Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی بھارت کے لئے پریشانی

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے 15سالہ آمرانہ دور کے خاتمے کے بعد بننے والی عبوری حکومت کی نئی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو بنیادی اہمیت دینے کے فیصلے نے بھارت کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ طلبہ کے احتجاج کے بعد شیخ حسینہ واجد اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھارت فرار ہوگئی تھیں اور بنگلہ دیش کے امور نئی عبوری حکومت چلا رہی ہے جس نے پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔بنگلا دیش کی نئی خارجہ پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں بھارت کے لیے تشویش ناک ثابت ہورہی ہیں۔ان تبدیلیوں کے بعد سے بھارت بنگلا دیش کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے متعدد خفیہ حربے استعمال کررہا ہے۔ بھارت میں بنگلا دیشی قونصلیٹ پر حملے کے بعددونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔مودی سرکارکا گودی میڈیا گمراہ کن معلومات کے ذریعے بنگلا دیش کو غیر مستحکم کرنے کی سازش میں مصروف ہے۔
دوسری جانب چٹاگانگ میں پاکستانی کارگو جہاز کی آمد اور پاکستانی درآمدات کے لیے کسٹم کے معائنے میں نرمی دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کا اشارہ ہے۔بنگلا دیش اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی بھارت کے لیے گہرے خدشات کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان کی نفرت میں اور مودی کے سائے تلے شیخ حسینہ نے اپنی ہی عوام پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے بھارت سے ٹیلی کام کا وسیع البنیاد معاہدہ بھی منسوخ کرنے کا حکم دیاہے۔بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان غیر قانونی امیگریشن، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور پانی کی تقسیم کے معاہدوں جیسے مسائل پر بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔بنگلا دیش میں بڑھتے ہوئے بھارت مخالف جذبات کی وجہ سے صورتحال اب مزید خراب ہو چکی ہے۔ بھارت، بنگلا دیش پر دوبارہ اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے مظاہروں اور میڈیا کا سہارا لے رہا ہے۔بنگلا دیش کے عوام نے اپنی آزادی کا گلا گھونٹنے والی شیخ حسینہ کو ملک سے نکال کر بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔ سفارت کاری اور سیاست کے محاذ پر پنپتے ہوئے تنائو کے تحت بنگلا دیش نے اب بھارت سے دور ہٹنا شروع کردیا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے دور میں بنگلا دیش کی حیثیت بھارت کے بغل بچے کی سی تھی مگر اب ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں بنگلا دیش کی عبوری حکومت دن رات ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کا بنیادی مقصد بنگلا دیش پر بھارت کی چھاپ کو کم کرتے کرتے مٹانا ہے۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ نے حکم دیا ہے کہ بھارت سے ٹیلی کام کا وہ وسیع البنیاد معاہدہ منسوخ کردیا جائے جس کا تعلق انٹرنیٹ کی خدمات سے ہے۔اس معاہدے کے تحت بھارت کو اپنی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے انٹرنیٹ براڈ بینڈ سروس بہتر بنانے کی خاطر بنگلا دیش کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر بروئے کار لانا تھا۔بھارت کے میڈیا آئوٹ لیٹ لائیو ہندوستان نے یکم دسمبر کو اطلاع دی تھی کہ بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے ٹیلی کام کا یہ معاہدہ ختم کرنے کے لیے بی ٹی آر سی کو ہدایات دی ہیں۔بنگلا دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سابق حکومت نے کیا تھا اور تمام حالات کو ذہن نشین نہیں رکھا گیا تھا۔ اب اندازہ ہو رہا ہے کہ اس معاہدے سے بنگلا دیش کو کچھ فائدہ پہنچنے والا نہیں۔گزشتہ برس بنگلا دیش کی دو کمپنیوں سمِٹ کیمونی کیشنز اور فائبر ایٹ ہوم کی طرف سے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے سنگاپور سے آنے والے کیبلز کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کی تجاویز سامنے آنے پر بنگلا دیش ٹیلی کمیونی کیشن ریگیولیٹری کمیشن(بی ٹی آر سی))نے ٹیلی کام کی وزارت سے رابطہ کیا تھا۔ پورے خطے میں انٹرنیٹ کی خدمات بہتر بنانے کے حوالے سے بھارت کے ٹیلی کام ادارے بھارتی انٹیل سے اکھوڑا بارڈر کے ذریعے اشتراکِ عمل کیا جانا تھا۔بی ٹی آر سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدے سے بنگلا دیش کے لیے کوئی معاشی فائدہ دکھائی نہیں دیا جبکہ بھارت کے لیے اس میں غیر معمولی سہولت تھی۔
بھارتی میڈیا نے واویلا مچانا شروع کردیا ہے کہ اس اہم فیصلے کی پشت پر معاشی وجوہ نہیں بلکہ سیاسی تنائو اور دبائو ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کی عبوری حکومت انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور ان کی فرمائش پر ایسے فیصلے کر رہی ہے جن کا بنیادی مقصد بنگلا دیش کو بھارت سے دور کرنا ہے۔ بھارت کی جانب سے بنگلا دیش میں ہندئووں پر انسانیت سوز مظالم کے جھوٹے پروپیگنڈے نے بنگلا دیش میں بھارت مخالف جذبات مزید بھڑکادیئے ہیں۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت عالمی برادری کو باور کرارہی ہے کہ بنگلا دیش مذہبی بنیاد پر انتہا پسند ریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔بنگلا دیش کی فوج نے بھارت سے ملنے والی سرحد پر ترکیہ سے خریدے ہوئے جدید ترین ڈرون تعینات کردیئے ہیں۔ بھارتی فوج نے اس اقدام کے جواب میں ہائی الرٹ کا اعلان کیا ہے۔ نئی دہلی نے بنگلا دیشی بارڈ سیکیورٹی فورس کے اقدام پر واویلا مچاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی سلامتی خطرے میں ڈالی جارہی ہے۔بنگلا دیش نے ترکیہ سے حال ہی میں خریدے ہوئے بیریکٹر ٹی بی ٹو انمینڈ ایریل وہیکلز (یو اے ویز) بھارتی سرحد کے نزدیک تعینات کیے ہیں۔ یہ ڈرون چھوٹے پیمانے کے حملوں کے لیے عمدگی سے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بھی سرحدی نگرانی بڑھارہی ہے۔ بنگلا دیش نے جدید ترین لڑاکا ڈرونز بھارتی ریاست مغربی بنگال کے نزدیک تعینات کیے ہیں۔ بھارتی خفیہ اداروں کا الزام ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بھارتی سرحد سے ملحق علاقوں میں مشکوک سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔بھارتی فوج نے کہا ہے کہ سرحد کے نزدیک جدید ترین ڈرونز کی تعیناتی پریشان کن ہے۔ بنگلا دیش کی بارڈر سیکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون صرف دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے نگرانی، خفیہ سرگرمی یا ڈھکی چھپی کارروائیوں کے حوالے سے ظاہر کی جانے والی تشویش بے بنیاد ہے۔مودی سرکار الزام عائد کرتی رہی ہے کہ بنگلا دیش میں سیاسی عدمِ استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر بھارت میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی قیادت یہ الزام بھی عائد کرتی رہی ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں جو مسلم انتہا پسند قابو میں تھے وہ اب بے لگام ہوکر ملک کو شدت پسند مسلم ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں