پتے پتے کی حرکت سے واقف رب، ذرے ذرے کی گنتی سے واقف رب، کیا تمہارے دل کے حال سے بے خبر ہو سکتا ہے؟ اس وسیع آسمان پر اڑتے پرندوں کے جھنڈ، جنہیں تمہاری نظریں بھی پوری طرح دیکھ نہ سکیں، ان سب کو ہر لمحہ تھامنے والا رب کیا تمہیں گرتا، روتا اور تکلیف میں چھوڑ سکتا ہے؟ نہیں! تم نے اپنے رب کو پہچانا ہی نہیں، تم نے اس کی محبت کو کبھی دل سے محسوس ہی نہیں کیا‘ اگر تم اس کی محبت کو محسوس کر لو، تو تمہاری آنکھیں ہر وقت اس کے عشق میں نم رہیں گی، تمہارا سخت دل اس کی محبت کے لمس سے پگھل جائے گا، اور تمہاری روح ایک ایسا سکون پائے گی جو دنیا کی کسی شے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
کچھ فیصلے بڑے سخت ہوتے ہیں، جو صرف اللہ کے لیے کیے جاتے ہیں ان کے لیے دل کو قربان کرنا پڑتا ہے اور دل جب قربان ہوتا ہے‘ تو ٹوٹ بھی سکتا ہے، لیکن اس کے ٹوٹنے کی جو تکلیف ہوتی ہے وہ آپ کے رب کو آپ کی طرف متوجہ کرتی ہے ،آپ جب جب روتے ہیں اور کہتے ہیں ’’اللہ بس آپ کے لیے کیا ہے‘‘،تو اللہ کی محبت رحمت شفقت آپ کو گھیر لیتی ہے، آپ جان بھی نہیں پاتے آپ کو کیا مل جاتاہے۔
کتنے ہی خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو خالص اللہ کی خاطر جیتے ہیں اور اسی کی خاطر مرتے ہیں جن کو دنیا کی لذتوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا وہ فقط اسی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے اور کوئی دوسری بات ان کو پریشان نہیں کرتی ،کتنے ہی خوش نصیب ہوتے ہیں ایسے لوگ، اللہ تعالیٰ زبر دستی کسی کو اپنے قریب نہیں کرتا وہ تو دین میں بھی زبردستی نہیں کرنے دیتا لا اکرا ہ فی الدین دین میں زبردستی نہیں انسان کے اردگرد اگرچہ نیک لوگ بھی ہوں، لیکن ا گراس کی اپنی چوائس اللہ سے دور رہنے کی ہو‘تو پھر وہ واقعی اللہ سے دور کر دیا جاتا ہے۔
ہم سب کو بھی زندگی میں یہ چوائس دی جاتی ہے کہ یا تو اللہ کی دوستی اختیار کر لیں یا پھر اللہ سے دور ہونا ،آج میرے سمیت ہر مسلمان کو اپنے گریبان میں جھانک کر اس محاسبہ کی ضرورت ہے کہ وہ اللہ کا دوست ہے،یاپھر شیطان مردود کا،آپ اگر اپنی زندگی میں اللہ سے دور ہیں تو سمجھ لیں کہ یہ آپ کی اپنی چوائس ہے، اس میں نہ لوگوں کا قصور ہے اور نہ ہی آپ کے ماحول کا،کیونکہ جو اللہ کی طرف ایک قدم آتا ہے، اللہ اس کی طرف دس قدم آتا ہے‘ جو چل کر اس کی طرف جاتا ہے، وہ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔
اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے،اسی لئے قرآن مجید میں اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کو منع فرمایا گیا ہے،ظلم تو یہ ہے کہ آج مسلمانوں کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اللہ کی رحمت سے مایوس کیا جا رہا ہے،سیکولر شدت پسندوں اور ملحدین کے گروہ اس برے کام کے لئے دجالی میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں،جس ہستی سے سب سے زیادہ محبت کے بغیر ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا‘جسے صبح شام اٹھتے بیٹھتے یاد کرنا تھا،جس کے ہمارے اوپر اتنے احسان ہیں کہ اس کی وجہ سے ہم دنیا میں آئے، آج اگر ہم اس دنیا میں سانس لے رہے ہیں‘تو یہ بھی ان کی ہی برکت ہے، وہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے‘افسوس تو یہ ہے کہ آ ج چند انچ کے موبائل نے نئی نسل کو اس عظیم ترین ہستی کی تعلیمات سے بھی دور کر دیا،جن ہاتھوں میں اللہ کا کلام ہونا چاہیے تھا۔جس نسل نے اللہ کا دین پھیلانا تھا،اللہ کی آیات کی روشنی میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنا تھا،وہ نسل موبائلوں پر کارٹونوں کے کھیل تماشوں میں مصروف ہے، یہ ’’ناکارہ نسل‘‘ نہ ہی ماں باپ کی بنے گی ۔نہ ہی اپنے پیدا کرنے والے رب کی بنے گی‘اس نے جنت کا اور اللہ کی محبت کا سودا کیا بھی تو کس سے ؟شیطان نے بنی آدم کے ہاتھوں میں موبائل کا تحفہ دے کر اسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا باغی بنانے کی جو کوششیں کی ہیں اس سے ہر ذی شعور انسان بخوبی واقف ہے۔
بغداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی‘شراب خانے کے مالک نے نشے میں دھت ننگے پائوں لڑکھڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو اس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر وقار شخص کھڑا تھا‘ مالک نے اکتائے لہجہ میں کہا ” معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئیے گا ’’اس سے پہلے کہ مالک پلٹتا‘اجنبی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’ مجھے بشر بن حارث سے ملنا ہے اس کے نام بہت اہم پیغام ہے‘‘ شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پائوں تک سامنے لڑکھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں؟مالک نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا کیوں کوئی شک ؟اجنبی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا سنو بشر بن حارث !خالقِ ارضِ وسما نے مجھے کہا ہے کہ میرے دوست بشر بن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی‘‘ اتنا سننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اک دن حسبِ معمول وہ نشے میں دھت چلا جا رہا تھا کہ اس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم ’’ اللہ‘‘لکھا تھا‘بشر نے کاغذ کو بڑے احترام سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہا ’’ اے مالکِ عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں ‘‘ بس یہی ادا بشر بن حارث کو ’’ بشر حافی رحمت اللہ علیہ‘‘بنا گئی۔
جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت ننگے پائوں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی ننگے پائوں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتے تھے ان گلیوں میں چوپائے بھی پیشاب نہیں کر تے تھے کہ آپ کے پائئوں گندے نہ ہو ں‘ وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ’’لوگو!جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے بشر حافی رحمت اللہ علیہ اسے پہچانتا ہے۔‘‘ دوستوآپ بھی کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں۔
(حوالہ کتب طبقات صوفیہ‘کشف المعجوب)