کیا گالم گلوج ،الزام تراشیوں اور دشنام طرازیوں کے ذریعے ’’مدارس‘‘ کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟جو خود ہی مولانا فضل الرحمن کو معاف کر کے پھر ان سے معافی بھی مانگ لے اسے مفتی عبد الرحیم کہتے ہیں، اس خاکسار کا قلم گزشتہ 30برسوں سے علماء کرام ،اور دینی مدارس اور اسلام پسندوں کے دفاع کے لئے وقف رہا(الحمدللہ)لیکن بصد احترام مفتی عبد الرحیم المعروف استاد صاحب کا موقف جو میں اب تک سمجھ سکا ہوں وہ یہ کہ موصوف بڑے لجاجت بھرے لہجے میں حکومت سے چاہتے ہیں کہ حکومت مدارس کے لئے دو نظام قائم کر دے،ایک نظام کے تحت اتحاد تنظیمات المدارس کی رجسٹریشن ہو اور دوسرا عمران خان کے تاریک ترین دور میں بناے جانے والے تعلیمی بورڈز کے لئے ،مطلب پاکستان کی 77سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے بنیادی جوڑ اور اتحاد و وحدت میں ’’جدائیاں‘‘یعنی توڑ ہی توڑ،ایک انٹرویو میں وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ وہ وزیر اعظم اور صدر زرداری سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں،مگر ملاقات کی کوئی صورت نہیں بن سکی،اس خاکسار کی مولانا فضل الرحمن سے اپیل ہے کہ وہ جلد سے جلد ’’حضرت استاد صاحب‘‘ کی وزیراعظم اور صدر سے ملاقات کا بندوست فرما کر عنداللہ ماجور ہوں، وہ بڑے شدومد ، اصرار اور تکرار کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ہمارے ’’ا ٹھا ر ہ‘‘ہزار مدارس وزارت تعلیم کے تحت ہی رہنے چاہئیں ،یہ کہتے ہوئے ان کا لہجہ اتنا پرسکون ہوتا ہے جیسے اس وزارت کا سایہ ’’جنت‘‘کے سائے کے مترادف ہو،حالانکہ وہ یہ بات بھی جانتے ہیں کہ یہ وہی ’’وزارت تعلیم‘‘ہے کہ جس کے ایک وفاقی وزیر نے فرمایا تھا کہ ’’قرآن پاک کے چالیس سیپارے ہیں‘‘
استاد محترم بتا سکتے ہیں کہ ان کی وزارت تعلیم نے اپنے اس وفاقی وزیر کو کیا سزا دی تھی؟اس وزارت تعلیم نے اسلامی ملک پاکستان کے کروڑوں طلباء وطالبات پر جو ’’احسانات‘‘کئے ہیں اگر میں وہ لکھنے پہ آئوں تو کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں،کوئی وزارت تعلیم سے پوچھ کر قوم کو بتائے کہ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پاکستان کی کتنی یونیورسٹیاں شامل ہیں؟ابھی تک کوئی ایک بھی نہیں توکیوں ؟گزشتہ روز 45سالوں سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے دینی مدارس کی خدمت کرنے والے شیخ الحدیث مولانا حنیف جالندھری سے موبائل پر بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بیرون ملک ہیں،بہرحال دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ان کا بے لچک اور انتہائی جچا تلا مو قف جو سامنے آیا وہ مندرجہ ذیل ہے، مولانا حنیف جالندھری کے مطابق یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ 2019 ء میں وزارت تعلیم کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق دینی مدارس رجسٹریشن سے انکاری ہیں، اور وہ گورے انگریز کے بنائے ہوئے 1860 ء کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہی مدارس کی رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں چند گزارشات پیش ہیں : (1) حقیقت یہ ہے کہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے قانون کے متعلق یہ بات درست نہیں کی گئی، ہم تو در حقیقت اس ایکٹ کے سیکشن 21کے تحت رجسٹریشن چاہتے ہیں، 2004ء میں سیکشن 21 اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور میں اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان اور حکومت کے مابین کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد حتمی اور طے ہوا تھا۔ وہ سیکشن 21گورے انگریز کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا اور حکومت پاکستان کے اداروں کا طے کردہ ہے۔ اس لیے یہ تاثر دینا غلط ہے کہ ہم گورے انگریزوں کے ایکٹ کے تحت رجسٹریشن چاہتے ہیں ؟ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ 2004 ء میں طے ہونے والا سیکشن 21 خاص دینی مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ہی ہے۔ ہم نے اس وقت یہ بات کہی تھی کہ اگر اس میں کسی بھی وقت ترمیم کی ضرورت ہو تو وہ بھی باہمی مشاورت سے کی جاسکتی ہے۔یہاں جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ ہم تو 1860 کے سیکشن 21 کی بات کرتے ہیں جو ہم مسلمانوں نے باہمی مشاورت سے طے کیا ، جبکہ آپ نے تو 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کو اس کی روح کے مطابق اور اس کی تمام دفعات کو من وعن قبول کیا ہوا ہے ۔ کیا اب بھی اس ایکٹ کے تحت مختلف ادارے اور سوسائٹیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں؟۔ کیا آپ نے اس ایکٹ کو کبھی ختم کرنے کا سوچا بھی ہے؟
دوسری طرف ہمارا پورا عدالتی نظام برٹش لا کے مطابق فیصلے کرتا ہے، جو گورے انگریز کا ہی وضع کردہ ہے، کیا کبھی اس سے پیچھا چھڑانے کا سوچا گیا؟ ایک پہلو اور بھی ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹ ہے کون ہے؟ کہیں یہ دبائو کسی انگریز ، گورے یا کالے کافروں کی طرف سے تو نہیں؟ اندر کی بات تو کوئی بھی نہیں بتا رہا۔بہر حال یہ 1860 کا سیکشن 21متفقہ طور پر طے ہوا ، اب یہ قانون بن چکا ہے۔ اس کے مطابق قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی ہو چکی ہے اور یہ جو وزارت تعلیم میں رجسٹریشن ہے؟ یہ تو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہے ، اس کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے ہم جس قانون کی بات کر رہے ہیں وہ باقاعدہ ایک قانون ہے، اور جس کی آپ بات کر رہے ہیں وہ قانون ہے ہی نہیں ۔اس کے علاوہ ہم نے کہا تھا کہ مدارس کے بندا کائونٹ کھلوائے جائیں اور نئے اکائونٹ کھلوانے میں بھی تعاون کیا جائے، یہاں تو الٹا مدارس کے اکائونٹ بند کئے جا رہے ہیں۔ تو معاملہ صاف شفاف کیسے رہا ؟(2) یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم (ڈی جی آرای)کا قیام عمل میں لایا گیا ، مدارس کو چاہیے تھا کہ اپنی رجسٹریشن ڈی جی آر ای کے ساتھ کرواتے، لیکن اتحاد تنظیمات مدارس نے اپنے زیر انتظام والحاق مدارس کی رجسٹریشن کروانے سے انکار کر دیا ۔اس سلسلے میں عرض ہے کہ مدارس رجسٹریشن کے سلسلے میں کوئی الگ ڈائریکٹریٹ قائم کرنے کی بات تو سرے سے معاہدے میں شامل ہی نہیں تھی ، معاہدے کا منشا یہ تھا کہ دینی مدارس کی جو رجسٹریشن پہلے سوسائٹیز ایکٹ کے تحت وزارت صنعت کے ساتھ ہوتی تھی ، اب وزارت تعلیم میں ہوگی ، جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ اسی سادگی کے ساتھ ہوگی جس سادگی کے ساتھ وزارت صنعت میں ہوتی تھی اس کے لیے وزارت صنعت نے نہ کوئی الگ ڈائر یکٹوریٹ قائم کیا تھا نہ ملک بھر میں اس کام کے لیے الگ دفاتر قائم کئے تھے، نہ پانچ سال کے بعد رجسٹریشن کی تجدید ضروری تھی ، البتہ سالانہ کو ائف بیشک بھیجے جاتے تھے۔ معاہدے میں12 ریجنل سینٹر قائم کرنے کی بات تھی ۔(جاری ہے)