Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

صدر زرداری اور اتحاد تنظیمات المدارس

پیر کی شام اتحاد تنظیمات المدارس پاکستان کی سپریم کونسل کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر جو قرار داد منظور ہوئی اس میں کہا گیا ہے کہ سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت ترمیمی سوسائٹیز رجسٹریشن بل مورخہ 20 – 21 اکتوبر 2024 ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر ارسال کر دیا گیا۔ مورخہ 28 اکتوبر 2024 ء کو صدر کی طرف سے ایک غلطی کی نشاندہی کی گئی ، قومی اسمبلی کے اسپیکر نے آئین اور قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گردانتے ہوئے اس کی تصحیح کر دی اور تصحیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 ء کو ایوان صدر ارسال کر دیا ، جسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا۔
بعد ازاں صدر کی طرف سے دس دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024ء کو نئے اعتراضات لگا دئیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مئوثر تھے، نیز ایک کے بعد دوبارہ اعتراض لگایا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ لہٰذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے، نیز اسپیکر نے علی الاعلان اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا اور دوسرا اعتراض آج تک انہیں نہیں ملا۔پس ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلا تاخیر اس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔
اس موقع پر مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم کوئی غیرآئینی مطالبہ نہیں کررہے مدارس ترمیمی بل پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے منظور ہوا اور اب آئینی شکل اختیار کر چکا ہے ، دینی مدارس ترمیمی بل کا گزٹ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے ، ہم اپنے موقف پر قائم ہیں ، ہمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے،16 دسمبر کو منعقد ہونے والے اتحاد تنظیمات مدارس کی سپریم کونسل کے جس اجلاس کو بڑا دھماکہ خیز قرار دیا جا رہا تھا علماء کرام نے متحمل مزاجی اور برد بارانہ انداز اختیار کر کے ’’دھماکے‘‘کا انتظار کرنے والوں کے انتظار کو مزید طویل کر دیا، دجالی میڈیا، لنڈے کے لبرلز اور الحادی دستر خوان کے راتب خور اکثر یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ مولوی کبھی اکٹھے نہیں ہوتے،مولوی فرقہ واریت پھیلاتے ہیں،لیکن 16 دسمبر کو تمام مسالک کے اکابر علماء نے اپنے اتحاد و اتفاق کے ذریعے ایک دفعہ پھر اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کر دیا اور موجودگی صورت حال چیخ چیخ کر اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ مولویوں میں انتشار اس وقت تک پیدا نہیں کیا جاسکتا جب تک حکومت نہ چاہے ،صدر آصف علی زرداری نے مدارس بل پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو گیا تو ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پابندیاں لگ سکتی ہیں،انا للہ واناالیہ راجعون ، صدرزرداری کا یہ اعتراض اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوڑنے کے لئے کافی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا صدر زرداری کا حکم صرف دینی مدارس اور پاکستان کے غریبوں ،مسکینوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور شدہ اور حکومت کے اپنے بنائے ہوے بل پر بھی ایف اے ٹی ایف اعتراض کر کے رکوا سکتا ہے تو پھر کہاں کی آزادی اور کہاں کی خود مختاری؟ ایف اے ٹی ایف کے خوف میں مبتلا صدر زرداری قوم کو بتائیں کہ آخر عالمی قوتوں اورعالمی مالیاتی اداروں کی کاغلامی میں پاکستان مزید کتنے ماہ و سال گزارے گا؟ اگر پارلیمنٹ کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتی ہے تو پھر اس کے منظور کردہ بل پر ایف اے ٹی ایف سمیت کسی یہودی ،صلیبی کو کیا حق ہے کہ وہ پاکستان پر اعتراض کرے؟ کیا پاکستان میں قانون سازی کے لئے پہلے ایف اے ٹی ایف کی خوشنودی حاصل کر نا ضروری ہے؟
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے اکابرین کے مطالبات پر کان دھریں،یہ ملک ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا ، اگر دونوں ایوانوں سے منظور شدہ مدارس بل ایکٹ بن چکا ہے تو پھر اس کی آئینی اور قانونی حیثیت کو کھلے عام اور شرح صدر کے ساتھ تسلیم کیا جائے ،اکابر علماء نے پیر کے دن انتہائی سنجیدگی اور فکرو تدبر کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے ، اس کے بعد اس حوالے سے جو بھی ہو گا اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں