Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

دینی مدارس مفتی عبد الرحیم اور مولانا حنیف جالندھری

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے متعلق یہی خیال تھا کہ جس طرح ہر ضلع میں وزارت تعلیم کا دفتر ہوتا ہے، انہی میں 12منتخب اضلاع میں ریجنل دفاتر قائم کر دئیے جائیں گے جس کا عملہ وزارت تعلیم سے ہی منسلک ہوگا ، جہاں مدارس کی رجسٹریشن بآسانی سہولت کے ساتھ ہو جایا کرے گی۔
اسی طرح جیسے دینی مدارس کی رجسٹریشن پہلے وزارت صنعت میں ہوتی تھی ، مگر یہ کہ ایک الگ ڈائریکٹریٹ قائم ہوگا ، اس کا الگ عملہ ہوگا ، با قاعدہ اربوں روپے کا فنڈ ہوگا، پھر اس ادارے کے پورے ملک میں ذیلی ادارے ہوں گے، یہ چیز معاہدے میں شامل نہیں تھی بلکہ یہ تو سراسر دیوالیہ پن کے قریب پہنچنے والے قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالنے والی بات تھی ۔ یہ سب یک طرفہ طور پر کیا گیا جبکہ معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ ایسے کسی بھی اقدام سے قبل اتحاد تنظیمات مدارس کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ نیز ڈائیریکٹوریٹ کے تحت اتنے بڑے منصوبے کا لازمی نتیجہ یہ قرار دیا جائے گا کہ دینی مدارس اسی ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت اور تابع سمجھے جائیں گے اور زبانی طور پر کہا گیاتھا کہ مدارس وزارت تعلیم سے منسلک ہوں گے ، تابع نہیں ہو ں گے، مذکورہ منصوبہ عملی طور پراس کی نفی کرتا ہے ۔پھر یہ بھی کہ ڈی جی آرای کا آفس اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن کے لیے آنے والے حضرات کی سفری مشکلات کا سبب بھی ہوتا۔ بہر حال یہ تمام باتیں معاہدے کے خلاف کی گئیں اور ان کا سوائے اس کے اور کوئی مقصد معلوم نہیں ہوتا کہ دینی مدارس کو پریشان اور کنٹرول کیا جائے۔ ملک میں جتنے بھی عصری تعلیمی ادارے ہیں وہ اپنے اپنے ضلع میں متعلقہ محکمے میں رجسٹر ڈ ہوتے ہیں، مدارس کے ساتھ ہی یہ امتیازی سلوک کیوں؟ہم بار بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ دینی مدارس اپنی آزادی اور خود مختاری کو کسی رکاوٹ کے بغیر قائم رکھنے کے لیے پر عزم ہیں اور کسی حکومتی ادارے کے تابع یا ما تحت ہونے کو گوارا نہیں کر سکتے اور اگر اس آزادی و خود مختاری کو باقی رکھنے کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔(4) جوڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی تعلیم قائم کیا گیا ہے اسے سرکاری تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم بقدر ضرورت دینے کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کے ذریعے تمام تعلیمی اداروں میں اتنی دینی تعلیم دینے کا اہتمام کیا جائے جو ہر مسلمان کے لیے فرض ِعین ہے۔(5) 2019میں وزارت تعلیم کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس پر خود وزارت تعلیم نے عمل نہیں کیا۔
معاہدے کی دوسری شق یہ تھی کہ جن مدارس کے اکاونٹس بند کیے گئے ہیں وزارت تعلیم نہ صرف وہ اکاونٹ کھلوائے گی بلکہ نئے اکاونٹس کھلوانے میں بھی مدد کرے گی ، وزارت تعلیم کی جانب سے اس طرح کا کوئی تعاون نہیں ہوا۔ معاہدے ایک شق یہ تھی کہ مدارس کے کوائف اکٹھے کرنے کے لیے واحد مجاز ادارہ محکمہ تعلیم ہوگا ، اس پر خود وزارت تعلیم نے ، حکومت نے ، معاہدے پر دستخط کرنے والوں حکومتی عہدیداروں اور متعلقہ اداروں نے عمل نہیں کیا۔ 6))جہاں تک یکساں نصاب تعلیم کی بات ہے تو اس کا ہم نے بالکل انکار نہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہو، یکساں نصاب تعلیم کی تدوین میں تو ہم نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور اس میں ہم نے عملی طور پر کام کیا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یکساں نصاب تعلیم کو بیکن ہاوس، لاہور گرامر اسکول، آکسفورڈ اور کیمبرج کے نام سے چلنے والے برینڈ ڈعصری تعلیمی اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے؟ ، یقینا جواب نفی میں ہے۔ ہم عصری تعلیم کے مخالف تھے نہ ہیں لیکن آپ بتائیے کہ یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ میں رکاوٹ کون ہے؟ ، صورتحال تو یہ ہے کہ تمام صوبائی حکومتوں نے یکساں نصاب تعلیم کے وژن کو قبول نہیں کیا۔7) دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے مزید عرض کرتا چلوں کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف جب پی ڈی ایم کے دور حکومت میں وزیراعظم تھے ، تو ان سے ہمارے کئی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے ، وزیر اعظم نے پوری بحث کے بعد ایک مسودے کی منظوری دی، اور حکم جاری کیا تھا کہ اس کے مطابق مدارس کو رجسٹریشن کا اختیار دے دیا جائے ، اس میں دونوں آپشن موجود تھے ، مدارس چاہیں تو اپنے آپ کو 1860 کے سیکشن 21 کے تحت رجسٹرڈ کرالیں ، چاہیں تو وزارت تعلیم میں خود کو رجسٹرڈ کرالیں ، اس سے پہلے بھی مدارس کو اختیار رہا کہ چاہیں تو سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوں چاہیں تو ٹرسٹ کے قانون کے تحت رجسٹرڈ ہوں ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب وزیر اعظم نے ہدایات جاری کر دیں، اور معاہدے کے مسودے پر دستخط کر دئیے یعنی منظوری دے دی تو پھر اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟پھر جب پی ڈی ایم کی حکومت کا آخری دور تھا ، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالیٰ کی ہمراہی میں یہ عاجز بھی ایک ہفتہ مسلسل اسلام آباد میں رہے، ان مذاکرات اور رابطوں کے نتیجے میں ایک مسودے پر اتفاق بھی ہو گیا ، جس میں وزارت تعلیم کے اور اسی شعبے کو جو مدارس کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ ان کی تجاویز کو بھی لیا گیا، اور انہیں اس مسودے میں شامل کیا گیا ، اسے خواندگی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا تاکہ یہ با قاعدہ قانون بن جائے ، پھر کیا وجہ ہوئی کہ اچانک اس پر عمل درآمد روک دیا گیا؟ اصل بات جو ہے وہ یہ کہ اس میں رکاوٹ کون بنا؟ یقینا اس میں کچھ عالمی اداروں کی مداخلت بھی ہے جسے چھپایا جا رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم متعلقہ فریق ہیں، ہمارے تحفظات کو سامنے رکھ کر بات کی جائے ، اگر کسی عالمی ادارے کی طرف سے مسئلہ ہے تو ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں ۔ بہر حال قرائن اور علامات بتاتی ہیں کہ درون خانہ کوئی بات ضرور ہے اور یہ رکاوٹیں عالمی دبائو پر ہیں ، ہمارے متعلقہ محکمانہ افراد گوروں اور انگریزوں کے دبائو میں ہیں۔آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مدارس کی دینی خدمات پر انہیں سراہنے اور اور ان کی خدمات کے اعتراف میں تنگ دلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ابھی میٹرک کے امتحانات میں مدارس کے طلبہ نے ٹاپ پوزیشنیں لی ہیں مگر کیا کسی بھی اعلیٰ حکومتی شخصیت یا سرکاری ادارے کی جانب سے اس بات کو سراہا گیا ہے؟ اس کی بجائے الٹا مدارس کو کبھی رجسٹریشن کے نام پر کبھی کوائف طلبی کے نام پر کبھی کسی اور بہانے سے تنگ اور پریشان کرنے کا عمل تسلسل سے جاری رہتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کی آزادی و خود مختاری ، خود داری ، اور حریت فکر و عمل سب سے اہم ہے، ہم اسے دینی علوم کے تحفظ ، امت مسلمہ کی صحیح دینی رہنمائی ، اور علوم اسلامیہ کی اشاعت کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، ان شا اللہ اس سلسلہ میں ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں