Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کا واضح موقف

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس میں یہ بھی تھا کہ جب تک اس پر پوری طرح عمل نہیں ہوجاتا، سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کو مدارس رجسٹرڈ ہورہے ہیں وہ اپنی جگہ رجسٹرڈ ہوتے چلے جائیں گے، یہ ابھی مفاہمتی یادداشت کے مرحلہ میں ہی تھی، کہ ایک ارب روپے کا بجٹ بنا کر ایک ڈائریکٹریٹ قائم کردی گئی، جس کو ایک سابق ملٹری میجر جنرل کے ماتحت کر دیا گیا اور اس کے لئے مختلف جگہوں پر دفاتر قائم کرنا شروع کردئیے گئے، اور اس میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ مدارس اپنے نظام میں آزاد اور خود مختار رہیں گے، لیکن آخر میں یہ بھی لکھا کہ وقتاً فوقتاًوزارت تعلیم کی طرف سے جو ہدایات آئیں گی مدارس اس کے پابند ہوں گے۔اس مرحلہ پر ہمیں اپنے اندیشے حقیقت بن کر سامنے نظر آنے لگے۔ہم یہ بات واضح کہہ دینا چاہتے ہیں کہ کسی حکومت کے ماتحت ہو کر ہم اپنے نصاب و نظام کو جاری نہیں رکھ سکتے، ایسا کرنا ہمارے لئے زہر قاتل ہے، ہم نے ایسا کرنے والوں کے انجام دیکھے ہیں، ہم نے سعودی عرب دیکھا، ہم نے امارات دیکھا، مصر دیکھا ہے، ہم نے شام دیکھا ہے کہ ان ممالک میں مدارس کو کس طریقے سے ختم کیا گیا۔
پاکستان کو درحقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کا قلعہ بنایا ہے، ہم یہاں یہ صورت حال کسی قیمت برداشت نہیں کرسکتے کہ ہمارے مدارس اور ہمارے علماء اس طرح ہوجائیں کہ ان کے سامنے کچھ بھی ہوتا رہے، وہ اپنی زبانوں کو بند رکھیں اور شیطان اخرس بن کر زندگی گزاریں۔ ابھی اگر چہ اس(مفاہمتی یادداشت)میں لکھا ہوا ہے کہ اپنے نظام میں آزاد و خود مختار رہیں گے، لیکن اس کے باوجود ایک مرتبہ جب اس دائرے کے اندر آگئے جبکہ اس میں یہ جملے بھی موجود ہیں کہ وزارت تعلیم کی طرف سے وقتاً فوقتاً ملنے والی ہدایات کے پابند ہوں گے، تو اب آپ دیکھئے آج کسی کی حکومت ہے، کل کسی اور کی حکومت ہوگی – وہ لوگ بھی حکومت میں وزارت تعلیم کے اندر آئیں گے، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ مدارس جہالت کی یونیورسٹیاں ہیں(وہ لوگ بھی حکومت میں آپ سکتے ہیں)جنہوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مدارس تو صرف یہ سکھاتے ہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا تو یہ مدارس موجودہ زندگی کے ساتھ کیسے چل سکتے ہیں،تو ایسے لوگ بھی تعلیم کے نظام کے اندر آ سکتے ہیں۔کل کو کون آتا ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا، لہٰذا مدارس کو اس دائرے کے اندر لانے کے ہم بالکل سختی کے ساتھ مخالف ہیں، چونکہ سوسائٹیز ایکٹ پرائیویٹ اداروں کا قانون ہے، اس واسطے ہم پرائیویٹ اداروں کے طور پر اپنا کام کرنا چاہتے ہیں، جس میں ہمارے کام میں کوئی مداخلت نہ ہو۔
ہم خود الحمدللہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیں، وفاق المدارس پوری طرح باخبر ہے، اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ ہمارے علماء کو موجودہ دور میں اپنا پیغام بہتر طریقے سے پیش کرنے کے لیے کن معلومات کی ضرورت ہے؟ ہم اپنے مدارس میں وہ معلومات پڑھانا چاہتے ہیں،ہم(یہ جدید معلومات اس الزام کو دور کرنے) کے لیے نہیں پڑھا رہے، جو ساری دنیا یہ نا معقول بات کہہ کر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ مدارس سے ڈاکٹر کیوں پیدا نہیں ہوتے، اس سے لایر کیوں نہیں پیدا ہوتے، انجینئر کیوں نہیں نکلتے، مدارس کے فضلا کسی ملٹری کے اندر کمیشن کیوں نہیں لیتے اور اس بات کو بڑے فخر سے بیان کیا جاتا ہے کہ فلاں مدرسہ کے لوگ کمیشن لے چکے ہیں، وہ بریگیڈیئر بن چکے ہیں( تو سب مدارس ایسا کیوں نہیں کرتے) ارے بھائی!یہ مدرسہ بریگیڈیر اور کرنل پیدا کرنے لیے نہیں تھا، قرآن و سنت کا علم محفوظ کرنے لیے تھا، یہ عالم پیدا کرنے کے لیے تھا، یہ بتا ئوکہ پورے پاکستان میں کون سے سرکاری ادارے میں اسلام کی تعلیم دی جارہی ہے؟ کون سے سرکاری ادارہ میں حافظ پیدا ہو رہے ہیں؟اس ملک کی کسی مسجد میں کبھی یہ اعلان نہیں سناگیاہوگا کہ ہمارے ہاں تراویح پڑھانے کے لئے حافظ نہیں ہے (ہمارے ملک میں الحمدللہ،) حافظ زیادہ ہیں،مسجدیں کم ہیں،یہ حافظ کہاں پیدا ہورہے ہیں؟جو حفاظ قران کریم کی خدمت انجام دیرہے ہیں،تراویح پڑھانے کے لئے موجود ہیں یہ کہاں سے آرہے ہیں؟ کسی کالج سے ؟ کسی یونیورسٹی سے؟ کسی انسٹی ٹیوٹ سے ؟ (نہیں) یہی مدارس ہی ہیں جو یہ سب پیدا کررہے ہیں، کوئی آدمی یہ بتائے کہ کیا اس معاشرے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی دینی مسئلہ پیش آجائے تو اس کا جواب دینے والاکوئی موجود ہو؟
آج یہ ساری دنیا دیکھ لے کہ اگر کسی مسلمان کو کوئی نکاح طلاق کا مسئلہ پوچھنا ہو، بیع و شرا کا مسئلہ معلوم کرنا ہو،نماز اور روزے کا پوچھنا ہو تو وہ کیا کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کے پاس جاتے ہیں، اس کے پاس جاتے ہیں جس نے اسلامک سٹڈیز کی ڈگری لے رکھی ہو؟ کیا کسی ایسی یونیورسٹی یا کسی پروفیسر کے پاس جاتے ہیں؟ جو اسلامک سٹڈیز پڑھا رہا ہے؟وہ اگر جاتے ہیں تو ان لوگوں کے پاس جاتے ہیں جن کے پاس قرآن و حدیث، فقہ، اصول فقہ کا پورا علم ہے۔کیوں جاتے ہیں ؟اس لئے کہ یہ جانتے ہیں کی صحیح علم ان کے پاس ہے، انہیں دین صحیح طریقے سے آتا ہے۔یہ سارا کام مدارس اس لئے کررہے ہیں اور اس طرح کررہے ہیں کہ ہم کسی کے تسلط کے روادار نہیں ہیں، ہم وہ بات کہیں گے جو قرآن کہتا ہے، ہم وہ بات کہیں گے، جو حدیث کہتی ہے، ہم وہ بات کہیں گے جو ہمارا دین کہتا ہے، اس وجہ سے ہم کوئی مداخلت کسی قیمت برداشت نہیں کرسکتے اگر کریں گے تو ہم تو ہم اپنے فرض منصبی میں زبردست کوتاہی کے مرتکب ہوں گے، ہم نے اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جو عہد کیا ہے، اس سے غداری کے مرتکب ہوں گے۔
سوسائٹیز ایکٹ میں ہم پرائیویٹ طریقے پر کام کررہے ہیں، اس کا صنعت و تجارت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کا تعلق ایک سوسائٹی سے ہے، یہ سوسائٹی کچھ بھی کرسکتی ہے، جس طرح ایک ٹرسٹ ہوتا ہے، وہ ٹرسٹ جو چاہے کرسکتا ہے، اسی طرح سوسائٹیز ایکٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہوکر ایک سوسائٹی بنتی ہے اور وہ سوسائٹی اپنے نظام کے مطابق جو چاہے کرسکتی ہے اور وزارت تعلیم میں جائیں گے تو ہم سرکار کے ماتحت ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں