مقدس سرزمین شام پرجہادیوں کی حکومت قائم ہونے کےبعد سوشل میڈیا پرایک مخصوص گروہ مختلف قسم کے پروپیگنڈے کر رہا ہے،سب سے زیادہ اس بات کا شور مچایا جا رہا ہے کہ شام میں مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ فسادات بڑھ گئے ہیں، حالانکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ مسلمان فرقوں کی باہمی لڑائی نہیں، بلکہ ظالم اور مظلوم کے درمیان حق و باطل کی لڑائی ہے ۔کوئی بھی مسلمان فرقہ دوسرے مسلمان فرقے پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑنہیں گراتاجو پچھلے 54 سالوں میں نصیریوں نے شام کے اہل سنت مسلمانوں پر گرائے۔ عجیب بات ہے جب تک اسدی خاندان عشروں تک مسلمانوں پر قیامت خیز مظالم ڈھاتا رہا،مخصوص گروہ اوراس کے خرکاروں کو کوئی تکلیف نہیں تھی، جیسے ہی بشارجیسا ظالم اوردرندہ صفت آمراپنے انجام تک پہنچا، اس مخصوص گروہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گئےاور وہ کہنے لگے کہ یہ انقلابی تو اسرائیل کے سہولت کار بن کر سامنے آئے ہیں حالانکہ معروضی حقیقت تو یہ ہےکہ بشارالاسد حکومت کا تختہ الٹتے ہی اسرائیل نےشام کے 300 اہم ترین مقامات پر بمباری کر کے شامی نیوی کے جہاز، جنگی طیارے، ایئر ڈیفنس سسٹم، ریڈار، سائنسی تحقیقی مرکز اور اسلحے کے گوداموں کو تباہ کر دیا۔
شامی فورسز کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی فضائیہ کے جنگی جہازوں نے کم از کم تین شامی فوجی ایئر بیسز کو نشانہ بنایاجہاں درجنوں ہیلی کاپٹرز اور جنگی طیارے موجود تھے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اسرائیل اپنے ہی لوگوں کی عسکری صلاحیت کو خودہی ملیامیٹ کر رہا ہے؟ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شام کےجہادی اسرائیل کو شام میں داخل ہونے کے لئےخود ہی بہانے فراہم کررہے ہیں ۔اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا بشار خاندان اور نصیریوں نے بھی مزاحمت نہ کر کے انقلابیوں کو خود ہی پورے شام پرحاوی ہونےکےمواقع فراہم کیے۔ یہ خاکساراس حوالے سے بہت کچھ لکھ سکتا ہے،لیکن سردست اسے یہیں پر موقوف کر کےشام کےقیدیوں پربشاری بدمعاشوں کی طرف سے ڈھائےجانےوالے بےانتہامظالم کی بات کرتے ہیں ۔ قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کے حالات اور واقعات جو ملک شام سے آرہے ہیں شائد اس سے پہلے کسی بھی ملک سے نہ آئے ہوں اور آئندہ بھی نہ آئیں۔صیدنایاکا ایک قیدی جس نےصیدنایا کےجہنم میں 4سال گزارے ’’نوری حمود السرای‘‘ رونگھٹے کھڑے کردینے والےحالات بتاتے ہیں کہ ’’یہ میری بیرک ہے، مجھے 6جولائی 2021ء کو یہاں لایاگیا اور رواں ماہ 8 دسمبر کو اللہ نے اپنے فضل سے رہائی عطا فرمائی۔ ورنہ مجھے 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی تھی۔ یہاں 4 دن بعد پانی ملتا تھا، اس لئے ہم اس پلاسٹک کی تھیلی میں محفوظ کرکےرکھتے تھے۔ ہم اکثر صلوٰۃ الاستستقاہ پڑھا کرتےتاکہ بارش ہو اور ہماری بیرک کے اس دروازے سے بارش کا پانی اندرداخل ہو اور بارش ہونے کے بعدجب پانی اندر آتا تو ہم اسے غنیمت سمجھ کر پی لیتے۔ اس طرح فرش پر منہ لگا کر۔ پھر اپنی چادروں کو اس میں بھگو کر رکھ دیتے اور پھر انہیں نچوڑ کر پیاس بجھاتے۔ ناشتے کے نام پر بس اتنا سا دودھ لایاجاتا۔ اس بیرک میں ہم 20 قیدی تھے۔ ان میں تقسیم کرتے تو آدھا چمچ ہر ایک کے حصے میں آتا۔ 4 سے 5 دن تک بھوکا رکھا جاتا۔ پھر کھانے کے لیے ٹماٹر لائےجاتے۔ 20 افراد کے لیے 5ٹماٹر۔ہم یہ ٹماٹر کاٹ کر تقسیم کرتے اور ہر ایک کےحصے میں ایک چھوٹا ساٹکڑا آتا۔ بس ہم اسےہی ’’لنچ’’سمجھتے۔ باہر لےجاتے ہوئے اس طرح جھکا کر چلاتے کہ فوجی کے بوٹ سے اوپر نظر پڑی تو بدترین تشدد ہوتا۔ میرے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں، جس پر بری طرح تشدد نہ ہوا ہو۔
لوگ ابو غریب اور گوانتانوبے کی باتیں کرتے ہیں۔ میں یہاں ہروقت روٹی کےلئےسوچتا تھا۔ اللہ کا کرم کہ اس نے ہمیں صبر کی توفیق بخشی۔ اگر تمام انس و جن جمع ہوجائیں تو وہ کسی کو نہ کوئی نقصان پہنچاسکتےہیں نہ نفع، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہفتے کی رات2 بجے ہم نےباہر آوازیں سنیں۔ ہم سخت گھبرا گئے۔اس طرح کی آوازیں ایک دن پہلےبھی سنی تھیں۔ پتہ چلاکہ اس دن حلب آزادہواتھا۔ ہم بہت خوش ہوئےاوردعائیں شروع کردیں کہ اللہ ہمارے لیےبھی رہائی کی کوئی سبیل بنادے۔ ویسےمجھے اللہ پرکامل یقین تھا کہ اسی سال کچھ نہ کچھ ہوجائےگا۔ بس اللہ نےہماری سن لی اورہمیں رہائی عطافرما دی۔ رات کوہم سوئےہوئے تھےکہ گولیوں کی آوازیں آئیں لیکن یہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ جہادی جیل تک پہنچ اوردرندےبھاگ چکےہیں۔ دروازے کےاِس سوراخ سےدیکھاتوبڑی تعدادمیں لوگ باہر جارہے ہیں۔ ہم نے معمول کےمطابق یہی سمجھاکہ انہیں قتل کےلئےلےجایاجارہاہےلیکن پھراللہ کےفضل سےجہادی ہماری بیرک تک بھی پہنچ گئے۔الحمدللہ انہوں نےدورازہ توڑااورہم نے تکبیرکےنعرے بلندکئے۔ان کی برکت سےہمیں نئی زندگی ملی۔ اللہ انہیں جزائےخیرعطافرمائے۔ اس قیدی کےعلاوہ شام کی جیلوں میں قیدیوں کےحوالےسےکئی دلخراش اورحیران کن باتیں سامنے آئی ہیں جن کوپڑھ کرکسی بھی انسان کےرونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے چند باتیں ہم نمبر وار پیش کرتے ہیں:
-1رہائی کے بعدقیدی کو معلوم ہوا،کہ موبائل فون بھی دنیامیں ایجادہوچکا ہے، (قید کی مدت 40 سال)-2 جب مجاہدین نےجیل کادروازہ کھول کرقیدیوں کو کہا چلو چلو تم آزاد ہو، تو قیدی نے پوچھا کہ کیا صدام حسین نے اسد خاندان کا خاتمہ کردیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ صدام حسین خوددنیامیں نہیں ہے(قید کی مدت 30 سال)-3کچھ قیدی ایسے تھےجو جیل میں ہی پیدا ہوئےاور انہوں نے سورج دھوپ،درخت، گھاس وغیرہ جیل سےرہائی کےبعدپہلی مرتبہ دیکھے( -4 (جیل میں ایسی درد ناک سزائیں دی گئیں، کہ قیدی مجنون اور پاگل ہوگئے، ان کو اپنا نام، شہر، اور علاقہ بھی معلوم نہیں ) -5 جیل میں کئی کئی دنوں اور ہفتوں تک پانی اور کھانا نہیں دیاجاتا تھا، بے تاب ہوکر قیدی پیشاب پینے پر مجبور ہو تے تھے -6 قیدیوں کے لیے جیل کے اندرنماز، روزہ، اور کوئی بھی عبادت ممنوع تھی-7 جیل کے اندر ہر وقت آگ کی بڑی بھٹی دہکتی رہتی تھی، جسے حافظ الاسد کی جہنم کہاجاتا تھا، اورجس قیدی کو اس میں جلانا ہوتاتھا تو کہا جاتا تھا،اسد کی جہنم میں خوش آمدید-8 جیل کے اندرایسی کلنگ مشین تھی، جس میں لاش کو دباکر خون اور ہڈیوں کو الگ الگ کرکے گٹھڑی میں باندھ کر گڑھے میں دبادیاجاتا تھا -9 قیدیوں کے دانت توڑدئیےجاتے تھے اور کرنٹ کے جھٹکے دئیےجاتےتھے-10 قیدیوں کے پیر توڑکر ان کو دوڑنے کےلئےکہاجاتاتھا،اور کھانے کے لئے مرے ہوئے چوہے دئیے جاتے تھے-11 ہر ہفتہ 20سے 50قید یوں کو پھانسی دی جاتی تھی، اور جس کو پھانسی دینی ہوتی اس کو رات بھر پیٹاجاتاتھا-12 جیل کے اندر نمک کی کان بنا رکھی تھی، قیدیوں کو زخمی کر کے نمک پرلٹایا جاتاتھا-13 ۔ایک قیدی کارہائی کے بعدکہنا ہے کہ آج میری اور میرے 50 ساتھیوں کی پھانسی کا دن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آج ہی مجاہدین کو فتح عطا فرمادی۔ بدنام زمانہ صیدنایا جیل اسد خاندان کا بنایا ہوا ایسا بوچڑخانہ ہے کہ جس کی دردناک المناک اور دلخراش داستان سن کر امریکہ کی گونتانامو بےجیل جنت لگتی ہے۔