Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

یومِ سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہAPS: ماضی کی تلخ یادیں

16دسمبر، پاکستان کی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور تلخ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس دن کو دو مختلف سانحات سے منسلک کیا جاتا ہے جو ایک طرف ملک کے عوام کے لئے یادگار کے طور پر ابھرے گا جس نے ان کے جذبات، غم و غصے اور قومی تشویش کو نیا رخ دیا، اور دوسری طرف یہ دن پاکستان کے سیاسی اور جغرافیائی تقدیر کو بدلنے کے حوالے سے یادگار ہے۔16 دسمبر 2014 ء کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والا سانحہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس سانحے میں دہشت گردوں نے اسکول میں داخل ہو کر 141 افراد، جن میں 132 بچے شامل تھے، کو بے دردی سے قتل کر دیا۔پشاور کے اس سکول پر ہونے والا حملہ ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں ایک طرف دہشت گردوں نے بے گناہ بچوں کی معصومیت کو نشانہ بنایا، وہیں دوسری طرف پاکستانی قوم کے اندر دہشت گردی کے خلاف ایک نیا عزم پیدا کیا۔ اسکول میں بچے پڑھائی کر رہے تھے، اور ان کے لئے یہ دن خوشی کا دن تھا، مگر دہشت گردوں نے نہ صرف ان کی زندگیوں کو اجیرن کیا بلکہ پورے پاکستان کو ایک گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔پشاور کے سانحے نے پاکستانی سیاستدانوں، فوجی حکام، اور عوام کو دہشت گردی کے خلاف مزید یکجہتی اور عزم کے ساتھ سامنے آنے کی ضرورت محسوس کرائی۔ پاکستان کے عوام اور حکومت نے اس حملے کو نہ صرف ایک انسانیت سوز واقعہ کے طور پر دیکھا، بلکہ اس کو دہشت گردی کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ حکومت پاکستان نے اس سانحے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لانے اور ان کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کا عزم کیا.پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر کا دن ایک اور سنگین واقعے کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے، 1971 ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کی علیحدگی۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکستان کے جغرافیائی حدوں کے ٹوٹنے کی نشاندہی کرتا ہے، بلکہ ایک ایسی سیاسی کشمکش کا نتیجہ تھا جس نے ملک کو ہمیشہ کے لئے دو حصوں میں تقسیم کر دیا.پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فرق محسوس کیا جا رہا تھا۔ مشرقی پاکستان، جو جغرافیائی طور پر مغربی پاکستان سے بہت دور تھا، اپنے حقوق کے لئے ہمیشہ آواز اٹھاتا رہا۔ بنگالی قومیت کی بنیاد پر مشرقی پاکستان کے لوگ اپنے آپ کو مغربی پاکستان کے حکمرانوں سے کمتر سمجھتے تھے۔ ان کے حقوق کو نظرانداز کیا جا رہا تھا، اور یہی وجوہات تھیں جن کی بنا پر مشرقی پاکستان میں عدم اطمینان بڑھ رہا تھا۔1970 ء میں ہونے والے انتخابات میں عوامی لیگ کی قیادت میں مشرقی پاکستان کے عوام نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمان نے مغربی پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور بنگالی قوم کے حقوق کی بات کی۔ اس کے باوجود مغربی پاکستان کی حکومت نے شیخ مجیب الرحمان کی جیت کو تسلیم نہیں کیا اور سیاسی بحران نے شدت اختیار کر لی۔ نتیجتاً 1971 ء میں پاکستان کی فوج نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ پورے ملک کی سیاست میں اضطراب اور کشمکش نے جنم لیا۔
16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان کی فوج کو مشرقی پاکستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اسی دن بنگلہ دیش نے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن گیا، جس نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی تقدیر کو بدل کر رکھ دیا بلکہ اس کے سماجی اور ثقافتی تانے بانے کو بھی شدید متاثر کیا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے اس سانحے نے پاکستانی عوام کو اندر سے توڑ دیا، اور ملک کے اتحاد کے حوالے سے ایک سوالیہ نشان چھوڑا۔16 دسمبر کو یومِ سقوطِ مشرقی پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ اس دن کے سانحے کو یاد کیا جا سکے، اور ساتھ ہی اس سے سیکھا جا سکے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستانی عوام میں احساسِ کمزوری اور اضطراب کی کیفیت رہی۔ پاکستان کے اندر مختلف طبقوں کے درمیان بے چینی اور اختلافات بڑھے، اور اس سانحے کے بعد اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی کہ قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔پاکستان میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے اس دن کو یاد کرتے ہوئے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا ہم نے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھا؟ کیا ہم نے وہ اسباب جاننے کی کوشش کی جو اس سانحے کا سبب بنے؟ اور کیا ہم نے اس سے کوئی سبق سیکھا؟سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کی سیاست اور سماج میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ اس واقعے کے بعد قومی سطح پر سوچنے کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ہمیں اپنے داخلی مسائل کو حل کرنا ہوگا اور ملک کی سیاست کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پاکستانی فوج اور حکومت نے اپنے دفاعی اور قومی سلامتی کے اداروں کو مزید مستحکم کیا۔آج جب ہم 16 دسمبر کے دن کو یاد کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف پشاور کے سانحے کے حوالے سے دکھ اور غم کا دن ہے بلکہ یہ سقوطِ مشرقی پاکستان کے المیے کی یاد بھی دلاتا ہے۔ دونوں واقعات نے پاکستانی قوم کو ایک الگ نوعیت کا درد دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وقت ہے کہ ہم اس درد سے سیکھ کر اپنی آئندہ کی پالیسیوں اور فیصلوں کو بہتر بنائیں۔پشاور سانحہ اور سقوطِ مشرقی پاکستان دونوں ہی ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہماری قومی یکجہتی، بھائی چارہ اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر استحکام ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے اختلافات کو اپنی طاقت میں بدل سکیں، تو نہ صرف ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ اپنے داخلی مسائل کو بھی حل کر سکتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں دونوں ہی سانحات نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان سانحات کو یاد رکھتے ہوئے ہم یہ عہد کر سکتے ہیں کہ ہم پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور متحد بنانے کے لئے اپنی پوری قوت کے ساتھ کام کریں گے۔یومِ سقوطِ مشرقی پاکستان اور پشاور سانحہ دونوں کی یادیں پاکستانی قوم کے لئے ایک سنگِ میل ہیں، جو ہمیں اپنی تاریخ سے سیکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس دن کو یاد رکھتے ہوئے ہم ایک نیا عہد کر سکتے ہیں، ایک عہد جو پاکستان کو دہشت گردی، سیاسی کشمکش اور سماجی عدم مساوات سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہو۔

یہ بھی پڑھیں