Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مولانا محمد عبداللہؒ جیسا لائیں اب

زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں،اور جو قوم اپنے محسنوں کو بھلا ڈالے، زمانے کی ٹھوکر یں اس کا مقدر بن جایا کرتی ہیں,میں انہیں راولپنڈی ،اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا محسن ما نتا ہوں، انہوں نے اپنی ساری زندگی دعوت وتبلیغ اور تعلیم و تعلم میں گزاری ، چنانچہ ان کی شہادت کے 26 سال بعد آج بھی ان کے ہزاروں شاگرد علما، دنیا بھر کے انسانوں میں دینی تعلیم کو پھیلانے میں مصروف ہیں ،اس خاکسار کی ان کے ساتھ بڑی یادیں وابستہ ہیں ،ان کی محبتیں،ان کی شفقتیں یاد آیئں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ،مجھے ان کی معیت میں کبھی مانسہرہ اور کبھی قندھارتک کے سفر کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی،میرا یہ ماننا ہے کہ وہ مرد ’’قلندر‘‘بھی تھے اور مقدر کے ’’سکندر‘‘بھی,وہ فرقہ واریت سے کوسوں میل دور اتحاد بین المسلمین کے سب سے بڑے داعی تھے ،وہ کئی دہائیوں تک وفاقی خطیب ،کئی تعلیمی اداروں کے بانی مہتم اور مختلف حکومتوں کے وفاقی وزیروں ،مشیروں اور بیوروکریٹس کے امام رہے،مگر شہادت کے بعد ذاتی زمین اور بنک بیلنس ندارد ، ان کی درویشی کے قصےآل پاکستان اخبار فروشاں فیڈریشن کے تاحیات مرکزی قائد ٹکا خان سنایا کرتے ہیں، جنہیں سن کر بے اختیار دل پکارتا ہے کہ واہ مولانا عبداللہؒ آپ جیسا اب لائیں ہم کہاں سے؟
مولانا عبد العزیز اور علامہ عبد الرشید غازی آپ ہی کے قابل فخر فرزندان باوفا ہیں، مولانا عبداللہؒ جیسے جامع الصفات شخصیت کے حوالے سے میں نے اپنے دوست اور جامع الحکمت اسلام آباد کے مہتم مفتی دوست محمد مزاری کو کریدنے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ سترہ اکتوبر 1998ء کو خانہ خدا (لال مسجد)میں شہید کئے جانے والے مولانا عبداللہ سچے عاشق رسول، پروانہ ختم نبوت، دیوانہ صحابہ کرام واہل بیت عظام، اہل حق کے بیباک اور نڈر ترجمان تھے،آپ عالم اسلام اور امت مسلمہ کیلئے شفقت رحم اور محبت کے جذبات سے سرشار تھے، جبکہ باطل کے خلاف بر سر پیکار اور بے نیام تلوار تھے،اپنی شعوری زندگی میں مجھے مولانا شہید کے ساتھ جتنا وقت گزارنے کا موقعہ ملا ،وہ وقت میرے سینے میں ایسے یادگار لمحات کا درجہ رکھتا ہے کہ جنہیں انسان بھلانا بھی چاہے تو نہیں بھول پاتا۔ آج بھی مولانا شہید کا تذکرہ ہوجائے تو ہر دم تازہ اور مسکراتا چہرہ، لبوں پر مخصوص مسکراہٹ ، وہ پرنور اور پر رونق چہرہ سے پھوٹتے انوار و برکات نظر آنے لگ جاتے ہیں۔کسی بھی عنوان اور کسی بھی انداز سے مولانا شہید کی پاکیزہ زندگی پر نظر ڈالی جائے تو اس میں دین و شریعت اور آنحضرت ﷺکی سیرت طیبہ کی جھلک نظر آئے گی۔مولانا عبداللہ شہید اعلیٰ اخلاق ،عمدہ اوصاف کے حامل تھے،حرمین شریفین سے عشق کی حد تک محبت فرماتے تھے ،توحیدکے عظیم داعی اورعلمبردار تھے ،سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے،صحابہ کرام اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اجمعین کے سچے دیوانے تھے عالم اسلام اور امت مسلمہ کا درد رکھتے تھے ، عظیم مفکر اسلام تھے ،انسانیت کی خدمت، کمزوراورضعا، فقرا اور مساکین کی مدد کو دین کا حصہ جانتے تھے ، ہرچھوٹے بڑے کے ساتھ اخلاق ومحبت عزت و احترام عاجزی اور تواضع ،ھمدردی وشفقت سے پیش آتے تھے۔
پوری دنیا میں عزت و احترام شہرت و پہچان رعب و دبدبہ رکھنے کے باوجود انتہائی عاجز منکسرالمزاج اور سادگی پسند تھے ،پیکراخلاص اور سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے ،عبادت گزار تہجد گزار اور رات کی تنہائیوں میں اپنے رب العزت کے حضور میں پردردانداز میں رونے والے صوفی باصفا تھے، بے باگ اور نڈر حق گو تھے ، جرات و بھادری کے ساتھ باطل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے تھے، ذکر وفکر،رقت آمیز دعائیں ،اور بروقت تلاوت قرآن پاک میں مصروف رھنا انکا پسندیدہ مشغلہ تھا، اہل اللہ علما صلحا مجاہدین کی آنکھوں کا تارا تھے،نادار بییارومددگار ضرورت مند اور محتاجوں کاماوی وملجا تھے ،اہل علم اوراہل تقوی کے قدر دان بلکہ امام اور مقتدی تھے،دینی مدارس، مساجد،دعوت وتبلیغ، خانقاہوں اور عظمت ناموس صحابہ کرام اہل بیت عظام اور ختم نبوت کے مضبوط پہریدار اور محافظ تھے، ’’اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے وفاقی خطیب ، جامعہ فریدہ کے باغبان ،اور مرکزی رویت ہلال کے چیئرمین رہے‘‘غریبوں کے غم خوار اور ہمدرد انسان تھے، قرآن وحدیث اور دینی اقدار اور اصولوں کے پکے محافظ اور دینی علوم و افکار کے سچے امین تھے، میرے ہمدرد اور میرے محسن تھے ، میرے مربی اور میرے راہنما تھے ،میرے مقتدی اور میرے پیشوا تھے ، ،بلاشبہ آپ ایک آفتاب علم وعمل تھے ، زہدوتقوی کامینار تھے عظیم مدبر عظیم مجاہد اور کامل عارف باللہ تھے ۔’’غرضیکہ حضرت مجموعہ کمالات تھے اوصاف واخلاق میں بلند مقام پر فائز تھے ۔‘‘
مولانا عبداللہ شہید کومکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے عشق اور جنون کے درجہ میں محبت تھی، بارہا اور مسلسل حج اور عمرے کرنے کے باوجود جیسے ہی عمرہ اور حج سے واپسی ہوتی تو لگتا کہ نہ معلوم کتنا طویل عرصہ حرمین شریفین سے جدائی میں گزرچکا ہے، باربار حرمین شریفین کی حاضری کے باوجود پھر جانے کے لئے بے چین نظر آتے تھے۔ ایک دفعہ رات مغرب کے بعد مرکزی جامع مسجد کے صحن میں تشریف فرما تھے، اچانک چاند پر نظر پڑی تو فرمانے لگے یہ چاند بھی کتنا خوش نصیب ہے کہ روزانہ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ بیت اللہ اور گنبدخضرا کی زیارت سے مالامال ہوتا ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں