Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کا واضح موقف

آج کل مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ ہاٹ ایشو بنا دیا گیا ہے،ایوانوں سے لے کر میڈیا کے بالا خانوں تک دینی مدارس زیر بحث ہیں، اس حوالے سے وفاق المدارس اور اتحاد تنظیمات المدارس کے سربراہ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بڑے عام فہم انداز میں سیر حاصل گفتگو کی،جسے مینارہ نور کی زینت اس نیت سے بنا رہا ہوں کہ شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں ان کی بات ، مفتی تقی عثمانی کہتے ہیں کہ ’’آج کل عام لوگوں کے ذہنوں کو مشوش کرنے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ حکومت تو یہ چاہ رہی ہے کہ مدارس چونکہ تعلیمی ادارے ہیں لہٰذا انہیں وزارت تعلیم کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے ، اور اہل مدارس یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہونا ہے، جبکہ سوسائٹیز ایکٹ تو وزارت صنعت و تجارت سے تعلق رکھتا ہے یا وزارت داخلہ سے تعلق رکھتا ہے-لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ ہم وزارت تعلیم کی بجائے سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کیوں رجسٹریشن پسند کرتے ہیں؟اولا یہ سمجھنا چاہئیے کہ سوسائٹیز ایکٹ کیا چیز ہے؟ سوسائٹیز ایکٹ در حقیقت ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت آپ کوئی ایسی سوسائٹی یا پرائیویٹ ادارہ بنا سکتے ہیں،یعنی آپ کو کوئی بھی ادارہ بنانا ہو، کوئی بھی تعلیم دینی ہو، کوئی رفاہی کام کرنا ہو، اپنا تربیتی ادارہ قائم کرنا ہو، پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کرنی ہو، یہاں تک کہ کوئی آرٹس کونسل قائم کرنی ہو تو وہ سارے کے سارے پرائیویٹ ادارے اس سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہوتے چلے آرہے ہیں ،جس کا حاصل یہ ہے کہ سوسائٹیز ایکٹ پرائیویٹ اداروں کو رجسٹرڈ کرنے کا ایک ڈاکخانہ ہے کہ جس کے ذریعے پرائیویٹ ادارے ایک قانونی حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اب وہ پرائیویٹ ادارے اپنے نظام کے تحت چلتے ہیں، ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، ان کے عہدے دار یا مجلس منتظمہ کے لوگ ہی اس کے تمام امور کے نگران ہوتے ہیں، ان کو مکمل اختیار ہوتا ہے کہ اپنی بنائی ہوئی سوسائٹی کے اندر جو نظم قائم کریں، کر سکتے ہیں، صرف اتنا ہے کہ وہ رجسٹرڈ ہوجاتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا وجود قانونی طور پر تسلیم کرلیا جاتا ہے، لیکن اپنے اندرونی معاملات میں وہ بالکل خود مختار آزاد ہوتے ہیں، انہیں یہ باور کرانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم خود مختار ہیں، بلکہ جوں ہی اس میں رجسٹرڈ ہوئے، تو اس رجسٹریشن کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے نظام کے تحت اپنے ادارے کو چلانے کے لیے خود مختار ہیں۔
دوسری طرف وزارت تعلیم حکومت کا ایک ادارہ ہے اور حکومت کے ادارے کی حیثیت سے وہ اپنے سارے تعلیمی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، اس کے ماتحت یونیورسٹیاں بھی آتی ہیں، اس میں وہ کالج، سکول بھی آتے ہیں جو سرکار کے تحت قائم ہو رہے ہیں، یہ سب وزارت تعلیم کے نظام کے پابند ہوجاتے ہیں،۔سادہ لفظوں میں یہ فرق ہے کہ اگر سوسائٹیز ایک کے تحت کوئی ادارہ رجسٹرڈ ہے وہ پرائیویٹ ہے اور اس کو اپنا نظام چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے اور اگر کوئی کسی وزارت تعلیم کے تحت وزارت کا حصہ بن گیا تو اس وزارت کے نظام کے اندر وہ آگیا۔ ہمارے مدارس کی بنیاد حضرت نانوتوی ؒ کے وقت سے ہی اس بات پر ہے کہ یہ پرائیویٹ ادارے ہیں، ان کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں حکومت سے نہ کوئی امداد چاہیئے، نہ ہی حکومت کی مداخلت برداشت ہے، ہم اپنے اکابر سے چلے آ رہے طریقہ کے تحت، اپنی خود مختاری سے چلنا چاہتے ہیں، کسی ایسے ادارے کو اپنے اوپر مسلط نہیں کرنا چاہتے جو ہمارے اندرونی نظام میں دخل اندازی کرے، جو ہمارے طریقہ کار میں مداخلت کرے، جو کسی طرح بھی ہمارے مقاصد پر اثرانداز ہو،مدرسہ کو ہم اس سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں اور یہ آزادی ہمیں سوسائٹی ایکٹ کے تحت ملتی ہے، کیونکہ وہ پرائیویٹ ہے اس میں سارے ادارے پرائیویٹ ہیں،بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں اس لئے کہ وہ پرائیویٹ ہیں، اور پرائیویٹ طریقے سے اپنے نظام کے تحت چلنا چاہتے ہیں۔
ہمیں اس بات پر اس لئے اصرار ہے کہ وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک نہیں ہونا اور میری تو اول روز سے یہی رائے ہے ۔ وزارت تعلیم کے متعلق اس سے قبل ہم نے انتہائی دبائو کے حالات میں (ایک مفاہمتی یادداشت میں)اتنی سی بات تسلیم کی تھی کہ ٹھیک ہے، ہمارا ڈاکخانہ بدل جائے اور وزارت تعلیم کی طرف چلا جائے، لیکن جس اندیشہ کی بنا پر ہم وزارت تعلیم میں جانے سے پرہیز کررہے تھے، وہ اسی وقت حقیقت بن کر سامنے آگیا ، جب ہمارے ساتھ مذاکرات میں ایک مفاہمتی یادداشت تیار ہوئی،جسے آج معاہدہ کا نام دیا جارہا ہے، وہ درحقیقت اصطلاحی اعتبار سے ایم او یو ہے،(یہ محض)مفاہمتی یادداشت ہوتی ہے، قانونی اعتبار سے اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا،اس کا مطلب صرف یہی ہوتا ہے کہ ابھی بات چل رہی ہے اس کے اندر کچھ چیزوں پر مفاہمت ہوئی ہے۔ اس مفاہمت کا ایک حصہ یہ تھا کہ ہمارے بینک اکائونٹ کھلیں گے، ہم خود مختار آزاد رہیں گے، ہمارے غیر ملکی طلباء کو ویزے ملیں گے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں