Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

’’شام‘‘میں فتح کی صبح

(گزشتہ سے پیوستہ)
شام کے چوتھے بڑے شہر ھما کے مسلمانوں پر 1982 ء میں 27روزہ کرفیو کے دوران جو ظلم و ستم روا رکھا گیا اس کی ایک جھلک آپ ملاحظہ فرمائیں ۔ایک معاصر اخبار میں چھپے والی رپورٹ میں، شام کے شہر حما کی آزادی پر شامی مسلمان سب سے زیادہ خوش ہوئے ۔آخر کیوں؟فتح تو حمص اور ادلب بھی ہوئے، مگر شامی عوام نے اتنی خوشی نہیں منائی، جو ابھی حما میں دیکھی جا رہی ہے۔نوجوان ہی نہیں، بچے، بوڑھے، مرد وخواتین سب جشن میں منا رہے ہیں۔ خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ مسرت کے آنسو، تکبیر کی صدائیں اور سجدہ ریز جبین نیاز۔ آخر کیوں؟ حالانکہ ابھی مستقبل کا کچھ نہیں پتہ، حالات کا دھارا کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ ہے، اہل حما کا معاملہ دیگر شامیوں سے یکسر مختلف ہے۔ اس شہر کی ایک بھیانک تاریخ ہے، نہایت ہی تلخ یادیں، خوں آشام شامیں، خونچکاں سانحات، بہت زیادہ پرانی نہیں، چند دہائیوں کی بات ہے، ابھی تک حما کی فضائوں میں ان عزت مآب حاملہ خواتین کی چیخیں سنائی دے رہے ہیں، جن کے پیٹ چاک کر کے بچے نکال لیے گئے۔ یہ 1982 ء کی بات ہے کہ جب حما کو اخوان کے مقتل میں تبدیل کر دیا گیا۔ ایک ایسا سلاٹر ہائوس، جس میں 27دن میں ایک لاکھ سے زائد انسانوں کو ذبح کر دیا گیا۔ حما کے باسی ان ہولناک مناظر کو کیسے بھول سکتے ہیں، جب حافظ الاسد کے درندوں نے بچوں، عورتوں، حاملہ ماں اور معصوم شہریوں کا بے دریغ قتل عام کیا تھا۔ خواتین کے ہاتھ کاٹے گئے، مردوں کو بے رحمی سے ان کے بچوں کے سامنے ذبح کیا گیا۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب حما کے شریف اور بہادر عوام نے اسدی جبر کے خلاف بغاوت کی۔ نتیجتاً، نظام نے اپنی جنونیت کے تحت حما میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا۔
یہ خونریز مہم 27دن تک جاری رہی، کے فوجیوں نے بھاری توپوں، ٹینکوں اور دھماکہ خیز ہتھیاروں سے گھروں، مساجد، ہسپتالوں، بازاروں اور ہر ذی روح کو نشانہ بنایا۔ پورے شہر کو سیل کردیا گیا، ہزاروں اسدی فوجیوں نے اسے گھیر لیا۔ عام شہریوں پر بھاری گولہ باری کی گئی، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، بچوں اور بوڑھوں کو چاقو اور ڈنڈوں سے مار کر لاشوں کو جلایا گیا۔ان بدترین مظالم میں بعض ایسے ہیں، جن کی مثال ملنی مشکل ہے، مثلاً عورتوں کو قتل کرکے گلیوں میں پھینک دیا گیا۔ ان کی آنکھیں نکالی گئیں۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر بچے نکال دیئے گئے۔ چھوٹی بچیوں کو اغوا کرکے ان کی عزتیں لوٹ لی گئیں۔ خواتین کو سرعام سڑکوں پر برہنہ کرکے ان کا ریپ کیا گیا۔ یہاں تک کہ اجتماعی ریپ کے مساجد کا انتخاب کیا گیا۔ اسدی درندے مساجد میں مردوں کے سامنے ان کی عورتوں کے ساتھ منہ کالا کرتے رہے، پھر قتل کرکے برہنہ لاشوں کو گڑھوں میں ڈال دیا گیا۔ خواتین کی عصمت کے دوران مساجد کے لاڈ اسپیکرز آن کئے جاتے اور ان کے ذریعے مظلوموں کی چیخیں سنائی گئیں تاکہ پورے شہر کو خوفزدہ کیا جا سکے۔
رفعت الاسد کا ظلم،7 دنوں کی تباہی کے بعد، جب کرفیو ہٹایا گیا تو رفعت الاسد نے شہر کا دورہ کیا۔ لوگ نمازِ جمعہ کے لیے نکلے تو اس نے طنزیہ انداز میں کہا ’’کیا حما میں ابھی بھی مرد باقی ہیں؟‘‘ پھر ہزاروں مردوں کو جمع کرکے سریحین قبرستان لے جایا گیا، جہاں انہیں فیلڈ کورٹ میں قتل کیا گیا۔ اندازا ً5000 افراد کو صرف ایک دن میں شہید کر دیا گیا۔بچوں کا قتل،چند بچے جو درختوں پر چڑھ کر چھپ گئے تھے، انہیں بھی تلاش کرکے بے دردی سے مار دیا گیا۔ ان کے سروں کو درختوں پر لٹکایا گیا تاکہ مزید دہشت پھیلائی جا سکے۔زخمیوں پر تشدد، زخمیوں کوہسپتال میں لے جانا بھی ممکن نہ رہا، کیونکہ اسدی فوج ہسپتالوں میں گھس کر ہر زخمی کو قتل کر رہی تھی۔تباہی کا جائزہ،60 سے زائد مساجد تباہ کی گئیں۔75 فیصد شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔15,000 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے۔60 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے۔یہ سب کچھ صرف 27دن میں ہوا۔دردناک یادیں،حما کے قتل عام کی داستان اتنی بھیانک ہے کہ بیان کرتے ہوئے دل کانپ اٹھتا ہے۔ یہ المیہ نہ صرف شامی عوام کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سیاہ باب ہے۔شامی عوام کا درد دنیا کے کسی بھی درد سے مختلف ہے۔اور اسدی خاندان کی سفاکیت دنیا کے ہر ظلم سے زیادہ ہے۔ اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ نتن یاہو کے جرائم بھی اسد خاندان کے سامنے ہیچ ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ اہل حما جشن منارہے ہیں۔
کچھ قیدیوں کے بارے میں یہ بھی علم ہوا کہ انہیں جیل میں 35 سے 40 سال گزر چکے تھے ۔۔گزشتہ کل جیل سے رہا ہونے والوں میں 54 قیدی ایسے بھی تھے جنہوں نے دمشق کے بیچ میں میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر اللہ پاک کی قسمیں کھا کر بتایا کہ ہم سب کوآج کے دن پھانسی دی جانی تھی لیکن چند گھنٹے پہلے مجاہدین فرشتے بن کر ائے اور آج ہم سب آزادی کے ساتھ یہاں کھڑے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں ۔ شامی مسلمانوں کی خوشیوں کو شاعری کی زبان دیتے ہوئے ایک شاعر نے شعر لکھا ۔
شام میں اللہ کی نصرت سے صبح ہو گئی
چھٹ گئی تاریکیاں ہر سمت روشنی ہو گئی

یہ بھی پڑھیں