سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ نوے دنوں میں نہ کرنے پر موجودہ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے 21 مئی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درج مقدمے کا فیصلہ نوے دنوں میں سنانے کا حکم دیا تھا‘سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کے باوجود مذکورہ مقدمے کا فیصلہ تاحال نہ کئے جانے پر مرکزی جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کر دی‘ مذکورہ پٹیشن میں موجودہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر ظہور احمد ہکڑو اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر عبدالرزاق میمن کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ’’سپریم کورٹ نے 21 مئی کو اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کو گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درج مقدمے کا فیصلہ نوے دنوں میں کرنے اور مذکورہ مقدمے میں غیر ضروری التوا نہ دینے کا واضح حکم دیا تھا‘سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد نوے دنوں کے اندر مذکورہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کے بجائے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر عبدالرزاق میمن سپریم کورٹ کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے مذکورہ مقدمے میں نامزد ملزم کو غیر ضروری التوا دیتے رہے اور عدالت عظمی کی جانب سے مذکورہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے دی گئی نوے دنوں کی مدت مکمل ہونے سے آثھ دن قبل اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے‘ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد موجودہ سیشن جج ملیر ظہور احمد ہکڑو بھی سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے مسلسل مذکورہ مقدمے میں نامزد ملزم کو غیر ضروری التوا دے کر مذکورہ مقدمے کو طول دے رہے ہیں۔موجودہ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے انحراف اور اسے نظر انداز کرکے سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔
پٹیشن میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری برابر جبکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کے تحت پاکستان کے تمام شہریوں بشمول فی الوقت پاکستان میں رہنے والے غیر ملکیوں پر بھی پاکستان کے آئین و قانون کی پاسداری کرنا لازم ہے‘ کوئی عام شہری ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے ذرہ برابر بھی انحراف کرے تو وہ قانون کے مطابق نتائج کو بھگتا ہے لیکن آج تک ایسی کوئی مثال پٹیشنر کے سامنے موجود نہیں کہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے انحراف کرنے یا اسے نظر انداز کرنے پر ماتحت عدلیہ کے کسی جج کے خلاف بھی قانون کے مطابق کوئی کارروائی کی گئی ہو‘ یہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے‘ اور اسے نظر انداز کرنے پر موجودہ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرکے ایک اچھی مثال قائم کر سکتی ہے‘ آئین،قانون اور انصاف کا بھی تقاضہ ہے کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔
پٹیشن میں موجودہ اور سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے اور عدالت عظمی کے 21 مئی کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی استدعا کی گء ہے۔” ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحفظ کے لئے قانون کا سہارا لینا انتہائی خوش آئیند ہے،وگرنہ جب کوئی گستاخ رسول عوام کے ہتھے چڑھ جائے تو پھر عوام اسکی جو درگت بناتے ہیں اسے دیکھ کر لنڈے کے لبرلز اور حکمران اور دانشور چییخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ’’ہجوم‘‘نہیں ’’قانون‘‘،سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی مندرجہ بالا پٹیشن ہر صاحب بصیرت کو یہ بات سمجھا رہی ہے کہ مقدس ترین شخصیات کی ناموس کے تحفظ کے لئے ’’ہجوم‘‘کی بجائے قانون سے مدد مانگنے والے بھی عدالتوں میں ’’رل‘‘ رہے ہیں،افسوس صد افسوس کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والے ملک کے سرکاری محکموں میں بھی گستاخوں کے سہولت کار موجود ہیں،کون نہیں جانتا کہ سوشل میڈیا پر ہمارے اداروں بالخصوص فوج کے خلاف پروپیگنڈے کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش پائی جاتی ہے ،اسی سوشل میڈیا پر اگر مقدس ترین شخصیات کی گستاخیاں کرنے والے ملعونوں کو ایف آئی اے تمام ثبوتوں سمیت گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کرے،اور آگے ادارے میں گھسی ہوئی بعض بد روحیں گستاخوں کی سہولت کار بن کر قانون سے کھلواڑ شروع کر دیں‘ تو ان بد روحوں کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ قانون کی بالادستی کا تصور متاثر ہوتا ہے،بلکہ ’’قانون‘‘کی بجائے ’’ہجوم ‘‘ کا نعرہ بھی رواج پاتاہے،ہمیں ہر قیمت پر ہجوم کی بجائے قانون کی بالادستی کے تصور کا سکہ قائم کرنا ہے،اور وہ تبھی ممکن ہو گا کہ جب سرکاری اداروں کو گستاخوں کے سہولت کاروں سے پاک کیا جائے گا۔