ امتزاج بڑا کٹھن ہے کہ یہ دونوں چیزیں یعنی مذہب او ر سیاست ساتھ ساتھ رہیں۔ نیز حکومت میں جس رواداری ، تحمل ،وسیع الظرفی اور تعصبات سے بالا ترہونے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ ہر ایک کو حصول انصاف کا یقین حاصل رہے ، بڑامشکل کام ہوتا ہے، لیکن مفتی صاحب کے دو رمیں یہ تمام باتیں رو زمرہ مشاہدہ میں رہیں ۔ مجھے علم ہے کہ انہوں نے اکثر اپنے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما کے بارے میں کہا کہ جو فر_قہ وارانہ تعصبات کو ہوا دے گا وہ اسے اپنی جماعت سے علیحدہ کر دیں گے ۔ اس معاملے میں وہ اس قدر وسیع الخیال تھے ۔ مفتی صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دینی مقاصد کے لئے سیکولر جماعتوں کا تعاون بھی حاصل کیا اورشہری آزادیوں کے لئے ان جماعتوں کا مکمل طور پر ساتھ دیا ۔ مفتی صاحب کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے ایک عالم دین کے بارے میں اس قدر تعصب کو رفع کردیا کہ وہ صرف مسجدوں اور مدرسوں تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کا پابند ہے ، نظام مصطفی ؐکے نفاذ کیلئے جس طاقت کی ضرورت ہے انہوں نے وہ طاقت فراہم کرنے کے لئے علما کے طبقہ کو متحرک کیا۔ یوں مفتی صاحب کا وجود اس ملک کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ قومی سیاست میں جو مقام و مرتبہ رکھتے تھے اس کے حصول کی تمنا ہر ایک کو ہوتی ہے اور حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے نہایت مختصر زندگی میں وہ مقام حاصل کر لیا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ خارجی صورت حال کی بنا پر ہمارے انتہائی حساس خطو ں سرحد اور بلوچستان میں سب سے زیادہ مضبوط اور تواناطاقت اسلام اور ملکی سالمیت کے لئے مفتی صاحب ہی کی تھی اور اسی طرح ملک کے طول وعرض میں چند اشخاص ہیں جن کو آپ معروف و مقبول یا ایسے لوگ کہہ سکتے ہیں جو مختلف علاقوں ، صوبوں کے درمیان پل کا کام دے سکیں ۔ مفتی صاحب کی ان میں ایک نمایاں حیثیت تھی ، ان کے اٹھ جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا وہ آسانی سے پر نہیں ہو سکتا ۔

یہ بھی پڑھیں